قانون دوران ڈیوٹی مزدور کی ہلاکت پر ہرجانہ دینے کا پابند ہے

قانون دوران ڈیوٹی مزدور کی ہلاکت پر ہرجانہ دینے کا پابند ہے

لاہور(جنرل رپورٹر) پنجاب میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پائے گئے دو محکمے لیبر اور سوشل سکیورٹی کی ”خاموشی“ سے فرائض کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہونے والے مزدوروں کو معاوضہ دلانے کے لئے موجود قانون فائلوں میں دفن ہو گیا ہے ۔ دوران ڈیوٹی یا کام کے دوران جاں بحق ہو جانے یا زخمی ہونے کی صورت میں مزدور یا اس کے لواحقین کو کمپنیشن ایکٹ 1923ءایکٹ ہرجانہ ادا کرنے کا پابند کرتا ہے اس قانون کے سوشل سکیورٹی اور محکمہ لیبر دونوں پر پابند ہیں اور ان کے لئے پنجاب میں صرف لاہور کے اندر دو کمپنیشین کمشنر موجود ہیں جن کا کام اس قانون پر عملدرآمد کراتا ہے جبکہ سوشل سکیورٹی بھی ایسی تعمیراتی کمپنیوں ورکشاپس، شاپس فیکٹریوں یا ایسے ادارے جمانا 5سے زائد مزدور کام کرتے ہیں ان کی رجسٹریشن کی جاتی ہے اور رجسٹریشن کے بغیر کوئی کمپنی مزدور رکھ سکتی نے کام جلا سکتی نے کام چلا سکتی ہے مگر پنجاب کے اندر70فیصد کمپنیاں ان قوانین کے برعکس مزدور اور ملازمین رکھے ہوئے ہیں 3روز قبل خالد رﺅف اینڈ کمپنی کے بلڈوز تلے کچلے جانے والے مزدور بھی محکمہ لیبر اور سوشل سکیورٹی کے ہاں رجسٹرار نہ تھا بتایا گیا ہے کہ مذکورہ محکموں کی ملی بھگت سے ایسی کمپنیاں فیکٹری جہاں پچاس سے زائد مزدور مستقل ملازم ہیں مگر رجسٹرڈ8سے10کئے جاتے ہیں جس سے ہر کمپنیاں کسی حادثے کی صورت میں لیبر قوانین سے کی زد میں نہیں آئیں جہاں تک دوران ڈیوٹی جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے متعلق ہے تو اس کے لئے قانون کمپنیشین ایکٹ 1923ءموجود ہے مگر یہ مزدوروں کے لئے مزدور گھوڑا ”بن چکا ہے اسی ایکٹ کی روم سے ہر وہ مزدور یا ملازم جس کی دوران ڈیوٹی موت واقع ہو جائے اس کے لواحقین کو کمپنی 2لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کی پابند ہے حادثہ کی صورت میں اگر کسی مزدور کی ٹانگ ضائع ہو جاتی ہے تو اسے چالیس فیصد ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا۔دونوں ٹانگیں مفلوج ہونے کی صورت میں 60فیصد ملکی معذوری کی صورت میں 80فیصد آنکھ ضائع ہونے کی صورت میں 70فیصد جبکہ دونوں آنکھیں ضائع ہونے کی صورت میں ملکی ہرجانہ مبلغ دو لاکھ روپے زدور یا اس کے لاحقین کو ادا کرنے کی کمپنی پابند ہے اس کی ادائیگی کے لئے محکمہ لیبر پابند ہے کہ وہ فوری ایکشن لے یا اس کے کمپنیسیشن کمشنرز ایکشن میں موقع پر جا کر تحقیقات کر کے مزدور کو کمپنی سے ہرجانہ ادا کرے مگر افسوس روزنامہ ”پاکستان“ میں صدیق کی خالد رﺅف اینڈ کمپنی کے بلڈوز تلے جاں بحق ہونے والے 7بیٹوں کے باپ صدیق کی موت پر محکمہ لیبر اس کے کمیشین کمشنر اور محکمہ سوشل سکیورٹی 3روز گزرنے کے بوجود ہلاکت میں نہیں آ سکے انہوں نے اپنے دفاتر کے غنڈے کمروں سے نکل کر بدقمست بیٹوں کے بدقسمت باپ کے کیس کے بارے انکوائری شروع کرنا یا کمپنی کو طلب کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی محکمہ لیبر یا سوشل سکیورٹی کا نمائندہ سوگوار خاندان کے گھر گیا نہ کسی نے رابطہ قائم کیا اس لئے ان دونوں محکموں کو مزدور مردہ گھوڑا قرار دیتے ہیں۔اسی حوالے سے پنجاب کے کمپنیشین کمشنر ندیم پرویز سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس پر بھرپور ایکشن لیا جا رہا ہے اور ایکٹ کی روش میں مظلوم خاندان کو کمپنی سے کمپنیشین دلائی جائے گی انہوں نے کہا کہ صدیق کمپنی کا ریگولر ملازم تھا یہ نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے گھر پہنچ کر کمپنیشین دلائیں گے انہوں نے کہا کہ ایسا پروجیکٹ جس نے 9ماہ چلنا ہو اور اس میں کام کرنے والے مزدور کو اگرچہ دھاڑی پر حاصل کیا گیا اور وہ اس نے 3ماہ کام کیا ہو وہ ریگولر تصور کیا جاتا ہے ۔

مزید : صفحہ اول