ویزا، شادی آسان ،کنٹرول لائن پر اعتماد سازی کیلئے اقدامات اوراچھے ہمسائے بننے پر پاک ، بھارت اتفاق

ویزا، شادی آسان ،کنٹرول لائن پر اعتماد سازی کیلئے اقدامات اوراچھے ہمسائے ...
ویزا، شادی آسان ،کنٹرول لائن پر اعتماد سازی کیلئے اقدامات اوراچھے ہمسائے بننے پر پاک ، بھارت اتفاق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان اور بھارت نے نئے ویزا معاہدے پر دستخط کردیے ہیں جبکہ سرحد پار شادی کیلئے سہولت دینے اور لائن آف کنٹرول پر اعتماد سازی کیلئے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا ہے ۔ویزا پالیسی سے متعلق معاہدے پر دستخط بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا اور پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کیے ۔ اس موقع پر رحمن ملک نے بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کااعلان کیاہے اور کہا کہ ویزے کانیامعاہدہ دونوں ملکوں کی دوستی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی سمیت تمام معاملات پر بات آگے بڑھے گی۔ دہشت گردی سے متعلق بھارت کے پاس کوئی اطلاعات ہیں توان کاتبادلہ کرے۔ قبل ازیں وزرائے خارجہ مذاکرات میں پاک ، بھارت نے نئی ویزا پالیسی تیار کی گئی اور لائن آف کنٹرول پر اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ اسلام آباد میں وزیرخارجہ حناربانی کھرسے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کی ون آن ون ملاقات ہوئی جس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ جس میں کشمیر، پانی، سرکریک سمیت تمام معاملات پرہونے والی بات چیت میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔مذاکرات میں نئی ویزہ پالیسی پر اہم پیش رفت ہوئی اور پالیسی کو حتمی شکل دی گئی۔ جس کے تحت چھوٹے تاجروں کوایک سال کا ملٹی پل ویزا اور بڑے سرمایہ کاروں کو تین سال کا ویزا جاری کیا جائے گا۔ مریضوں کے لئے غیرضروری شرائط ختم کردی جائیں گی۔ دونوں ملکوں میں سیاحتی ویزے کے اجرا کا بھی آغاز ہوگا۔ صحافیوں کے لئے شہروں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ سرحد پار شادی کرنے والوں کو بھی سہولت ملے گی۔ اسلام آباد میں پاکستان اور بھارت کے مشترکہ کمیشن کا بھی اجلاس ہوا۔ جس میں پاکستان بھارت کے سیکرٹری خارجہ ، ہائی کمشنر اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔ بات چیت میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ماہی گیروں کی قید کا معاملہ پاکستان نے پرزور انداز میں اٹھایا۔مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ پر یس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک تعمیری تعلق اور اس کا فروغ چاہتے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ اسلام آباد کی عمارت میں وزرائے خارجہ نے صحافیوں کی جانب سے پوچھئے گئے سوالات کے بھی جواب دیئے۔ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے پاکستان آنے کیلئے کوئی شرط عائد نہیں کی ،وہ مناسب وقت پرپاکستان آئیں گے۔وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان بھارت کیساتھ تعلقات کے فروغ کاکوئی موقع گنوانانہیں چاہتا،اور مذاکرات جاری رکھناچاہتا ہے، پاکستان اوربھارت سفری سہولتیں آسان کرنے کیلئے پُرعزم ہیں،تاجروں کوسہولیات فراہم کی جائیں گی، رواں سال کے آخرتک بھارت کیساتھ تجارتی تعلقات معمول پرآجائیں گے، صدرزرداری منموہن ملاقات سے تعلقات بہترہوئے، پاکستان اوربھارت کے مشترکہ کمیشن کوفعال کیاگیا، پاکستان تعلقات بہتربنانے کاکوئی موقع ضائع نہیں کریگا، پاکستان اور بھارت کومستقبل کی طرف دیکھناچاہئے، ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کرآگے بڑھناچایئے، اب تک جوہواتاریخ تھااورہم تاریخ کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنیں گے، پڑوسی ممالک کیساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور بھارت کیساتھ بہترتعلقات چاہتاہے۔ایس ایم کرشنا نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے پاکستان آنے کیلئے کوئی شرط عائد نہیں کی ،وہ مناسب وقت پرپاکستان آئیں گے۔بھارت پاکستان کیساتھ تعمیری تعلقات چاہتا ہے،دہشتگردی امن اورسیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے۔دونو ں ممالک کو دہشتگردی سے نمٹناہے۔پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث افرادکوکٹہرے تک لانے میں پُرعزم ہے۔

مزید : اسلام آباد