حقانی نیٹ ورک کے متعلق فیصلہ سے پاک امریکہ تعلق کھنچاﺅ کا شکار ہوسکتے ہیں

حقانی نیٹ ورک کے متعلق فیصلہ سے پاک امریکہ تعلق کھنچاﺅ کا شکار ہوسکتے ہیں

واشنگٹن (اظہرزمان، بیورو چیف) امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے آج حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اعلان پر جو دستخط کئے ہیں ، وہ بالکل غیر متوقع نہیں ہے۔ اس کی بجائے امریکہ سے باہر بسنے والے لوگوں کیلئے جو امریکہ کے حکومتی اور قانون سازی نظام کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے ان کے لئے یہ بات زیادہ حیران کن ہوگی کہ اس عمل کو پہلے کیوں مکمل نہیں کرلیا گیا اور اسے کانگریس کی طرف سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے صرف دو دن پہلے تک کیوں موثر کیا گیا۔ قبل ازیں انفرادی سطح پر حقانی نیٹ ورک کے چند اہم ارکان پر پابندیاں لگا کر ان کے اثاثوں کو منجمد کرنے کا کام ہوچکا ہے لیکن مجموعی طور پر ایک تنظیم کی حیثیت سے اس نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دینے کا معاملہ ابھی باقی تھا۔ بلاشک کانگریس کو مطمئن کرنے کےلئے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تحقیق کرکے کچھ ٹھوس ثبوت فراہم کرنے تھے جن سے ظاہر ہو کہ یہ نیٹ ورک واقعی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ لیکن معاملہ محض ثبوت تلاش کرنے کا نہیں تھا۔ یہ ساتھ میں انتظامی فیصلہ بھی تھا۔ امریکہ نے دو سال سے زائد عرصے سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف مہم تیز کررکھی ہے اور پاکستان سے مسلسل مطالبہ کررہا ہے کہ اس کی خفیہ پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے آپریشن کیا جائے۔ پاکستان کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان کے شمالی علاقوں پر جو ڈرون حملے ہورہے ہیں ، ان کا زیادہ تر نشانہ بھی حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے بنتے ہیں ۔ اس لئے واقفان حال کے مطابق نیٹ ورک کے خلاف ثبوت اکٹھے کرنے کی وجہ سے فیصلہ دیر سے نہیں ہوا بلکہ اس فیصلے کے سیاسی مضمرات تاخیر کا باعث تھے۔ امریکی حکام خصوصاً فوجی کمانڈر کبھی کھلے اور کبھی دبے لفظوں میں حقانی نیٹ ورک کا آئی ایس آئی سے تعلق جوڑتے رہے ہیں ۔ بعض اوقات یہ الزامات اس حد تک چلے جاتے تھے کہ حقانی نیٹ ورک کی کارروائیوں کو آئی ایس آئی کی تائید حاصل ہے اور اسی تعلق کی بناءپر پاکستانی آرمی نہ صرف اس نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کررہی ہے بلکہ اس کے خلاف آپریشن سے احتراز کررہی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اگر ڈرون حملے پاکستانی طالبان کے ٹھکانوں پر ہوں تو پاکستان آرمی کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوں کونشانہ بنانے کے خلاف ہے۔ پاکستانی حکومت، آرمی اور خصوصاً آئی ایس آئی نے ان الزامات کی سخت تردید کی ہے۔ روس کے خلاف جنگ کے دور میں بلاشک آئی ایس آئی نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر طالبان کے دوسرے گروہوں کی طرح حقانی نیٹ ورک کی پرورش کی۔ لیکن اب بقول آئی ایس آئی کے اس نیٹ ورک سے ایک تعلق ضرور باقی ہے جو ایک انٹیلی جنس ادارے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ نیٹ ورک ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ آئی ایس آئی کی وضاحت کے باوجود امریکی حکام اور مبصرین بدستور اس شک میں مبتلا ہیں کہ پاکستان کی اس انٹیلی جنس ایجنسی کی اس نیٹ ورک سے ہمدردیاں ہیں اور کسی نہ کسی حد تک کنٹرول بھی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دینے میں کچھ ہچکچاہٹ یا تاخیر کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ بلاشک پاکستان کھل کر اظہار نہ کرے لیکن پاکستان آرمی کو یہ فیصلہ پسند نہیں آئے گا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جو پہلے ہی انتہائی نچلی سطح سے اٹھ کر ایک مناسب مقام پر چل رہے ہیں ، ان میں اس فیصلے سے کچھ کھچاﺅ پیدا ہوسکتا ہے۔ جنرل ظہیر السلام کے دورئہ امریکہ کے دوران بھی یہ موضوع زیر بحث آیا اور پاکستان نے یہ مو¿قف اختیار کیا کہ اس معاملے میں کسی بھی فیصلے سے پہلے امریکہ کو اپنے مستقبل کی حکمت عملی سامنے رکھنا چاہئے اگر وہ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتا ہے توایسا اقدام موضوع نہیں ہوگا تاہم اگر اس نے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا تو ایسا اقدام اٹھایا جاسکتا ہے۔

مزید : صفحہ اول