بھارتی وزیرخارجہ کا دورہ اہم مگر زیادہ تو قعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں

بھارتی وزیرخارجہ کا دورہ اہم مگر زیادہ تو قعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں
بھارتی وزیرخارجہ کا دورہ اہم مگر زیادہ تو قعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھارتی وزیر خارجہایس۔ایم۔کرشنا پاکستان کے تین روز دورے پر اسلام آباد پہنچے اور آتے ہی اُن کی مصروفیات بھی شروع ہوگئیں۔وہ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھرسے ملاقات کے علاوہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے ۔ بھارتی وزیر خارجہ کی مصروفیات میں حکمران جماعت کے رہنماﺅں سے بات چیت کے علاوہ حزب اختلاف اور دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں سے مذاکرات بھی شامل ہیں۔اس لحاظ سے اُن کا یہ دورہ بہت اہم قرار دیا جارہا ہے۔جبکہ تجزیہ نگاروں نے اِس سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ کرلی ہیںجبکہ یہ ضرور واضح ہوجائے گا کہ بھارتی وزیرعظم من موہن سنگھ پاکستان آنے کیلئے جس مناسب وقت کا ذکر کرتے ہیں وہ آیا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ بھارتی وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے پالیسی بیانات پر نظر ڈالیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ڈپلو میسی میںممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر دباﺅ رکھناشامل ہے، جبکہ بھارت دہشت گردی کے حوالے سے بھی پاکستان پر الزام لگاتا ہے ۔ایس ۔ایم۔ کرشنا نے پاکستان آنے سے پہلے کہہ دیا کہ وہ ممبئی حملوں کے معاملے پر بھارتی تشویش کا پرُزور انداز میں ذکر کریں گے۔آج کی دنیا کے معروضی حالات میں ہمسایہ ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کا پرچار لازمی ہوتا ہے۔پاکستان اور بھارت نے دو جنگیں لڑیں اور متعدد جھڑپوں کے بعد مذاکرات کی ضرورت محسوس کی ۔پاکستان کی ہر حکومت نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن تعاون اور کوشش کی لیکن بھارتی رویہ زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق ہی رہا۔ پہلے تو اِس کی طرف سے کشمیر اور سیاچن جیسے معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا تھا،پھر پانی کا مسئلہ درمیان میں آیا۔یہاں بھی بھارت اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ نہ ہوا حتیٰ کہ کشن گنگا کیس عالمی عدالت میں لے جانا پڑا۔گذشتہ دنوں سیاچین پر مذاکرات اور اُسے غیر جانب دار علاقہ قرار دے کر افواج کو واپس لانے کی بات کی گئی تو بھارت نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی اور فوجیں واپس لے جانے سے انکار کردیا۔پاکستان کی طرف سے اب بھی اِسی توقع کا اظہار کیا جارہا ہے کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں تو کشمیر،سیاچن اورسرکریک سمیت تمام متنازعہ اُمور پر بھی بات ہوگی لیکن بھارت کی ڈپلومیسی مختلف ہے۔ بھارت والے تجارت اور دونوں ممالک کے لوگوں کی آمد ورفت میں سہولتوں کے معاملے کو اولیت دے رہے ہیں۔چنانچہ واہگہ کے راستے تجارت شروع ہے۔اِس میں باقاعدگی اور وسعت پیدا کرنے کی بات ہوگی۔ممنوعہ فہرست میں کمی پر غور ہوگا اور تاجروں کو بلا کر اُن کو ایک سال تک کا ملٹی پل ویزا دیا جائے گا۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے مذاکرات میں اِ س سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا اور ویزوں میں بعض سہولتوں کے حوالے سے معاہدہ ہونے کے علاوہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ظاہر کیا جائے گا۔ہم بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور خوشگوار تعلقات کے حامی ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ پاکستان بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔ہماری خارجہ پالیسی کی یہی کامیابی ہوسکتی ہے کہ بھارت کے متعصب رویے میں لچک پیدا کرائی جائے۔مسئلہ کشمیر دُنیا کی نظر میں خود کشمیریوں کی جدوجہد سے نمایاں ہے جو اب جمہوری انداز میں تحریک شروع کئے ہوئے ہیں، اِس لئے بھارت پر بھی دباﺅ ہے۔یہی وجہ ہے کہ تنازع کشمیر ایجنڈے میں رکھ لیا جاتا ہے لیکن اِس پر مذاکرات موخر رہتے ہیں۔مقصد تسلی کے سوا کچھ نہیں ۔بہرحال کچھ نہ ہونے سے کچھ تو بہتر ہے۔مذاکرات میں جو بھی تھوڑی بہت پیش قدمی ہو وہ آئندہ کیلئے مثبت ثابت ہوسکتی ہے۔دونوں ملک ایٹمی قوت ہیں اور دونوں کو اِس کا احساس ہے۔یوں بھی جنگوں سے کچھ نہیں ملا،اِس لئے امن ہی بہتر ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں سے ملاقات اور مذاکرات کریں گے تو یہ بہتر ہوگا۔ اُن کو کم ازکم متنازعہ اُمور پر سب کے نظریات سمجھنے کا موقع ملے گا جو یقینا قومی پالیسی کے مطابق ہی ہوں گے۔

مزید : تجزیہ