سینیٹ ،قومی اسمبلی کا بائیکاٹ صوبائی کا بینہ سے استعفے،وفاق سے علیحدگی کی دھمکی

سینیٹ ،قومی اسمبلی کا بائیکاٹ صوبائی کا بینہ سے استعفے،وفاق سے علیحدگی کی ...

اسلام آباد(آئی این پی، اے پی اے، این این آئی، ثناءنیوز، مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) قومی اسمبلی اور سینیٹ میں عوامی نیشنل پارٹی نے سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے آرڈیننس کے اجراءکے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کے موجودہ سیشن کا بائیکاٹ کردیا، دوسری بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سندھ سے رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر غوث بخش مہر کا بھی آرڈیننس پر مسلم لیگ ق کو اعتماد میں نہ لینے پر شدید ردعمل کااظہار کیا۔ اے این پی نے وفاقی کابینہ سے بھی علیحدگی کی دھمکی دے دی۔ جبکہ اے این پی سندھ کے صوبائی وزیر امیر نواب نے استعفا دے دیا۔ جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ فنکشنل نے بھی نیا بلدیاتی آرڈیننس جاری کرنے کی مذمت کردی۔ وفاقی اور سندھ کی صوبائی کابینہ کے وزراءکے استعفوں کا اعلان کر دیا ، سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ عوامی تحریک قوم پرست جماعتوں کا 13 ستمبر کو سندھ بھر میں ہڑتال کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ میں حکومتی اتحادی جماعت اے این پی نے صوبہ سندھ میں دو طرفہ بلدیاتی نظام لانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سینیٹ کے موجودہ سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور سندھ میں اپنی واحد صوبائی وزارت چھوڑ دی جبکہ وفاقی وزیر کو دفتر جانے سے روک دیا۔ وزیر سیاسی امور مولا بخش چانڈیو نے موقف اختیار کیا کہ ہمارے دوستوں نے آرڈیننس پڑھے بغیر اتنے بڑے فیصلے کئے اور یہی آرڈیننس صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی نافذ ہے، پیپلز پارٹی پر سندھ تقسیم کرنے کی ذمہ داری عائد کرنے پر دکھ ہوا ہے، اتحادیوں سے شدید احتجاج کرتے ہیں۔جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ فنکشنل نے بھی آرڈیننس جاری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کو صوبائی اسمبلی سے منظور کروایا جائے جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں بلوچستان، کراچی، گلگت اور خصوصی طور پر ملک میں امن عامہ آرڈیننس پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اے این پی کے سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں ہمارے لوگوں کو ماراگیا بھتہ وصول کیا گیا، رحمن ملک کے پاس تمام رپورٹ موجود ہے ان حالات میں بلدیاتی انتخابات کروانا سمجھ سے بالاتر ہے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم چار سال سے اجلاس کرتی ہیں، پھر رات کے اندھیرے میں آرڈیننس جاری کر دیا جاتا ہے اور کراچی کے پانچ اضلاع کو ایک ضلع میں بدل دیا گیا، مشرف کا دور آج بھی جاری ہے، ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ امن وامان کا مسئلہ ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے، ہمیں معیشت کو بہتر کرنا ہوگا، لوکل گورنمنٹ سسٹم بہت پہلے آ جانا چاہئے تھا عوام کو اس سسٹم کی بہت ضرورت ہے، بحث میں حصہ لیتے ہوئے اے این پی کے سینیٹر عبدالنبی بنگش نے کہا کہ آج جو اکبر بگٹی کے قتل پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں وہ اس وقت اقتدار میں تھے اور بگٹی کے قتل میں ملوث تھے ، پوری پارلیمنٹ کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں شناخت ، صوبائی خود مختاری اور این ایف سی دیا۔ سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ ہماری رائے ہے کہ اہم مسئلے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا آرڈیننس کی بجالے بل کی شکل میں لایا جاتا، جے یو آئی ف کے سینیٹر مولانا غفور حیدری نے کہا کہ وزیر داخلہ نے کبھی مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا، حالات خراب سے خراب ہو رہے ان میں بہتری نہیں آرہی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل نہ ہو، بلوچستان میں حالات بہتر کرنے کیلئے سب سے پہلے مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ،سندھ میں رات کے اندھیرے میں جاری ہونیوالے آرڈیننس کی مذمت کرتا ہوں، آرڈیننس کے قانون کا مطلب ہے کہ اس کو عوام کی حمایت حاصل نہیں، حکمران ہوش کے ناخن لیں، ایک صوبے میں دو نظام نہیں ہونے چاہئیں، بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں سازشوں کے نتیجے میں آرڈیننس آئیں اور اتحادیوں سے پوچھا بھی نہ جائے، موضوع بدل جاتے ہیں، سندھ میں سندھیوں کیخلاف مسلسل گورنر ہاﺅس، وزیراعلی ہاﺅس میں سازشیں ہو رہی ہیں،جس کے بعد اے این پی کے اراکین سینیٹ سے واک آﺅٹ کر گئے۔ وفاقی وزیر مولابخش چانڈیو نے کہا کہ کسی نے آرڈیننس پڑھا ہی نہیں پھر اس پر تنقید کیوں کی جارہی ہے، ہم ہر صوبے کی نمائندگی کا حق تسلیم کرتے ہیں ایسا لہجہ درست نہیں ہے ، تمام جماعتیں انتخابات کی تیاری کررہی ہیں، پیپلز پارٹی پر سازش کا الزام درست نہیں، ہم آپ سے احتجاج کرتے ہیں ، پیپلز پارٹی کی موجودگی میں کسی صوبے کی تقسیم کی بات نہیں ہوسکتی، اگر بینظیر بھٹو صوبے کی سیاست کرتی تو قتل نہ ہوتی ہم پاکستان کے مفاد کی بات کرتے ہیں۔وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی خیبرپختونخوا میں مداخلت نہیں کی حالانکہ عوامی نیشنل پارٹی اتحادی جماعت ہے بلدیاتی نظام کا آرڈیننس پنجاب اور خیبرپختونخوا میں موجود ہے مگر وہاں کسی کو اعتراض نہیں اگر اے این پی کو کسی سیاسی جماعت سے مخالفت ہے تو نظام کی آڑ میں مداخلت نہ کرے۔ اے این پی کے رہنما پرویز خان نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں دو سیاسی جماعتوں نے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا آرڈیننس جاری کیاہے۔ پرویز خان نے کہا کہ اے این پی نے سندھ میں بلدیاتی نظام کی بحالی کے حوالے سے جاری آرڈیننس کے خلاف بطور احتجاج سندھ کابینہ سے اپنا وزیر نکال لیا ہے۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے رہنما نے کہا کہ بلدیاتی آرڈیننس سے متعلق مطالبات منظور نہ کئے گئے تو وفاق سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ سندھ کابینہ میں موجود اپنے واحد رکن کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ اپنے وزیر کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ واپس آجائے۔ اے این پی کے وزیر امیر نواب اپنا استعفی پیش کریں گے۔سینیڑ زاہد خان کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں کیے گئے فیصلے درست نہیں ہوتے۔ رات میں کیا جانے والا فیصلہ قابل قبول نہیں۔ اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم نے کراچی اور سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مشرف کا لایا ہوا بلدیاتی نظام جھوٹ پر مبنی تھا۔ ایسا کیا ہوا کہ چار سال میں حل نہ ہونے والا مسئلہ رات تین بجے حال ہوگیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے کہا کہ صدرآصف علی زرداری نے سندھ میں بلدیاتی نظام کا آرڈیننس نہ لانے سے متعلق اے این پی کی قیادت کو یقین دلایا تھا، لیکن اس یقین دہانی کی پاسداری نہیں کی گئی اور سندھ کے عوام کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں جمعہ کو حکومتی اتحادی جماعت اے این پی نے صوبہ سندھ میں دو طرز کا بلدیاتی نظام لانے پر بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے پورے سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل اے این پی کے پرویز خان ایڈووکیٹ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ رات گئے کراچی میں دو سیاسی جماعتوں نے پانچ اضلاع میں میٹرو پولیٹن بنا دی ہیں جبکہ باقی سندھ میں 2001ءکے بلدیاتی نظام کو بحال رکھا ہے اس اقدام کے ذریعے سندھ کی قوت کو تقسیم کیا جارہا ہے، ہم احتجاجا اس سیشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں، وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں نے آرڈیننس نہیں پڑھا پہلے نظام کو تبدیل کیا ہے عام انتخابات وقت پر ہونگے ، جذباتی فیصلے نہیں کرنے ایم کیو ایم کے وسیم اختر نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے نظام کیلئے طویل مشاورت کے بعد یہ آرڈیننس لاگو ہوا ہے ہم ایسا سسٹم لانا چاہتے تھے جس سے عوام کوفائدہ ہو پیپلز پارٹی نے بھی صبروتحمل سے تمام فیصلے کئے جو بھی نمائندے منتخب ہونگے۔ مسلم لیگ (ق) کے غوث بخش مہر نے کہا کہ اس آرڈیننس پر ہم سے بھی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی خط لکھا گیا، قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران راجہ محمد اسد خان کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ امتیاز صفدر وڑائچ نے ایوان کو بتایا کہ رواں سال کے دوران 16 اگست تک کراچی میں 248، 2011ءمیں 478، 2010ءمیں 373، 2009ءمیں 160 اور 2008ءمیں 104 اہداف پرمبنی قتل ہوئے۔ اس کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے،اب تک 306 ٹارگٹ کلر قتل ہو چکے ہیں۔ تمام فریقین اور سول سوسائٹی سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ عثمان خان ایڈووکیٹ کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ امن وا مان صوبائی معاملہ ہے۔ شیریں ارشد خان کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ملک میں دہشت گرد جہاں پکڑے جاتے ہیں خوف کی وجہ سے کوئی ان کیخلاف گواہی نہیں دیتا، ان قوانین میں تبدیلی لائی جا رہی ہے تاکہ دستاویزی ثبوت دستیاب ہوں اور ان پر ہی کارروائی کی جا سکے۔ وسیم اختر کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں بھی اغواءبرائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سب صوبوں کی معلومات یکساں آنی چاہئیں تھیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ سی آئی ڈی نے 2008ءسے اب تک 444 دہشت گرد پکڑے ان سے 87 کلاشنکوف اور 735 کلو گر ام دھماکہ خیز مواد پکڑا گیا۔ قومی اسمبلی میں فخر النساءکھوکھر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک نے آبادی کو کنٹرول کیا اور ترقی کی ۔ چین آج کہاں پہنچ گیا ہے، ٹی وی پر اس سلسلے میں اشتہار بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ ہمیں بہبود آبادی کے معاملے پر توجہ دینی چاہئے۔ پارلیمنٹ ہاﺅس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو اس معاملے پر ناراض نہیں ہونے دیں گے، وہ ہمارے اہم اتحادی ہیں، ہم انہیں منا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اے این پی نے سندھ حکومت سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی۔اے این پی سندھ کے صوبائی وزیر امیر نواب نے استعفیٰ دے دیا ہے صوبائی وزیر امیر نواب نے اپنا استعفیٰ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کر دیا ہے۔اس حوالے سے میڈیا سے بات کر تے ہوئے امیر نواب نے کہا ہے کہ استعفیٰ بلدیاتی نظام سندھ کے آرڈیننس 2012ءپر اختلاف کے باعث پارٹی کی مرکزی قیادت کے کہنے پر استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسی وزارت پیپلز پارٹی اپنے پاس رکھے، مجھے کٹھ پتلی وزیر بننے کا شوق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی موجودگی میں گورنر سندھ کا آرڈنینس جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ،ہم نے اس آرڈنینس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے پیر مظہر الحق اور دیگر پیپلز پارٹی وزراءکو آگاہ بھی کیا تھا اس کے باوجود حکومت نے کراچی اور حیدر آباد کی پرانی حثیت کو ختم کرکے آرڈنینس کا اجراءکیا جو قابل قبول نہیں ہے اس لیے پارٹی قیادت کے فیصلے کے تحت میں نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے ۔علاہ ازیں صوبائی وزیر اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماءامتیاز شیخ نے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام پورے سندھ کا مسئلہ ہے، سندھ میں نئے بلدیاتی نظام پر ہماری بات نہیں سنی گئی۔ سندھ حکومت نے بلدیاتی آرڈیننس کے معاملے میں ہمیں نظرانداز کیا۔ پریسکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امتیاز شیخ نے کہاکہ سندھ ایک ہے تو یہاں نظام بھی ایک ہونا چاہیے ۔ نئے بلدیاتی نظام میں سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کردیاگیا ہے ہمیں بتائے بغیر راتوں رات بات چیت شروع کردی گئی ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہم سے مشاورت کی جائیگی مگر رائے بھی نہیں لی گئی ہمارے وفاقی اور صوبائی وزراءاستعفے دے رہے ہیں ہمارا موقف تھا کہ سندھ میں ضلعے برقرار رہنے چاہئیں ، راتوں رات سندھ کو 2 حصوں میں تقسیم کردیاگیا ہم نے کہا تھا کہ اگر قانون لانا ہے تو اسمبلی کے ذریعے لایا جائے ، پیپلزپارٹی کا رویہ دیکھ کر مستعفی ہورہے ہیں۔ سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے بھی اے این پی کی طرح نیا بلدیاتی نظام مسترد کر دیا ہے اور اس کے خلاف 13ستمبر کوسندھ بھر میں ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام میں ان کوشدید تحفظات ہیں جبکہ قوم پرست جماعتوں کا اجلاس جلال محمود کی زیرصدارت ہوا جس میں 13ستمبر کو صوبے بھر میں مکمل ہڑتا ل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ادھر عوامی تحریک کے قائد ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ ان کا مقصد کراچی اور سندھ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے،بلدیاتی آرڈیننس میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنے مفادات کے تحت اس پر عمل کیا ۔ عوامی تحریک کی طرف سے محبت سندھ ٹرین مارچ ملتان پہنچنے پر ایاز لطیف پلیجو نے کہاکہ وہ راولپنڈی سے بذریعہ سڑک اسلام آباد بھی جائیں گے اور ایوانوں میں بیٹھے صاحب اقتداد افراد کو یہ باور کروائیں گے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کراچی اور سندھ کو تقسیم نہ کریں بلدیاتی آرڈیننس میں دونوں پارٹیوں نے اپنے مفادات کے تحت اس پر عمل کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول