گورنر پنجاب نے صوبائی محتسب کے فیصلوں کیخلاف دائر اپیلوں کی سماعت کی

گورنر پنجاب نے صوبائی محتسب کے فیصلوں کیخلاف دائر اپیلوں کی سماعت کی

ؒٓؒٓٓلاہور(نمائندہ خصوصی( گورنر پنجاب سردار محمد لطیف خاں کھوسہ نے گورنر ہاﺅس لاہور میں صوبائی محتسب پنجاب کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی مندرجہ ذیل اپیلوں کی سماعت کی ۔پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی لاہور کی درخواست پر گورنر پنجاب نے کہا کہ ادارے کو دی گئی صوبائی محتسب کی اس ہدایت پر فوری عمل کیا جانا چاہیے کہ ماڈل ٹاؤن کے شاہ فیصل کرکٹ کلب کے زیر استعمال گراؤنڈز اور پیویلین پر سے تمام ناجائز تجاوزات ہٹائی جائیں چونکہ یہ کلب 2000ءمیں کمشنر لاہور کے ساتھ کئے گئے ایک معاہدے کے زیر تحت تمام شرائط کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف عام شہریوں اور تنظیموں کے لیے بلکہ معذور افراد اور فلاحی ادراوں کے لیے بھی کرکٹ میچوں کی سہولت کا اہتمام کرتا ہے۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ کلب کی منتظمین کو بھی چاہیے کہ وہ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے افسران کے ساتھ رابطہ رکھیں تاکہ اس قسم کے تنازعات جڑ پکڑنے کی بجائے ابتدا میںہی ختم کئے جاسکیں۔محمد اعجاز کی اپیل کے سلسلے میں گورنر پنجاب نے کہا کہ چونکہ ان کے کیس کے سلسلے میں پولیس اخراج رپورٹ مرتب کرکے عدالت میں داخل کرچکی ہے اور عدالت نے اس رپورٹ کی روشنی میں کیس خارج کردیا ہے لہٰذا اس اپیل پر مزید کسی کارروائی کی گنجائش نہیں۔ ای ڈی او (ایگریکلچر) جھنگ کی اپیل پر گورنر پنجاب نے حکم دیا کہ تمام مدعا علیہان کی ملازمتیں فوری پر بحال کی جائیں کیونکہ ان کی تقرری قانون کے مطابق کی گئی تھی او رمحکمے کے پاس تقرری کو ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔محمد یعقوب کی اپیل پر گورنر پنجاب نے کہا کہ محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ ایم اے پاس اساتذہ کے لیے کوالیفیکیشن الاؤنس کے ضمن میں مختص کئے گئے مضامین میں بقیہ مضامین کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ اعلیٰ تعلیم تدریسی معیار کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں مضامین کا امتیاز اور چند مضامین کے علاوہ باقی مضامین میں ایم اے/ایم ایس سی کرنے والے اساتذہ کی دل آزاری مناسب نہیں۔

مزید : ایڈیشن 1