وزیراعلیٰ صاحب ۔۔۔ سنعیہ ریاض سے کوئی ناراضگی ہے؟

وزیراعلیٰ صاحب ۔۔۔ سنعیہ ریاض سے کوئی ناراضگی ہے؟
وزیراعلیٰ صاحب ۔۔۔ سنعیہ ریاض سے کوئی ناراضگی ہے؟

  

میں خود حیران ہوں کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی بی ایس سی کے امتحان میں ٹاپ کرنے والی سنعیہ ریاض سے کیا ناراضگی ہو سکتی ہے کہ وہ اسے ذرا برابر لفٹ کرانے کو تیار نہیں۔ جی ہاں ! سنعیہ نے پنجاب یونیورسٹی کے تحت منعقد ہونے والے انہی امتحانات میں بی ایس سی میں 686 نمبر لے کر اول پوزیشن حاصل کی ہے جس میں تنور پر روٹیاں لگا نے والے محمد محسن علی نے 688 نمبر حاصل کر کے بی اے میں ٹاپ کیا ہے، اگر مجموعی نتیجے کو دیکھا جائے تو محسن علی بی اے ، بی ایس سی کے امتحانات میں فرسٹ اور صرف دو نمبروں کے فرق سے سنعیہ ریاض سیکنڈ ہے مگر وزیراعلیٰ نے محمد محسن علی کو تواسی طرح سراہا جس طرح سراہا جانا اس کا حق تھا، اسے دس لاکھ روپے انعام کے ساتھ ساتھ آشیانہ میں ایک گھر دینے کا اعلان بھی کیا، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی اسے دس لاکھ روپے بطور انعام دئیے، ایم کیو ایم کی طرف سے اس کے لئے سکالرشپ کا اعلان کیا گیا، شائد ہی ٹی وی چینلوںکا کوئی ایسا پروگرام ہو گا جس میں محسن کو انوائیٹ نہ کیا گیا ہو اور میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوںکہ ایک محنت کش کے محنتی بیٹے کو جس طرح ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے پوری پاکستانی قوم کا قرض ادا کر دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس سے قبل غالباً دیپالپور کے محنتی غریب نوجوان طالب علم اور اسی طرح قصور سے موٹرسائیکل رکشہ چلانے والے نوجوان کی کامیابی پر تیس تیس اور پچاس پچاس لاکھ کے انعامات دے چکے ہیں۔ محسن پر عنایات ان کی محنت کر کے کامیابی حاصل کرنے والے بچوں کو سراہنے کی مثبت سوچ کا تسلسل ہے،اس میں کوئی نئی بات نہیں، وہ بہت خوب کرتے ہیں کہ بورڈ کے امتحانات میں پوزیشن لینے والوں کو گارڈ آف آنر پیش کرتے ہیں، ان کے لئے ملکی اور غیر ملکی دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف یہی نہیں محنتی مگر مستحق طلبا و طالبات کے تعلیمی اخراجات بھی پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ سے برداشت کئے جاتے ہیں۔مگر مجھے حیرانی تو سنعیہ کو نظرانداز کرنے پر ہے جس کو کسی قسم کے خصوصی انعام سے نہیں نوازا گیا، وزیراعلیٰ نے چوتھی اور پانچویں پوزیشن والوں سے تو ملاقات کر لی مگر سنعیہ وحدت روڈ پر کلفٹن کالونی میں ساڑھے تین مرلے کے اس گھر میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی منتظر ہے جہاں وہ اپنے خاندان کے دیگر ارکان کے ساتھ اوپر والے پورشن میں کرائے پر رہتی ہے، سنعیہ کے والد ایک فارماسیوٹیکل کمپنی میں سیلز مین ہیں اور ان کے پاس اتنے اضافی پیسے بھی نہیں کہ لوڈ شیڈنگ جیسے عفریت کا مقابلہ کرنے کے لئے یو پی ایس جیسی ضرورت کو بھی افورڈ کر سکیں۔ غریب گھر کی حوصلہ مند بچی نے میٹرک میں بھی ترانوے فیصد نمبر حاصل کئے، شائد اس وقت وزیراعلیٰ اس سے ناراض نہیں تھے لہذا ان کی طرف سے ان کے دستخطوں کے ساتھ ایک سرٹیفیکیٹ بھی دیا گیا اور انڈوومنٹ فنڈ سے اس کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ سنعیہ اگر صرف اپنے والد کی جیب کی طرف دیکھتی رہتی تو یقینی طور پر بی ایس سی میں نہ پہنچ پاتی، یہاں پرلاہور کے سابق ناظم میاں عامر محمود کے پنجاب گروپ آف کالجز اس سکیم سے اسے فائدہ ہوا جس میں وہ غالباً اسی فیصد سے زیادہ نمبر لینے والوں کو مفت تعلیم کی پیش کش کرتے ہیں، سنعیہ نے پنجاب کالج آف سائنس میں داخلہ لیا اور مہینے کے صرف دس روپے ادا کرتے ہوئے میٹرک کی شاندار پرفارمنس کو مزید بڑھاتے ہوئے بی ایس سی میں پورے پنجاب میں پہلے نمبر پر آ گئی مگر یہاں ایشو یہ پیدا ہوا کہ بی اے میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والا محمد محسن میڈیا کی آنکھ کا تارا بن گیا حالانکہ امتحانات میں حصہ لینے والے ایک لاکھ 43ہزار 750 امیدواروں میں ، بی اے میں سب سے اوپر پہنچنے والا محمد محسن اگر محنت کش کا بیٹا ہے تو بی ایس سی میں اول آنے والی سنعیہ ریاض بھی کسی لینڈ لارڈ کی بیٹی نہیں۔ وہ بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ جس طرح وزیراعلیٰ نے میٹرک کے امتحانات میں اس کی کامیابی پر اس کے سرپر شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا، اسی طرح اب بھی اس کی سرپرستی کریں گے، وہ حیران ہو کے پوچھتی ہے کہ وزیراعلیٰ محسن علی کے گھر تو حافظ آباد چلے گئے تھے مگر کیا وہ میرے گھر نہیں آ سکتے جو ان کے ماڈل ٹاو¿ن میں گھر سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، وہ وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی سے شروع کئے جانے والے میگا پراجیکٹ میٹرو بس ریپڈ ٹرانزٹ کے نو کلومیٹر طویل فلائی اوور سے بہت ہی قریب رہتی ہے اور خادم پنجاب فیروز پورروڈ، مسلم ٹاو¿ن پر اس پراجیکٹ کا معائنہ کرتے ہوئے صرف تین چار منٹ کی ڈرائیو میں اس کے گھر آ سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ جس طرح محسن نے غریب گھر کا بیٹا ہوتے ہوئے محنت کی، اسی طرح اس نے بھی ایک غریب باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود اپنے والدین کا اللہ کی رحمت اور اپنی محنت سے مان رکھا۔ میں نے سنعیہ کے والد ریاض سے پوچھا کہ کیا وزیراعلیٰ کے کان میں کسی نے یہ غلط بات تو نہیں ڈال دی کہ آپ مسلم لیگ (ن) کے مخالف ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں، سارا دن تو دفتر کے کام میں گزر جاتا ہے، وہ سیاست کرنا کیسے افورڈ کر سکتے ہیں۔ یہی بات میں نے وزیر تعلیم میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان سے کی تو انہوں نے یہ تو تسلیم کیا کہ سنعیہ نظراندازہوئی ہے مگر انہوں نے اس کی ذمہ داری ہم میڈیا والوں پر ڈال دی کہ محسن کو اتنا ہائی لائٹ کیا گیا کہ باقی طالب علم پس منظر میں چلے گئے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر ایسی میرٹ کے خلاف باتیں کرنا ہوتیں تو سنعیہ کی انڈوومنٹ سے مدد ہی کیوں ہوتی اور یہی نہیں بلکہ ہزاروں ، لاکھوں طلبا و طالبات کو میرٹ پر جو لیپ ٹاپ مل رہے ہیں کیا وہ ان کی سیاسی وابستگیاں پوچھنے کے بعد مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دانش سکولوں میں جن بچوں کو داخلے مل رہے ہیں وہ اس قوم اور اس صوبے کے بچے ہیں، انہیں داخلہ دیتے ہوئے یہ ہرگز نہیں پوچھا جاتا کہ تمہارے والدین نے عام انتخابات میں کس کوووٹ دیا تھا۔میں میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کے دلائل سے اختلاف نہیں کرتا، وہ درست کہتے ہیں مگر میں نے ان کو بہرحال یاد دلایا ہے کہ ایک غریب گھر کی بیٹی اپنے صوبے کے وزیراعلیٰ سے اسی طرح خراج تحسین کی منتظر ہے جس طرح انہوں نے انہی امتحانات میں ایک دوسرے طالب علم کو پیش کیا ہے۔ درست کہتے ہیں سنعیہ کی فیملی کے لوگ کہ اگر محسن کے پس والدین کے پاس گھر نہیں تھا تو ان کے پاس بھی اپنا گھر نہیں ہے لہذا جس طرح محسن علی کو آشیانہ میں گھر ملا ہے سنعیہ کو بھی ملنا چاہیے۔ بی اے کی مقابلے میں بی ایس سی کی پڑھائی بہت سخت اور زیادہ ہوتی ہے اور سنعیہ ریاض نے زیادہ سخت مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے لہذا حکومت اگر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی یا لمز جیسے ادارے سے اسے مزید تعلیم دلوا سکتی ہے تو ضرور دلوانی چاہئے۔ انہی امتحانات میں بی اے میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کنول لطیف کا بھی مختلف اخبارات میںبیان چھپا ہے کہ اسے انعام ملا نہ حوصلہ افزائی ہوئی لہذا وہ احتجاجاً پڑھائی چھوڑ رہی ہے،کنول لطیف کے مطابق وہ جس گھر میں رہتے ہیں وہ اس کے والدین نے بچوں کی پڑھائی کے لئے گروی رکھا ہوا ہے اور اب ان کے پاس یونیورسٹی کی فیسیں ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ میں کنول لطیف کی باتوں کی تصدیق کرنا چاہ رہا تھا، مختلف صحافیوں سے جنہوں نے کنول کے گھر جا کے کچھ رپورٹس تیار کی تھیں جب ان سے استفسار کیا تو انہوں نے کنول لطیف کے دعووں کی تائید نہیں کی۔ ان کے مطابق اس کے والد سپئیر پارٹس کے ڈیلر ہیں مگر وہ بتاتی ہے کہ اس کے والد میکلوڈ روڈ پر سپئیر پارٹس کی دکان پر محنت مزدوری کرتے ہیں، ایک خاتون صحافی نے بتایا کہ جب وہ کنول کے گھر ریکارڈنگ کر رہی تھی تو کنول کے بھائی نے اسے ان کے خوبصورت لان کی فوٹیج بنانے سے روک دیا تاکہ وہ خوش حال ظاہر نہ ہوں، بہرحال نظرانداز کئے جانے کا شکوہ تو کنول لطیف کا بھی ہے مگر کیا وہ سرکاری امداد کی مستحق ہے یا نہیں اس بارے میں حکومت اپنی ایجنسیوں کی مدد سے تحقیق کر سکتی ہے تاہم دوسری طرف سنعیہ ریاض بارے تمام ذرائع تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف سے خصوصی انعام اور حوصلہ افزائی اس کا حق ہے مگر اس پر حیران ہوں کہ خادم پنجاب ایک بچی کا حق کیوں ادا نہیں کر رہے، اسی حیرانی کو دور کرنے کے لئے میں ان سے پوچھ رہا ہوں کہ وزیراعلیٰ صاحب ۔۔۔ کیا سنعیہ ریاض سے کوئی ناراضگی ہے؟

مزید : کالم