سرما یہ کاری کے عمل کوشفاف بنانے کیلئے لین دین سٹاک ایکسچینج یا مالیاتی اداروں کے ذریعے کیا جائے:آفتاب چودھری

سرما یہ کاری کے عمل کوشفاف بنانے کیلئے لین دین سٹاک ایکسچینج یا مالیاتی ...

لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور سٹاک ایکسچینج نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان سے سپاٹ کموڈٹی ایکسچینج قائم کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی کیونکہ پنجاب ملکی زراعت کا 70فیصد پیدا کرتا ہے ۔کموڈٹی ایکسچینج کے قیام سے پنجاب کے کاشتکاروں اور سرمایہ کاروں کوفائدہ ہوگا۔زرعی اجناس کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو گا ۔مڈل مین مافیا سے جان چھوٹ جائے گی اور کاشتکاروں کو ان کی زرعی اجناس کی صحیح قیمت مل سکے گی۔حکومت صرف فوڈ سکیورٹی کیلئے گندم،چاول اور چینی سٹاک کرے۔ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز لاہور سٹاک ایکسچینج کے مینیجنگ ڈائریکٹر آفتاب احمد چودھری نے ایڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سینئر ممبر لاہور سٹاک ایکسچینج جاوید اقبال بھی موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ تینوں سٹاک مارکیٹوں لاہور،اسلام آباد اور کراچی میں ڈی میوچلائزیشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ آئندہ تین یا چار ماہ کے دور ان نئے قواعد و ضوابط کے تحت سرمایہ کاروں کے حصص ممبران کے اکاﺅنٹس کی بجائے ان کے اپنے اکاﺅنٹس میں آئیں گے ۔سرمایہ کار ممبران کو صرف حصص کی خریدوفروخت کی کمیشن ادا کریں گے ان سے کسی قسم کا نقد لین دین نہیں کریں گے بلکہ ،سرمایہ کاری کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے پیسے کا لین دین سٹاک ایکسچینج یا مالیاتی اداروں کے ذریعے کیا جائے گا ۔نئے ممبرز بنائے جائیں گے ۔سی ڈی سی کے ذریعے انویسٹرز اکاﺅنٹس کی حوصلہ آفزائی کی جائے گی ۔سٹاک مارکیٹوں میں ڈی میوچلائزیشن کے بعد حصص کی خریدوفروخت میں شفافیت پیدا ہو گی۔

مزید : صفحہ آخر