اے این پی فنکشنل لیگ اور قوم پرست جماعتوں نے سندھ کا بلدیاتی نظام مستردکردیا

اے این پی فنکشنل لیگ اور قوم پرست جماعتوں نے سندھ کا بلدیاتی نظام مستردکردیا

کراچی ( این این آئی+ اے پی پی ) گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے پاکستان کے پہلے جمہوری اور منتخب نمائندوں کے عوامی سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر دستخط کردیئے جس کے فوری بعد نیا بلدیاتی نظام پورے سندھ میں نافذ ہوگیا ہے گورنر ہاو¿س میں دستخط سے قبل دونوں جماعتوں کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان اور گورنر ، وزیر اعلیٰ ہاو¿س میں صلاح و مشورے کرتے رہے جہاں جمعہ کی علی الصبح تقریباً تین بجکر پانچ منٹ پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ءکی سمری پر دستخط کئے جس کے بعد گورنر اور وزیر اعلیٰ کی قیادت میں دونوں اتحادی جماعتوں کے رہنماءگورنر ہاو¿س پہنچے جہاں پر گورنر ہاو¿س کی تاریخی لائبریری جہاں قائد اعظمؒ مطالعہ کرتے تھے وہاں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے علی الصبح تین بجکر پچاس منٹ پراس پہلے عوامی اور جمہوری سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ءپر دستخط کئے۔ اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ صدر کے معتمد خاص اویس مظفر، وزیر بلدیات آغا سراج درانی، اور وزیر اطلاعات شرجیل میمن، متحدہ کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار ، صوبائی وزراءہارون رضا، ڈاکٹر صغیر احمد وسیم آفتاب اور کنور نوید بھی موجود تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ آئندہ پندرہ روز کے دوران سندھ اسمبلی کا اجلاس بلاکر اس آرڈیننس کو منظور کرانے اور دوسری اتحادی جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل ، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی، اور مسلم لیگ ق کی رائے اور تجاویز بھی شامل کرکے منظور کرانے پر بھی اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ءکے تحت کراچی کے 18 ٹاو¿نز بحال ہوگئے جبکہ کراچی حیدر آباد، میرپور خاص، سکھر لاڑکانہ میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز بھی قائم کی گئیں ہیں۔ مزید یہ کہ حکومت کو مزید کارپوریشنز بنانے کا بھی اختیار دیا گیا ہے کارپوریشنز کے سربراہ میئر اور ڈپٹی میئر ہونگے جبکہ سندھ کے دیگر 18 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کونسلز بنائی جائینگی جن کے سربراہ چیئرمین اور وائس چیئرمین ہونگے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن ، متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے ارکان رضا ہارون اور واسع جلیل نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ءکے اجراءکے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ءکے نفاذ سے سندھ کی شہری اور دیہی آبادیوں کے درمیان محبتوں میں اضافہ ہوگا، اس نطام میں گزشتہ تمام بلدیاتی نظاموں میں سے اچھے اور بہتر قوانین سمیت کچھ نئے قوانین بھی شامل کئے گئے ہیں، نئے نظام کے قیام کے بعد اب تمام پروپیگنڈے دم توڑ دیں گے، پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے متعلق جو قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی، پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ سندھ حکومت کے تحت ہی کام کرتے رہیں گے ، ہماری لیڈر شپ نے مفاہمت کے جو دروازے کھولے اور بے نظیر بھٹو شہید نے مفاہمت کا جو نظریہ دیا صدر مملکت آصف علی زرداری اس مفاہمت کی پالیسی کو لے کر آگے چلے، پاکستان کی تاریخ میں سندھ حکومت نے پہلا جمہوری بلدیاتی نظام متعارف کروا کر تاریخ رقم کی جس پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور دیگر لیڈران اور اتحادی پارٹنر مبارکباد کے مستحق ہیں، اس نظام کے تحت سندھ میں رہنے والے تمام لوگوں کو یکساں سہولیات میسر آئیں گی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جمہوری حکومت نے ایک نئے نظام اور سندھ کے عوام کے لئے وقت لگایا جس کا مقصد یہ تھا کہ سندھ کے عوام کے لئے بہتر سے بہتر نظام متعارف کروایا جا سکے، اس نظام کو بنانے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں نے گزشتہ ایک سال بالخصوص رمضان المبارک میں روزانہ 6 سے 7 گھنٹے اجلاس منعقد کئے جس کے بعد اس نظام کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے دونوں پارٹیوں کے رہنماﺅں کو ہدایت کی کہ اس نظام کو جلد از جلد متعارف کروایا جائے جس کے بعد روزانہ 12 سے 14 گھنٹے اجلاس گورنر ہاﺅس اور وزیراعلیٰ ہاﺅس میں منعقد کئے گئے تاکہ جلد از جلد ایک اچھا بلدیاتی نظام سندھ کے عوام کو دیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس نظام کے تحت سندھ کی شہری اور دیہی آبادیوں کے درمیان مزید محبتوں کا اضافہ ہوگا۔ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ءکے تحت سندھ کے پانچ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو میٹرو پولیٹن کارپوریشنز بنایا گیا ہے جن میں کراچی، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپور خاص شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں یہ بھی گنجائش ہے کہ مزید میٹروپولیٹن کارپوریشنیں بنائی جا سکتی ہیں۔ کراچی سمیت پانچ میٹرو پولیٹن کارپوریشنوں میں نئے میٹروپولیٹن کونسلز ہوں گی جو میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے تحت کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹاﺅن کونسلز کے تحت یونین کونسلز کام کریں گی۔ میٹروپولیٹن کونسلز میں میئر اور ڈپٹی میئر جبکہ ٹاﺅن کونسلز میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے دیگر 18 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کونسلز ہوں گی، ڈسٹرکٹ کونسلز میں منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین ہوں گے اور ان کے تحت ٹاﺅن، تعلقہ یا یونین کونسلز کام کریں گی اور اس میں بھی چیئرمین اور وائس چیئرمین ہوں گے۔ تمام میٹرو پولیٹن کونسلز میں سول ادارے، پرائمری اسکول، رورل ہیلتھ سینٹر اور دیگر ڈیپارٹمنٹ ان کے تحت کام کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور صوبائی وزیر رضا ہارون نے اس موقع پر کہا کہ سندھ حکومت نے پہلا جمہوری بلدیاتی نظام متعارف کروا کر تاریخ رقم کی ہے جس پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ہمارے دیگر لیڈران اور اتحادی پارٹنر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا نظام متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت سندھ میں رہنے والے تمام لوگوں کو یکساں سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں خصوصاً آئین کے آرٹیکل 140-A کا خیال رکھا گیا ہے جس کے تحت یہ کمانڈ ہے کہ سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کو تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو متعارف کروانے میں تمام بلدیاتی نظاموں سمیت دنیا کے بڑے شہروں میں قائم بلدیاتی نظاموں کو بھی سامنے رکھا گیا جس کے بعد یہ نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے کہا کہ مشاورت کے بعد ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کی جائے گی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے سندھ میں بلدیاتی نظام کی بحالی پرصدرآصف زرداری،گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ ،پیپلزپارٹی ،ایم کیوایم اوردیگرجماعتوں کے وزراء، ارکان اسمبلی ،رہنماو ں، کارکنوں اور سندھ بھرکے عوام کومبارکبادپیش کرتے ہوئے کہاہے کہ بلدیاتی نظام کی بحالی سندھ میں عوام کونچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ،مسائل کے حل اورتمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے سندھ کے عوام کے درمیان اتحادوبھائی چارے اورہم آہنگی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے یہ بات بلدیاتی نظام کے آرڈی ننس کے اجراءکے موقع پر گورنرہاو س کراچی میں گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ ، ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کے رہنماو ں سے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ الطاف حسین نے تمام حلیف جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ سندھ کے عوام کی بھلائی ، مسائل کے حل اورانکے گھروں تک انصاف اورمسائل کاحل پہنچانے کیلئے حکومت سندھ نے جو پالیسی بنائی ہے اس کاساتھ دیں، ہم ان کے حقوق کابھی تحفظ کریں گے اوران کے خدشات بھی دورکئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کونچلی سطح پراختیارات کی منتقلی کیلئے جس طرح دن رات محنت وجانفشانی سے کام کیاہے وہ نہایت قابل تحسین ہے۔

مزید : صفحہ اول