بلوچستان میں راہداریوں اور ایف سی کمانڈنٹ کی چھٹیوں کی منسوخی کی رپورٹ طلب ، مزید نہیں رہناچاہتے : ایف سی وکیل ، یہ حکومت کو بتائیں : سپریم کورٹ

بلوچستان میں راہداریوں اور ایف سی کمانڈنٹ کی چھٹیوں کی منسوخی کی رپورٹ طلب ، ...
بلوچستان میں راہداریوں اور ایف سی کمانڈنٹ کی چھٹیوں کی منسوخی کی رپورٹ طلب ، مزید نہیں رہناچاہتے : ایف سی وکیل ، یہ حکومت کو بتائیں : سپریم کورٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ایف سی کے وکیل نے بلوچستان سے متعلق عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرادیاہے جبکہ سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع سے راہداریوں کی تفصیلات اور کمانڈنٹ ڈیرہ بگٹی کی چھٹیوں کی منسوکی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے میں ناکام ہوگئے ہیں ، اپنے گھر کو ہم نے خود ٹھیک کرناہے ، انسانی حقوق والے آگئے تو ہم سب کی بدنامی ہوگئی ۔سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان امن امان کیس کی سماعت کی جہاں ایف سی کے وکیل راجہ ارشاد نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیاجس کے مطابق ایف سی نے حکومت کو آگاہ کردیاہے کہ وہ صوبے میں مزید کام جاری نہیں رکھ سکتے جس پر چیف جسٹس کاکہناتھاکہ یہ آپ کا آپس کا کام ہے ، عدالت کو نہ بتائیں ۔راجہ ارشاد کاکہناتھاکہ وہ تمام باتیں عدالتی ریکارڈ میں لاناچاہتے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے جوکام شروع کیا، وہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے ، انسانی حقوق والے آگئے تو ہم سب کی بدنامی ہوگی ۔عدالت کے استفسار پر سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ

پشین سے اغواءہونیوالا بچہ تاحال بازیاب نہیں ہوسکا۔چیف جسٹس نے ایف سی کے وکیل سے استفسار کیاکہ کمانڈنٹ ڈیرہ بگٹی کاہوبگٹی کو لائے ہیں جس پر ایف سی کے وکیل نے بتایاکہ کمانڈنٹ مالاکنڈ گئے ہیں تاہم کاہو بگٹی کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔عدالت نے استفسار کیاکہ کمانڈنٹ ڈیرہ بگٹی کی چھٹیاں منسوخ کیوں نہیں کی گئیں ؟ چھٹی منسوخ کرنے کے احکامات عدالت میں پیش کریں اور کمانڈنٹ اگر عدالتی احکامات نہیں مانتے تو اُن کا کورٹ مارشل کیاجائے ،گھر کے معاملات ہم نے خود ٹھیک کرنے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ نواب اکبر بگٹی کے قتل کا اتنا بڑا واقعہ ہوالیکن کوئی اثر نہیں ہوا،حالات خراب ہوتے جارہے ہیں ، عدالت بار بار حالات کی خرابی پر توجہ دلارہی ہے ۔ ایڈووکیٹ ایم ظفر نے کہاکہ صوبے میں حالات کی خرابی کی ذمہ دار حکومت ہے ۔عدالت نے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین سے راہداریوں کی تفصیلات طلب کیں جس پر اُنہوں نے بتایاکہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کو راہداریوں کی منسوخی کی ہدایت کردی ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کاکہناتھاکہ اِن دو ایجنسیوں کے علاوہ بیس ایجنسیاں اور بھی ہیں جن میں سے ایک ایف سی بھی ہے ۔جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ ہم یہاں اپنی ذات کے لیے نہیں بیٹھے ۔عدالت نے سیکرٹری دفاع سے راہداریوں پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 19ستمبر تک ملتوی کردی گئی اور آئندہ سماعت اسلام آباد میں ہوگی ۔

مزید : کوئٹہ