4667دیسی آرتھو پیڈک سرجنز انسانی ہڈیوں سے کھیلنے میں مصروف کوئی پوچھنے والا نہیں

4667دیسی آرتھو پیڈک سرجنز انسانی ہڈیوں سے کھیلنے میں مصروف کوئی پوچھنے والا ...

لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں ہڈی جوڑ کے نام پر دیسی آرتھوپیڈ سرجنوں نے جابجا دکانیں سجا لیں جنہیں کلینکس کا نام دے دیا گیا ہے اور باقاعدہ طور پر درجنوں ان پڑھ اور دیسی آرتھوپیڈ پہلوانوں نے لوگوں کی ہڈیوں کو درست کرنے کے نام پر سادہ لوح مریضوں کی ہڈیاں توڑنے اور اعضاءہمیشہ کے لئے مفلوج کرنے کے لئے ”شکار“ گاہیں سجا رکھی ہیں۔ جن کے خلاف محکمہ صحت نے چپ سادھ رکھی ہے جہاں تک کے ان جعلی اور دیسی آرتھوپیڈک سرجنوں نے شہر میں مختلف مقامات پر ہڈی جوڑ کے ہسپتال بھی قائم کر لئے ہیں اور خود آرتھو سرجن بن کے بیٹھ گئے ہیں۔ ان کے مراکز صدر کینٹ، شاہدرہ، بھاٹی ،لوہاری، اندرون شہر ٹوکے والا چوک ،شادمان، بند روڈ، جوڑے پل، ملتان روڈ، شیزان فیکٹری، جلو موڑ، والٹن روڈ، بالمقابل جنرل ہسپتال بیرون اور اندرون لوہاری ،بھاٹی گیٹ، موچی گیٹ، شیرانوالہ گیٹ، یکی گیٹ، باغبانپورہ، جی ٹی روڈ، شالا مار ،داروغہ والا ،بند روڈ سمیت شہر میں 4 ہزار667 پہلوانوں نے ”دیسی“ آرتھو پیڈکس سرجن بن کر سادہ لوح مریضوں کی ہڈیوں سے کھیلنا شروع کر رکھا ہے۔ یہ فہرست محکمہ صحت لاہور کے پاس موجود ہے مگر ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں خانہ پری کے لئے کبھی کبھار محکمہ صحت لاہور کے ڈرگ انسپکٹر کارروائی ڈالتے ہیں مگر ان کے کلینکس مسلسل چل رہے ہیں داتا دربار ،پیر مکی کے قریب موجود ہیں اس طرح ریلوے اسٹیشن کے سامنے اور شاہدرہ لال پل ،فرخ آباد کے باہر ایسے پہلوانوں کے بہت بڑے اڈے قائم ہیں جو سادہ لوح ایسے مریض جن کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں چوٹ لگ کر اپنی جگہ سے کسک جاتی ہیں انہیں موقع پر درست کرنے کے نام پر ان کی ہڈیوں کو بے کار کرنے ٹیڑھی کرنے یا اعضاءمفلوج کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ روزنامہ ”پاکستان“ کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں جہاں عطائیت عام ہیں وہاں پہلوان بھی دیسی اور جعلی آرتھو پیڈک بن کر سامنے آ رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس وقت شہر کے اندر4 ہزار667 ایسے پہلوان موجود ہیں جنہوں نے ہڈی جوڑنے کے نام پر حقیقت میں ہڈیاں توڑنے کی شکار گاہیں کھول رکھی ہیں بعض نے باقاعدہ ایکسرے پلانٹ بھی لگا لئے ہیں جن کی مثالیں صدر کینٹ کے علاقوں میں دھرمپورہ میں ملتی ہیں روزانہ ان دیسی آرتھو پیڈک سرجنوں کے بگاڑے ہوئے درجنوں کیسز روزانہ خراب ہو کر ہسپتالوں میں آتے ہیں جن کی ہڈیاں چوٹ لگنے یا حادثہ کا شکار ہونے سے معمولی فریکچر ہوئی ہیں مگر جب سادہ لوح افراد ان عطائیوں کے پاس پہنچتے ہیں تو انہیں فوری درست کرنے کے نام پر ہزاروں روپے بٹور لیتے ہیں اور آخر کار معمولی کیس پیچیدہ بنا کر ہسپتالوں میں بھیج دیتے ہیں یہ لوگ ہڈیاں مضبوط کرنے کے نام پر تیل اور کشتے کھانے اور تیل کی مالش کرنے کے نام پر سرسوں کے تیل میں کیمیکل ڈال کر ہزاروں میں بیچتے ہیں جس کی مالش سے جلد خراب ہونے کے کیسز بھی سامنے آتے ہیں جہاں تک کہ یہ دیسی پہلوان آرتھو پیڈک سرجن بن کر لوگوں سے فالج زدہ جسم کے حصوں کو دوبارہ چلانے کے نام پر بھی لاکھوں روپے بٹور لیتے ہیں پولیو سے خراب ہونے والے بچوں کے اعضاءکو بھی درست کرنے کے نام پر لوگوں کو لوٹتے ہیں چھوٹے قد کو بڑا کرنے کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے سیکرٹری ڈرگ کوالٹی کنٹرول بورڈ شاہین اقبال سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ آپریشن شروع کردیا گیا ہے قانون نہ ہونے سے ان کو ”اندر“ نہیں کرا سکتے۔ دریں اثناءبتایا گیا ہے کہ جعلی آرتھوپیڈک پر جنہوں نے اپنے کلینکس نے باقاعدہ طورپر انجکشن سرجیکل سامان رکھا ہوا ہے اور خود کو ایک سرجن بن کر لوگوں کو ٹریٹ کرتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1