فلم ابھی باقی ہے!

فلم ابھی باقی ہے!
فلم ابھی باقی ہے!

  

پیپلز پارٹی کی حکومت جسے ملتوی کرانا چاہتی ہے وہ عام انتخابات ہیں اور ن لیگ جسے ملتوی کرانا چاہتی ہے وہ بلدیاتی انتخابات ہیںجبکہ عمران خان کے حامی سمجھے ہوئے ہیں کہ عوام ان دونوں پارٹیوں کو ذہنی طور پر ملتوی کر چکے ہیں اور اگلی باری عمران خان کی ہے !

پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات کی بات یوں کرتی ہے جیسے جیت جائے گی اور ن لیگ بلدیاتی انتخابات کے ذکر سے یوں بدکتی ہے جیسے ہار جائے گی ، ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو بلدیاتی انتخابات عام انتخابات جیتنے والی سیاسی پارٹی کا انعام ہوتے ہیں، اس لئے پیپلز پارٹی کو الیکشن لڑنے کے شوقین حضرات کا ڈبل خرچہ بچانا چاہئے اور اسے عام انتخابات کے بعد ہی منعقد ہونے دے ورنہ بڑی بدنامی ہوگی!

پاکستان ایسا ملک ہے جہاں انتخابات کے بعد بھی انتخابات کی ضرورت رہتی ہے ، ہارنے والی سیاسی جماعت ہارنے کے فوراً بعد دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیتی ہے اور پھر اگلے آنے والے سالوں تک اس مطالبے کو پیٹتی رہتی ہے ، اس ضمن میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی کہ انتخابات نے پاکستان کو دیا کیا ہے لیکن جہاں تک لینے کی بات ہے تو انتخابات اب تک آدھا پاکستان لے چکے ہیں!

ہمارے ہاں تمام انتخابات کا انعقاد تبدیلی لانے کے لئے کیا جاتا ہے لیکن بعد ازاں ہم نتائج کی تبدیلی پر ہی اکتفا کر کے باقی ماند ہ تبدیلی کے عمل کو اگلے انتخابات تک کے لئے اٹھا رکھتے ہیں ، اسی لئے ہر بار ہم نئے عزم سے تبدیلی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ، ہماری دیکھا دیکھی پچھلی بار صدر اوباما نے بھی تبدیلی کے نعرے پر ہی انتخاب لڑا تھا، پاکستان میں چونکہ ہر ایک طبقے نے انتخابات سے اپنی طرح کی توقع لگائی ہوتی ہے اس لئے انتخابات کے نتائج بھی اپنی طرح کے برآمد ہوتے ہیں!

پاکستان میں ہر بار انتخابات ایک بہت بڑا ڈھونگ ثابت ہوئے ہیں کیونکہ منتخب لوگ ہر بار غیر منتخب قوتوں سے بآسانی مل جاتے ہیں اور یوں انتخابی توقعات اور امیدوں کا جنازہ نکل جاتا ہے ،یہ بھی ایک مضحکہ خیز حقیقت ہے کہ ہر امیدوار منتخب ہوجانے کی امید پر انتخاب لڑتا ہے ، ایسا ہے تو پھر وہ جن کو کوئی منتخب نہیں کرتاوہ کیا لڑ رہے ہوتے ہیں، انتخابات کبھی بھی نتیجے کے بغیر نہیں ہوتے جبکہ نتیجہ بغیر انتخابات کے بھی سامنے ہوتا ہے ، اکثر اوقات اس نتیجے کو بدلنے کے لئے ہی انتخابات کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے ، پاکستان کو اب نتائج کی نہیں ، نیت کی تبدیلی کی ضرورت ہے !

ن لیگ نے قبل ازوقت انتخابات کا نعرہ اتنی مرتبہ لگایا ہے کہ اب بعد از وقت انتخابات بھی بروقت ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ،پچھلے ساڑھے چار سالوں میں انتخابات کا نعرہ کئی بار لگا، کبھی مڈٹرم انتخابات کا نعرہ تو کبھی قبل از وقت انتخابات کا نعرہ اور اب جب کہ عام انتخابات میں محض چھ ماہ رہ گئے ہیں ، ن لیگ اب بھی قبل ازوقت انتخابات کے انعقاد پر بضد ہے ، کوئی ان سے پوچھے کہ اب کاہے کی جلدی ہے کیونکہ اگر قبل ازوقت انتخابات کا مقصد ملک کو پیپلز پارٹی کی لوٹ کھسوٹ سے بچانا تھا تو وہ تو ہو چکی !

 ویسے پیپلز پارٹی کو چاہئے کہ بغیر کسی تاخیر کے انتخابات کا اعلان کردے ،انتخابات کی تیاری کی زحمت بھلے نہ کرے کیونکہ تیاری کرنے والوں نے تیاری کی ہوئی ہے ، یوں بھی اگر پیپلز پارٹی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر پر بضد رہی تو اپوزیشن عوام کے ساتھ مل کر اسے انتخاب کا جلاب دینے میں دیر نہیں لگائے گی!

انتخاب کا خواب ہر کوئی دیکھتا ہے لیکن پیپلز پارٹی اور اس کے حواری تو دو بارہ انتخاب کا خواب دیکھ رہے ہیں ، پہلے بلدیاتی انتخاب کا اور پھر عام انتخاب کا، عمران خان ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں ، وہ پارٹی میں بھی اپنے انتخاب کا خواب دیکھ رہے ہیں!

انتخابات کے انعقاد میں چند مہینے رہ گئے ہیں لیکن خبر نہیں کہ وہ مہینہ جس میں انتخابات کا انعقاد ہونا چاہئے اس کے انتخاب میں کتنے مہینے لگیں گے ، ویسے پیپلز پارٹی نے ہر کام تاخیر سے کیا ہے لیکن اگر وقت پر کرنٹ نہیں دے سکی تو کم ازکم وقت پر اگلا قائد ایوان تو دے !

اپوزیشن اور الیکشن کمیشن نے حکومت اور اس کے حواریوں کی نیت کو بھانپتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دینا شروع کردی ہے ، ن لیگ کے احسن اقبال نے پریس کانفرنس میںکہا ہے کہ حکومت اور اس کے حواری انتخابات کو ایک سال کے لئے ملتوی کرنا چاہتے ہیں تاکہ ستمبر 2013میں صدر زرداری صاحب کو اگلے پانچ سال کے صدر منتخب کیا جاسکے، ادھر الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر چھاپنے والوں اور نادرا کو تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے اور واقفان حال نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر پابندی عائد کروانے کے لئے گراﺅنڈ تیار کرنا شروع کردی ہے ، لانگ مارچ اور سونامی مارچ کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا، ٹھہریئے جناب ... فلم ابھی باقی ہے!

مزید : کالم