روسی آ رہے ہیں

روسی آ رہے ہیں
روسی آ رہے ہیں

  

روسی حکام کے دورے اسلام آباد میں گہری نگاہ سے دیکھے جا رہے تھے کہ روس کے صدر ولادمیر پوٹن نے بھی پاکستان آنے کا عندیہ دیدیا اور انکا دورہ اکتوبر کے شروع میں متوقع ہے اس پیش رفت کے پیچھے جو عوامل کارفرما رہے ہیں ان میں سے ایک تو پاکستان اور امریکہ کی درمیان محبت اور نفرت کے رشتے میں انتہائی تبدیلی اور امریکہ کا بار بار پاکستان کو یہ بتانا کہ پاکستان خطرے میں ہے اور کسی وقت بھی امریکی جنگ افغانستان سے نکل کر پاکستان کی سرحدوں میں آسکتی ہے کیونکہ پاکستان مبینہ طورپر طالبان کی مدد کر رہاہے ۔ روسی قوم ہر کام سے پہلے اس کام کے کرنے کا مقصد ضرور دریافت کرتی ہے اور بڑی منطقی ہے اگر آپ کسی روسی دوست کو کہیں کہ مجھے پانی کا گلاس پلا دو تو وہ آپ سے پوچھ سکتا ہے کہ کیوں؟ یہ لفظ کیوں انکی پوری زندگی کا تمام معاملات کو چلاتا ہے تو اس سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ روسی کوئی بھی کا م بغیر کسی وجہ یا ضرورت کے نہیں کرتے تو پھر روس اتنی تیزی سے پاکستان کے قریب کیوں آیا ہے یہ کیوں بہت اہم ہے۔

پاکستان اور روس کی باہمی تعلقات میں اتنی تیزی کیوں؟یہ زیادہ پرانے وقت کی بات نہیں جب پاکستان کی ملٹری اور سول بیوروکرسی کے حکا م ہر اس شخص پر خطرنا ک ہونے کا لیبل لگا دیتے تھے جو روس یا پاکستان اور روس کے تعلقات کی بات کر تا تھا اور اب رو ز بروز پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات میں مضبوطی آرہی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستا ن کی فضائیہ کے سربراہ ائیر مارشل طاہر رفیق بٹ نے اگست میں روس کا دورہ کیا اور اب توقع یہ کی جا رہی ہے کہ روس کے صدر ولادمیر پوٹن کے دورۂ پاکستان سے پہلے چیف آف آرمی سٹا ف جنرل پرویز اشفاق کیانی روس کا دورہ کر سکتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان روس سے Mi-35، Mi-17ٹرکس،میزائل کے کا دفاع نظام، JF-17کے لئے بہتر انجنز(جو کو پاکستان نے چین کے تعاون سے تیار کئے تھے) ، سب میرینز اور اس طرح کے مزید آلات خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ہتھیاروں میں کمی اور چین کی طرف سے پاکستان کی ضرورتوں کو پوراکرنے میں مسلسل ناکامی کے بعدپاکستان کے لئے ہتھیاروں کی خریداری کے لئے نئے ذرائع تلاش کر نا اشد ضرورت بن چکا ہے۔ فیڈریشن آف روس اور پاکستان نے سب سے پہلے اپنے سفارتی اور باہمی تعلقات یکم مئی 1948کو قائم کئے۔ سرد جنگ کے دوران مختلف ادوار میں روس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکاررہے۔ 1947سے 1950کے اوائل میں زمانے میں جب پاکستان سول حکومت کے کنٹرول میں تھا توروس کے اسکے ساتھ تعلقات کافی مضبوط اور خوشگوارتعلقات رہے تاہم بعدازاں امریکہ کی طرف سے 1958میں پاکستان میں فوجی حکومت کے قبضہ کی حمایت کی بعد یہ تعلقات سر د مہری کا شکار ہو گئے۔ پاکستان اور بھارت کی 1965کی جنگ کے بعداور1970کی دہائی کے درمیانی عرصے میں ان تعلقات کو مضبوط کر نے کی کئی کوششیں کی گئیں بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو کے دورحکومت یہ تعلقات تیزی کے ساتھ بہتری کی طرف گامزن ہوئے۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 1977میں برطرف کر دیا گیا اور روس کے کفار کے خلاف لڑنے کے لئے ایک کٹر اسلامی جنرل ضیاء الحق کو پاکستان میں تعینات کر دیا گیا ۔ افغانستان میں روس کے قبضہ کے دوران پاکستان جہادی مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے امریکہ اور سعودی عرب کا اتحادی بن گیا ۔بظاہر یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ پاکستان اور روس کے انتہائی اہم تعلقات کو پاکستان میں فوجی طاقتوں کی رضامندی حاصل ہے۔ ا س کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں ممکنہ طور پر ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ باوجود اس کے کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کو بہتر کرنے کی بار بار کوششیں کی گئی تاہم یہ ابھی تک تباہی کے دھانے پر ہیں۔اس لئے روس کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کو ایک موقع فراہم کریں گے کہ وہ امریکہ پر انحصار کرنے سے باہر آجائے جبکہ روس کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے قدم وسطی اور جنوبی ایشیا میں جمالے اور بحر ہند تک رسائی حاصل کرلے اس کے ساتھ ساتھ روس امریکہ کی افغانستان میں موجود فوج کو اپنے زمینی ذرائع پر انحصار کر نے پر مجبور کر سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی ہتھیاروں کے سلسلے میں چین پر بہت زیادہ انحصارکی کو قابل ذکر حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ قابل ذکر بات ہو سکتی ہے کہ پچھلے دس سالوں کے دوران روس نے ازبکستان کو اپنے چار IL-78جٹ طیارے فروخت کر نے کی اجازت دی ہے اور پاکستان کو یوکرائن کے T-80UDکے حصے دئیے ہیں۔سفارتی حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ڈرون کے ذریعے پاکستان پر بمباری کرنا، اسامہ بن لادن کے خاتمہ کے لئے بغیر اطلاع دئیے آپریشن کرنا اورایران کو نیو کلئیر ہتھیار فراہم کرنے کے جیسے الزامات یہ وہ حقائق ہیں جن کی وجہ سے پاکستان روس کے تعاون کو حاصل کر نے پر تیار ہواہے۔ روس نے اس صورت حال کو بالکل انداز میں محسوس کیا اور یہی وجہ ہے کہ مئی 2012میں روس کے صدر کے خاص ایلچی نے پاکستان کا دورہ کیا اور اب 10اکتوبر کو روس کے صدر ولادمیر پوٹن خود پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ روس کے صدر کی آمد کا فی حد تک افغانستان پر ۔۔۔۔۔۔۔ میٹنگ کے بعد ہو گی جو کہ26اور 27،2012کو منعقد ہو گی جس میں افغانستان ، تاجکستان ، پاکستان اور روس شرکت کریں گے۔اگر روس کی پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت ہوتی ہے تو وہ امریکی افواج کے زمینی ذرائع کا کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔ پہلے ہی روس افغانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدوں کے ساتھ شمالی تقسیم کے نیٹ ورک کا کنٹرول حاصل کئے ہوئے ہے۔ اگر پاکستان روس کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت قائم کرنے کے لئے کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس سے روس کو امریکہ پر بہت زیادہ فوقیت حاصل ہو جائے گی کیونکہ روس کے پاکستان کی سرحدوں کے دونوں اطراف میں بہت مضبوط تعلقات ہیں ،مشرقی سرحد پر انڈیا کے ساتھ جبکہ مغربی سرحد پر ایران کے ساتھ۔ اس صورت حال میں روس پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے میں کچھ مدد کر سکتاہے۔ ماسکو کا اس بات پر یقین پر ہو سکتاہے کہ مفادات کو برابر ی کی سطح پر لانے کے اس دورمیں یہ پاکستان کے ساتھ تعلق کو کنٹر ول کر سکتاہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اس بات کا بھی خیال رکھ سکتاہے کہ اس کے اپنے اہم دفاع اتحادی انڈیا کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہوں۔پاکستان شنگھائی تعاون کی تنظیم SCO میں ایک مبصر کی حیثیت رکھتا ہے یہ ایک بین الاقوامی علاقائی تنظیم ہے جو کہ 2001میں چین، روس، قازکستان، تاجکستان،کرغزستان اور ازبکستان کے رہنماؤں نے قائم کی۔اگر روس کی حمایت حاصل ہوتی ہے تو اس بات کی قوی امکانات ہیں کہ افغانستان، پاکستان اور انڈیاSCOکے مستقل ممبر بن جائیں۔ اس صورت حال میں SCOکی پہنچ جنوبی مشرقی ایشیاء تک پھیل سکتی ہے یہ وہ خطہ ہے جہاں پر روس کے صدر ولادمیر پوٹن پہنچے کی کافی مضبوط کوششیں کر رہے ہیں ۔ روس کے صدر نے ایشیا ء کے معاملات میں کافی دلچسپی کا اظہار کیا ہے اپنے دوسرے دورہ صدارت میں ولادمیر پوٹن چین کے ساتھ اچھے روابط قائم کئے ہوئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ روس وسطی ایشیاء میں برابری کے سطح کے ممالک میں اپناپہلا مقام بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں روس نے مشرقی ایشیاء میں ایک متحرک اور خوشحال معاشی نیٹ ورک کے ساتھ اپنے الحاق کو مزید مضبوط کیاہے۔ روس پہلے ہی پچھلے دس سالوں میں ایشیاء میں اپنے آپ کو اجاگرکرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اس کے چین، ایران، اور انڈیا کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات ہیں جبکہ پاکستا ن کے ساتھ یہ اپنے تعلقات کو مزید بہتر کر رہاہے۔ روس نے پچھلے سال ایشیاء کے مشرقی یونین کو جوائن کیاہے جو کہ مشرقی ایشیاء میں کئی ممالک کی سیکورٹی کے اہم ادارے کے طور پر پروان چڑھ سکتاہے۔ روس کی حکومت کے نمائندے جنوب مشرقی ایشیاء کے ممالک کے دفاعی وزراء کی میٹنگ اور ڈائیلاگ پارٹنر،ایشیا کے تعاون کے ڈائیلاگ، اور دوسری اہم علاقائی میٹینگز میں متواتر شرکت کرتے رہتے ہیں جہاں کبھی وہ غیر حاضر رہا کرتے تھے۔سفارتی حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اور روس اس سلسلے میں بات کر سکتے ہیں کہ وسطی ایشیا ء میں دہشت گردی کو کیسے کنٹرول کرناہے اور اسلامی تحریک ازبکستان(IMU)جو کہ وسطی ایشیاء میں سب سے بڑی اسلامی سیاسی تنظیم ہے کے خلاف اکٹھے کیسے لڑناہے۔ IMUمبینہ طور پر اس وقت قازقستان میں صورت حال کو خراب کر رہی ہے یہ افغانستان اور پاکستان اور افغانستان کی سرحد ڈیورنڈ لائن کے دونو ں اطراف میں اپنا وجو د رکھتی ہے اس تنظیم کے خلاف لڑنے میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔سفارتی ذرائع یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ روس کی فرم اور سٹیل ورکس (MMK)پاکستان کی سٹیل ملز کو پھیلانے میں مزید مدد دیں گی اور اس کی قابلیت کو ایک ملین سے تین ملین ٹن سالانہ پر لائیں گیں۔ اس کے جواب میں پاکستان روس کو بلوچستان میں معدنی وسائل اور تھر کو ل کے ذخیروں تک رسائی دے سکتاہے۔ روس نا صر ف پاکستان میں سول حکومت کو اپنی معاشی کارکردگی بہتر کر نے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ یہ مسلح افواج کو ہتھیار مہیا کر نے کا ایک متبادل ذریعہ بھی فراہم کر سکتی ہے۔ماسکو کے لئے ایک قدم آگے بڑھانے کا مطلب اس ملک میں ۔ ۔۔ تبدیلی ہو گا کیونکہ اس سے پہلے پاکستان کی طرف سے سیکورٹی کے خطرے کو روکنے پر توجہ دی گئی۔مثال کے طور پر روس کے صدر دمتری میدویدو پاکستان میں دہشت گردوں کے گھونسلوں کو تباہ کر نے پر زور دیا۔ تاہم موجودہ وقت میں بظاہر روس کی ایسٹیبلشمنٹ نے اس بات کااحساس کر نا شروع کر دیا ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر دفاع نقطہ نظر سے انتہائی اہم سرحد جو کہ مشرقی یورپ سے وسطی ایشیاء تک پھیلی ہوئی ہے کی حفاظت کر نا نا ممکن ہے۔ درحقیقت یہ بات قطعا حیرانگی کا باعث نہیں ہو گی کہ ماسکو اسلام آباد کے حوالے سے ایک بہت اہم ساتھی بننا چاہ رہا ہے۔ روس گیس پائپ لائن منصوبے جس میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا) شامل ہیں کی حمایت کر تاہے اور بظاہر وہ اس بات پر رضامند نظر آتا ہے کہ وہ ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر اہم انویسمنٹ کرے۔ ان دونوں منصوبوں کو پاکستان میں قدرتی گیس کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو انتہائی ضروری سپلائز فراہم کرنی چاہئے۔ ولادیرمیر پوٹن کے دورے کے دوران روس تھر کو ل فیلڈ میں شرکت کا اعلان کر سکتاہے اور یہ بھی توقع کی جار رہی ہے کہ روس پاکستان کو یہ آفر کر سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو وسطی ایشین پاور گرد کے ساتھ منسلک کرے جو کہ روس سے تمام وسطی ایشیائی ممالک کو بجلی فراہم کر تاہے۔ روسی معاشرے میں آپ کسی کے گھر بھی خالی ہاتھ نہیں جاتے ۔ روس میں یہ کہاوت ہے کہ دوست ہمیشہ تحائف کے ساتھ آتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ولادمیر پوٹن کے ساتھ کونسے تحائف آتے ہیں۔ 

یہ بلاگ سب سے پہلے دی کوزہ پے شائع کیا گیا 

مزید : بلاگ