ریپڈٹرانزٹ منصوبے کیلئے پنجاب حکومت کو100 بسیں خریدنے کی اجازت

ریپڈٹرانزٹ منصوبے کیلئے پنجاب حکومت کو100 بسیں خریدنے کی اجازت

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے لئے پنجاب حکومت کو100 بسیں خریدنے کیلئے ٹینڈر کھولنے کی اجازت دے دی۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے گزشتہ روز سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ حکومت کالجز اور یونیورسٹیوں کے لئے 200 اور ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبے کے لئے100 بسیں درآمد کرنا چاہتی ہے مگر1200بسوں کی درآمد کے حوالے سے عدالتی حکم امتناعی کی وجہ سے ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبے کی 100 بسیں درآمد نہیں کی جا سکیں گی جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ یوروٹو ڈیزل سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی ہو گی جبکہ یورو ون (Euro-1)ڈیزل کے استعمال کی وجہ سے ملک میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ عدالت میں موجود آئل کمپنیوں کے نمائندوں نے عدالت کو بتایاکہ یورو ٹو آئل وافر مقدار میں موجود ہے اور آئل کمپنیاں یورو ٹوڈیزل کو ملک بھر میں بھر پور انداز میں سپلائی کرتی ہیں۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پنجاب ناقص بسیں خرید کر ان بسوں کو یورو ٹو ڈیزل سے چلانا چاہتی ہے ۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے لئے پنجاب حکومت کو100 بسیں خریدنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے دیگر1100بسیں خریدنے کیلئے ٹینڈر کھولنے پر حکم امتناعی میں سترہ ستمبر تک توسیع کر دی۔

مزید : صفحہ آخر