نائب تحصیلداروں کی تقرری کے حوالے سے نئی پالیسی،ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کے انتظامی کام بری طرح متاثر

نائب تحصیلداروں کی تقرری کے حوالے سے نئی پالیسی،ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کے انتظامی ...

لاہور (عامر بٹ سے ) حکومت پنجاب کی جانب سے محکمہ ریونیو میں نائب تحصیلداروں کی تقرری کے حوالے سے اپنائی جانے والی نئی پالیسی نے محکمہ ریونیو میں ڈسٹرکٹ مینجمنٹ سے وابستہ انتظامی کاموں کو جہاں بری طرح متاثر کیا ہے وہاں دوسرے اضلاع سے آنیوالے ریونیو آفیسروں کی آبائی علاقہ جات سے رخصت ہونے کی وجہ سے ان کے گھروں کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا نئی پالیسی کے مطابق اب کوئی بھی ریونیو آفیسر اپنے آبائی علاقہ میں تعینات نہیں ہو گا حالانکہ صوبائی حکومت کی ایک اور پالیسی کے مطابق تمام تر سرکاری محکموں میں یہ پالیسی رائج ہے اور باقاعدہ پنجاب اسمبلی نے ہوم ڈسٹرکٹ میں سرکاری ملازمین کو دوسرے اضلاع میں تبدیل کرنے سے سے بری الذمہ کرتے ہوئے منظوری بھی دی ہوئی ہے جس کے مطابق جس آفیسر ڈومی سائل جس ضلع کا ہو گا اس کو اسی ضلع میں تعینات کیا جائے گا تا کہ علاقائی سطح پر محکموں کے مرتب کردہ قوانین کے مطابق درست سمت میں کارروائی عمل میں لائی جا سکے تا ہم اپنے ہی بنائے ہوئے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ 2 ماہ قبل کو چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے تحت تمام ریونیو آفیسر کو ان کے ہوم اضلاع سے ضلع بدر کر دیا گیا اور اس ضمن میں یہ تاثر عام کیا گیا کہ ہوم ڈسٹرکٹ میں رہنے والے ریونیو افسران ہی کرپشن اور بدعنوانی کی بنیادی وجہ تھے جن کے تبادلوں کے بعد اب اس میں نمایاں کمی واقع ہو گی تاہم چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے کئے جانے والے ان اقدامات کے باعث انتظامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کی سیٹوں پر تعینات افسران کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی بڑی وجہ ایک طرف تو ریونیو آبیانہ معاملے کی ریکوری بھی مطلوبہ ٹارگٹ کے مطابق اکٹھی نہیں کی جا سکی ہے تو دوسری جانب ضلع لاہور سمیت دیگر مختلف اضلاع میں تعینات کئے جانے والے ریونیو افسران کو نئے ملنے والے ریونیو ریکارڈ میں ناواقفیت اور اصل زمینی حقائق سے آگاہی نہ ہونے کے باعث روٹین کے کاموں کو بھی تاخیری کا شکار کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ بعض ریونیو افسران کو ابھی تک علاقہ جات کے راستوں کا علم نہ ہونے کے باعث بھی جہاں پریشانی سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے وہاں رہائش کے مناسب انتظامات نہ ہونے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ریونیو افسران کو حکومت سے ملنے والی تنخواہ سفری الاﺅنس اور کرایہ جات میں خرچ ہونے لگی ہے اور ان تبادلوں کی وجہ سے سب سے زیادہ ضلع لاہور کے افسران کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہاں پر تعینات ہونے والے ریونیو افسران مکمل طور پر پٹواریوں کے رحم و کرم پر اپنی نوکری کرنے پر مجبور ہو چکے ہییں ریونیو کے ایک حلقے کی رائے ہے کہ جو افسر اپنے حلقے میں تعینات ہوتا ہے اسے نہ صرف زمینی حقائق کے حوالے سے تمام معلومات ہوتی ہیں بلکہ یونیو ریکارڈ کی چھان بین اور ریونیو ریکارڈ میں پائی جانے والی غلطیوں کی درستگی کے دوران وہ ذہنی طور پر اپنی قانونگوئی کے تمام موضع جات کے ریکارڈ کی تفصیلات ریکارڈ دیکھے بغیر ذہنی طور پر بھی اپنے افسران کو کر سکتا ہے اور کسی بھی متانزعہ جائیداد کے حوالے سے بھی اس کو مکمل آگاہی حاصل ہوتی ہے مگر نئے آنیوالے ریونیو افسران کو ضلع لاہور میں متنازعہ جائیدادوں کے حوالے سے اپ گریڈ نہ ہونے کے باعث عدالتوں میں ریکارڈ پیش کرتے وقت شدید دشواری کا سامان کرنا پڑ رہا ہے جبکہ درجنوں مرتبہ ریکارڈ کے حوالے سے مکمل آگاہی بر وقت نہ دینے پر کمرہ عدالتوں میں جھاڑیں اور ڈانٹ ڈپٹ بھی ریونیو افسران کا مقدر بن چکی ہے عوامی اکثریت کے ایک حلقے نے بھی ہوم ڈسٹرکٹ سے تبدیل ہو کر نئے آنیوالے ریونیو افسران کی تعیناتی کے عمل کو ناپسندیدہ عمل اور لوٹ مار کے نئے موقع جات فراہم کرنے کا عمل قرار دیا ہے ضلع لاہور میں شہریوں کی ایک قابل ذکر تعداد کا کہنا ہے کہ دوسرے اضلاع سے آنیوالے ریونیو افسران زیادہ لوٹ مار اور مار دھاڑ کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسرے اضلاع سے آئے ہیں اور اپنی چند عرصہ کی تعیناتی کے دوران وہ جلد از جلد امیر ہونے کی کوشیشیں کر رہے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1