بلوچستان بدامنی کیس خفیہ ایجنسیوں کی راہداریاں ختم،جاﺅ جاکر لوگوں کوغیر مسلح کرو چیف جسٹس کا آئی جی ایف سی کوحکم

بلوچستان بدامنی کیس خفیہ ایجنسیوں کی راہداریاں ختم،جاﺅ جاکر لوگوں کوغیر ...

کوئٹہ(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان بد امنی کیس میں صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے عبوری حکم نامہ جاری کر دیا۔ سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو آج ہفتہ کو عدالت میں طلب کر لیا گیا جبکہ اس کے علاوہ آئی جی ، ایف سی بلوچستان میجر جنرل عبید اللہ کو بھی حکم دیا کہ ڈیرہ بگٹی کے کمانڈنٹ کوآج ہفتہ کو لاپتہ ہونے والے کہو بگٹی سمیت عدالت میں پیش کیا جائے ۔اس سے قبل عدالت کو ان کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ کمانڈنٹ ایف سی چھٹی پر ہیں جس پر عدالت نے کہہ دیا کہ ان کی چھٹی منسوخ کر کے عدالت میں پیش کیا جائے ۔حکم میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ میں جتنی بھی غیر قانونی گاڑیاں چل رہی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور خفیہ ایجنسیوں کو جو غیر ضروری راہداریاں دی گئی ہیں انہیں بھی منسوخ کیا جائے ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رئیسانی روڈ پر لوگ اسلحے کے ساتھ آزادانہ گھوم رہے ہیں۔سماعت میں آئی جی ایف سی میجر جنرل عبیداللہ خان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کی ابتدائ میں چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کیا تو ایڈووکیٹ جنرل نے انہیں بتایا کہ وہ چلے گئے ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ بتائے بغیر کیسے چلے گئے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ اغواءبرائے تاوان کے واقعات جاری ہیں اور نتیجہ صفر ہے، ٹارگٹ کلنگ ختم نہیں ہوئی،لوگوں کو لاپتاکرنیکا سلسلہ جاری ہے۔ جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ دو ،3 کیسز ایسے ہیں جن میں اداروں کا وقار متاثر ہوسکتا ہے، جس پر چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ مہلت دیجائے کہ بہتر نتائج عدالت کے سامنے لائے جاسکیں۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کمانڈنٹ ایف سی ڈیرہ بگٹی کہاں ہیں، جس پر ایف سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمانڈنٹ ایف سی 15دن سے چھٹیوں پر ہیں۔چیف جسٹس نے ایف سی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ثبوت فراہم کیے اور ریکارڈ دیا، لوگ پاگل تو نہیں جوکہتے ہیں کہ ایف سی انکا بندہ اٹھا کرلے گئی، ہم نے آرڈر پاس کیا کہ جاکر لاپتاافراد کو لے آو۔ آئی جی ایف سی نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری دفاع نے دونوں ایجنسیزکی اسلحے وگاڑیوں کی راہداری منسوخ کرنیکا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جائیں لوگوں کو غیر مسلح کریں۔ بلوچستان میں غیر قانونی گاڑیوں اور اسلحہ کو امن و امان کی صورتحال میں خرابی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ جن افراد سے غیر قانونی گاڑیاں برآمد ہوں ان کےخلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا تھا کہ آج ایک اور پولیس افسر مارا گیا، بلوچستان میں حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئے ہیں۔ مجرموں کےخلاف کریک ڈاﺅن کرنا ہوگا۔ جبکہ ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ یقین دہانی نہیں کرا سکتے لیکن حالات بہتر کرنے کی کوشش کرینگے۔ کیس کی سماعت کل تک کےلئے ملتوی کردی گئی۔

مزید : صفحہ اول