امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کو دہشتگر د قرار دیدیا

امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کو دہشتگر د قرار دیدیا

واشنگٹن، لاہور ( رپورٹ وقاص سعد+ ایجنسیاں) امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد تنظیم قرار دیدیا گیا ہے، امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے حقانی گروپ کو دہشتگرد قرار دینے والی رپورٹ پر دستخط کر دیئے،برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے افغان شورش کی سب سے زیادہ بے رحم اور خوفناک برانچ حقانی دہشت گرد نیٹ ورک کو بلیک لسٹ کرنے اور دہشتگرد قرار دینے کا حتمی فیصلہ کر لیاہے۔کئی افراد کے لئے یہ فیصلہ اتنی حیران کن بات نہیں تھی جتنی یہ بات حیران کن ہے کہ اس فیصلے کے اطلاق میںاتنا وقت کیونکر صرف ہوا۔اخبار کا کہنا ہے کہ گروپ کو دہشت گرد قرار دینے کی سب سے بڑی وجہ حقانی گروپ کے حالیہ برسوں میں کابل میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملوں کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں پر خود کش بم دھماکے ہیں۔رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے خلاف کارروائی کی راہ میں حائل سب سے بڑی وجہ گروپ کے پاکستان انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے ساتھ گہرے مراسم ہیں ۔تفصیلات کے مطابق حقانی نیٹ ورک کا قیام امریکی ایجنسی سی آئی اے اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے تعاون سے 1980ءکی دہائی میں اس وقت عمل میں آیا جب امریکہ کو روس کے خلاف لڑنے کے لئے جنگجو گروپوں کی ضرورت تھی۔افغانستان سے روسی افواج کے انخلاءاور سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا۔حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی ایک زمانے میں امریکہ کی ڈارلنگ ہوا کرتے تھے انہیں امریکی صدر رونالڈ ریگن نے وائٹ ہاﺅس مدعو کیا اور حقانی ریگن کے ساتھ عشایئے میں شریک ہوئے، لیکن 2001ءمیں افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد سے حقانی گروپ امریکہ کے خلاف کارروائیوں میں مشغول ہے۔حقانی خاندان جنوب مشرقی افغانستان میں آباد ہے اور یہ ایک پختون قبیلہ ہے۔جلال الدین حقانی کے بعد ان کے بیٹے سراج الدین حقانی اس گروپ کے اہم ترین رہنما ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق اس گروپ کے پاس 4000سے 15000کے درمیان مسلح جنگجو ہیں۔حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی 1994ءسے افغانستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔1996ء میں جب طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا تو جلال الدین حقانی حکومت میں شامل ہوگئے اور وفاقی وزیر برائے قبائلی معاملات بن گئے۔ افغانستان پر امریکہ و نیٹو افواج کے حملے کے بعد حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہوگئے اوراز سر نو اپنی تنظیم سازی کی ۔مرحوم صحافی سلیم شہزاد کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے جلال الدین حقانی کو افغانستان کا وزیراعظم بننے کی پیشکش کی جو انہوں نے رد کردی۔حامد کرزئی کا خیال تھا کہ حقانی کے وزیراعظم بننے سے بہت سے معتدل مزاج طالبان بھی حکومت میں شامل ہو جائیں گے۔ امریکہ اور نیٹوافواج کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف لگائی جانے والی چارج شیٹ کے مطابق 14جنوری 2008ءکو کابل کے سرینہ ہوٹل پر حملہ مارچ 2008ءمیں برطانوی صحافی سیان لنگن کا اغوائ،27اپریل 2008ءکو افغان صدر حامد کرزئی پر ہونے والا قاتلانہ حملے جیسے واقعات کے پیچھے حقانی نیٹ ورک کا ہاتھ بتایا جاتا ہے ۔28جون 2011ءکو کابل کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر بموں سے حملہ کیا گیا جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی۔ایساف ترجمان کے مطابق اس حملے کے لئے دھماکہ خیز مواد حقانی نیٹ ورک نے فراہم کیا۔اکتوبر 2011ءمیں افغانستان کے قومی ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی نے انکشاف کیا کہ افغان صدر حامد کرزئی پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث مبینہ دہشت گرد جنہیں گرفتار کرلیا گیا ہے کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس گروپ کے اہم رہنما پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں جن کا قلع قمع کرنے کے لئے وہ ڈرون حملے کررہا ہے۔حالیہ دنوں میں پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملوں میں امریکہ کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما بدرالدین حقانی سمیت دیگر اہم رہنما بھی مارے جا چکے ہیںجبکہ طالبان نے امریکہ کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدرالدین حقانی افغانستان میں بالکل محفوظ ہے۔

مزید : صفحہ اول