کچھ تاریخی غلطیاں اور ان کی تصحیح

کچھ تاریخی غلطیاں اور ان کی تصحیح
کچھ تاریخی غلطیاں اور ان کی تصحیح

  

یوں تو انسان خطاکا پتلا ہے، اس کا ہر اٹھنے والا قدم غلطی اور صحت کا احتمال رکھتا ہے، عربی زبان کی ایک کہاوت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ پہلا انسان سب سے پہلا بھولنے والا بھی تھا، گویا بھولنا اور غلطی کرنا انسان کی سرشت اور فطرت میں ہے لیکن ایک فرد کی بعض غلطیاں سب کے پلے پڑجایا کرتی ہیں اور انسانی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، ایسے افراد بڑے لوگ ہوتے ہیں یا قوموں کے لیڈر ہوتے ہیں۔

یہاں جن اخطا اور غلطیوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ان کا تعلق ہم براعظم پاک و ہند یا جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ سے ہے، مگر ان غلطیوں کا ہم سب کو احساس بھی نہیں ہے ایک تو اس لئے کہ مسلمان کچھ بے نیاز اور لاپروا واقع ہوئے ہیں، دوسرا سبب یہ ہے کہ ہزار بارہ سو سالہ حکمرانی کا زوال ایک اتنا بڑا صدمہ تھا جس سے ہم مسلمان جاں بر نہیں ہوسکے، 1857ء مسلمانوں کے لئے ایک ایساتھپڑ تھا جس کے باعث ہم مسلمان آج تک سنبھل نہیں پائے چونکہ یہ تھپڑ دوہاتھوں سے لگا تھا۔ ان میں سے ایک بیرونی دشمن کا ہاتھ تھااور دوسرا ایک اندرونی دشمن کا تھا جسے ہم اپنا شیر خوار اور وفادار سمجھتے رہے تھے مگر یہ ہماری غلطی تھی، ہم ہندو کو اپنا فداکار سمجھتے رہے تھے (اور یہ ہماری بے نیازی اور سادگی تھی ) مگر وہ نئے آقا کی گود میں چلا گیا اور اس نے اسے چوسنی کے ساتھ یہ لوری بھی دی کہ لالہ!تم تو اکثریت ہوکر اقلیت کے غلام بنے رہے (اور ہندو ہم سے اسی غلامی کے انتقام پر تلا ہوا ہے حتیٰ کہ سقوط ڈھاکہ پر اندراگاندھی نے بھی اس کا اعلانیہ اعتراف کیا تھا اور آج اسی ڈھاکہ میں نریندر مودی بھی یہی کچھ کہہ رہا ہے !)کل کے جمہوری نظام میں حکومت صرف تمہاری ہوگی اس میں مسلمان کا کوئی حصہ نہ ہوگا !گورے سامراج کی اسی لوری کے سبب بھارت کا لبھورام مستی میں آج تک جھوم رہا ہے اور ایسے جھوم رہا ہے جیسے شکار کو ڈسنے سے پہلے پھنیرسانپ لہراتا ہے مگر ہم ہیں کہ ہندوشناس بن کر اسے پہچاننے کے بجائے اس سے گھل مل کر ہندو مزاج بننے میں کوشاں ہیں، بالکل جیسے ہم ہزار بارہ سوسال ہندو مزاج بن کر اس سے گھلتے ملتے رہے ہیں مگر اس نے گزشتہ ستر سال سے ہمیں انتقام کی سان پر چڑھایا ہوا ہے، بس صرف ایک حرکت یا اشارے کی ضرورت ہے، ہندو کے خیال میں مسلمان کا کام تمام ہوجائے گا لیکن برہمن کی یہ خام خیالی ہے یا حقیقت ؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا !

ہماری دوسری غلطی یہ ہے کہ ’’نظریہ پاکستان ‘‘ کے ورد میں ہندو کے نظریہ، بھارت سے بے نیاز چلے آتے ہیں، ہزار بارہ سو سال کے اسلامی دور میں اس خطہ جنوبی ایشیا کا نام ہم نے ہندو کی خاطر ہندوستان (جیسے ترکستان وغیرہ ) رکھا تھا مگر تنگ نظر ہندو کو یہ پسند نہ تھا، وہ اس خطے کو ملیچھ اور ناپاک مسلمان سے پاک کرکے’’ بھارت‘‘ کانام دینا چاہتا ہے اور بھارت بھی’’رام راجیا‘‘ گویا تنگ نظر ہندو پرامن بقائے باہمی کا پیدائشی منکر ہے مگر بین الاقوامی سطح پر ہمیں مذہبی تنگ نظر کہہ کر بدنام کرتا ہے !لیکن ہم چونکہ برہمن کے نظریہ بھارت سے بے نیاز (بلکہ غافل اور اندھے)ہیں ، اس لئے دنیا کو یہ نہیں بتاسکتے کہ برہمن تو ’’متحد ہ ہندو قومیت ‘‘ پر برعظیم کو متحد رکھنا چاہتا تھا اور اب بھی اسی پر اصرار کررہا ہے اسی لئے تو اس نے ’’ہندو توا‘‘ تیار کررکھا ہے !

ہماری تیسری فاش غلطی یہ ہے کہ 13اگست 1947ء میں آل انڈیا ریڈیو پر اعلان کرتے وقت پنڈت نہرو کی یہ چال نہ سمجھ سکے کہ ’’نواب زادہ‘‘ صاحب آپ تو پاکستان پائندہ باد کہیں گے ؟ تو میں انڈیا زندہ باد کا نعرہ لگاسکتا ہوں؟ تو ہم نے کہا تھا ’’بالکل ٹھیک ہے پنڈت جی !‘‘حالانکہ کہنا چاہئے تھا کہ نہیں پنڈت صاحب !آپ کہیں گے : ’’ہندو انڈیا بھارت زندہ باد‘‘ اور میں کہوں گا : ’’مسلم انڈیا پاکستان پائندہ باد !‘‘ مگر بے خیالی اور لاپروائی میں نہرو کو رام راجیا بھارت دینے کے علاوہ انڈیا اور ہندوستان بھی دے آئے آج مکار برہمن ’’بھارت ‘‘ کے پھسپھسے لفظ کے بجائے ہندوستان ، انڈیا اور ہندکے الفاظ پر اتراتا ہے اور یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ جوکچھ انڈیا کا ہے وہ سب ہمارا ہے!اس وجہ سے انڈیا آفس لائبریری بھی صرف ہماری ہے پاکستان کا تو اس میں نام ہی نہیں۔ میں اپنی قومی اسمبلی کے آزاد اور بااختیار ارکان سے یہ پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ایک متفقہ مگر غیرت مندانہ قرار دادپاس کریں کہ ہمارے پیارے وطن کا مکمل نام ہوگا ’’مسلم انڈیا اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کیونکہ شاہی مسجد دہلی اور تاج محل سمیت مسلم انڈیا کے وارث اور مالک ہیں!!

مزید :

کالم -