وہر پیش گوئی غلط،ہر دعویٰ جھوٹا

وہر پیش گوئی غلط،ہر دعویٰ جھوٹا
 وہر پیش گوئی غلط،ہر دعویٰ جھوٹا

  



زیراعظم نوازشریف نے ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنڈی کا ایک سیاست دان حکومت گرنے کی تاریخ پر تاریخ دیتا رہتا ہے لیکن وہ تاریخ نہیں آتی ۔حیرت کی بات ہے کہ وزیراعظم کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ شیخ رشید کی باتیں بھی سنیں۔شیخ صاحب بڑی دیدہ دلیری سے پیش گوئیاں کرتے ہیں ‘ان کایہ سودا سنسنی فروش نیوز چینلزلپک کے خریدتے ہیں‘ اپنے پرائم ٹائم پروگرام میں ان کو بٹھاتے ہیں اور حکومت گرانے کی شہ سرخیاں سجاتے ہیں۔چینل کووقتی طور پر گرما گرم بات مل جاتی ہے مگروقت گزرنے کے بعدکوئی نہیں پوچھتا کہ ان پیش گوئیوں کا کیا بنا؟ شیخ رشیدکا سیاسی سفر چار دہائیوں پر محیط ہے، جنرل ایوب خان کے آخری برسوں میں طلبہ سیاست میں وارد ہوئے اور حکومت مخالف تحریک میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے 1985ء میں قومی اسمبلی کاپہلا الیکشن لڑااور پھرہر الیکشن میں لال حویلی نے کامیابی کا جشن دیکھا‘مسلسل چھ دفعہ جیتنے کا ریکارڈ بنایا۔انتخابی زندگی کی پہلی شکست 2008 ء میں جاوید ہاشمی کے ہاتھوں ہوئی ‘ ضمنی الیکشن ہوا تو اس میں بھی ہار گئے۔یار لوگوں کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کو پی ٹی آئی سے فارغ کراکے شیخ صاحب نے شکست کا بدلہ لے لیا ہے ۔بہرحال ‘ شکست کے بعد2008ء کے جون میں انہوں نے عوامی مسلم لیگ کے نام سے اپنی پارٹی بنا لی ۔گزشتہ عام انتخابات میں انہوں نے قومی اسمبلی کے 272حلقوں میں سے پندرہ پر اپنے امیدوار کھڑے کئے لیکن صرف اپنی نشست پر کامیابی حاصل کرپائے ‘یہاں تحریک انصاف کے ووٹوں نے انہیں آٹھویں بار قومی اسمبلی میں پہنچا دیا ۔

اپوزیشن میں گھن گرج سے حکومت کے لتے لینے والے شیخ رشید حکومت میں بھی رہے توپورے جاہ و جلال کے ساتھ۔ نوازشریف کی پہلی دونوں حکومتوں میں ان کے وزیر رہے اوربہت قریب بھی۔ اطلاعات، ثقافت، صنعت، اورریلویزان کی پسندیدہ وزارتیں رہیں۔جنرل مشرف کی چھتری تلے انتخابات میں وہ دونشستوں پر کامیاب ہوئے تو مشرف بہ حکومت ہوگئے‘پھر ان کے بھی بہت قریب ہوگئے۔ پورے دور میں ان کا جھنڈا سربلند رکھا ‘جمہوری قوتوں کو رگڑالگاتے رہے۔ انہی دنوں وزیر اطلاعات کی حیثیت انہوں نے عمران خان کی پارٹی کو تانگے کی سواریاں کہہ کر منہ چڑایا۔2005ء میں انہوں نے پیش گوئی کی کہ نون لیگ پنجاب میں صفر ہوگئی ہے ‘پیپلزپارٹی کے بارے فیصلہ آنے والا ہے اور عمران کی ایک سیٹ ہے جدھر مرضی ہے لے جائیں۔ لیکن ان کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔ اگلے انتخابات میں شیخ صاحب اپنی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان کے خیال میں صفربنی نون لیگ نے قومی اسمبلی کی 89نشستیں حاصل کیں اور صوبے میں حکومت بنائی۔پیپلز پارٹی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آیا بلکہ اس نے مرکز اور سندھ میں حکومتیں بنائیں اور پانچ سال مست ہوکر حکومت کی۔

طویل سیاسی کئیریرمیں شیخ صاحب نے اپوزیشن کی سختیاں بھی برداشت کیں، جیلوں میں بند رہے، پولیس کے دھکے کھائے۔ حکومتوں میں پروٹوکول کے نفس پروراور دل خوش کن ماحول میں رہے، سرکاری اختیارات اور وسائل کو استعمال کیا۔اقتدار کے ایوانوں کی سرگوشیاں اور سازشیں بھی دیکھیں، خاکی مداخلت کی بے عزتی بھی دیکھی اور پھر ان کی قربت کے فرحت بخش لمحات بھی۔ وہ نوازشریف کو فوجی مداخلت سے بچنے کے اور جنرل مشرف کو جمہوریت پسند قوتوں کو باہر رکھنے کے مشورے دیتے رہے۔ زندگی جامد نہیں اور سیاست بھی ۔حالات بدل گئے ‘قاف لیگ سکڑگئی‘جنرل مشرف رخصت ہوئے تو شیخ صاحب بھی قاف لیگ سے نکل آئے اور اپنی پارٹی بناکر اس کے سربراہ بن گئے۔تب شیخ صاحب کے پاس سیاست میں قابل ذکر رہنے کا صرف ایک آپشن تھا۔ان کی پارٹی تنہا الیکشن نہیں لڑ سکتی، وہ خود کسی اور پارٹی میں شامل نہیں ہوسکتے کیونکہ نون لیگ انہیں لینے کو تیار نہیں اور پیپلز پارٹی میں وہ جانے پر آمادہ نہیں، ویسے بھی راولپنڈی شہر میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک کسی کو جتوا نہیں سکتا۔ ان کے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا، عمران خان۔ چنانچہ 2012ء کے اگست میں انہوں نے راولپنڈی میں جلسہ سجایا اور عمران خان کو بلایا۔ شیخ رشید نے خطاب میں کہا: سب جانتے ہیں کہ عمران خان کرکٹ کے کوچ ہیں لیکن میں سیاست کا کوچ ہوں، میں عمران خان سے ایسے باؤنسر کراؤں گا کہ سب حیران رہ جائیں گے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے عمران خان سے سیٹیں مانگی ہیں، لیکن میں عمران خان کو سیٹیں دینے والا ہوں۔ انہوں نے حسب عادت پیش گوئی کہ آئندہ پندرہ ہفتوں میں کچھ بھی ہوسکتاہے الیکشن کا بگل بج سکتا ہے، نگران سیٹ اپ آسکتا ہے،جھاڑو پھر سکتا ہے۔ سب نے مگردیکھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، ان کی یہ پیش گوئی بھی ہوا ہوگئی۔

شیخ صاحب اپوزیشن سیاست میں پلے بڑھے،انہیں اپوزیشن کی سیاسی پھلجھڑیاں خوب چلانا آتی ہیں، پیش گوئیوں کے پٹاخے چلا کر وہ لوگوں کو چونکا دیتے ہیں، حکومت گرنے کی ہوایاں چھوڑ کر ایک دفعہ واہ واہ لیتے ہیں لیکن پھلجھڑیاں، پٹاخے اور ہوایاں چند لمحے کا تماشہ ہوتی ہیں، کسی کو یاد بھی نہیں رہتا کہ کوئی پٹاخہ چلا تھا۔ وہ احتجاجی سیاست کی تقریروں کے ماہر ہیں، جب تک احتجاجی جلسوں کی سیاست چلتی رہے گی، ان کی سیاست چمکتی رہے گی۔ جب ویژن اورتعمیر کی ٹھوس اور سنجیدہ بات ہوگی، شیخ صاحب کی دکان نہیں چلے گی۔ شیخ صاحب ٹی وی پر بیٹھ کر پیش گوئیوں کی ریوڑیاں نہ بیچیں تو کیا کریں؟ وہ ننھی منی پارٹی کے سربراہ ہیں، پارٹی کے واحد رکن اسمبلی اور شائد واحد مرکزی رہنما بھی، پارٹی کا کوئی لمبا چوڑا تنظیمی ڈھانچہ نہیں، زیادہ عہدیدار نہیں، انہیں پارٹی رہنماؤں یا کارکنوں سے ملاقاتوں کا کوئی کام نہیں۔ ملک کے اکثر علاقوں میں ان کی پارٹی کا کوئی وجود ہی نہیں تو دورے کہاں کریں، جلسے تو دور کی بات ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں سیاست کے سوا کوئی کام نہیں آتا تو پھر سیاست میں ڈسکس ہوتے رہنے کے لئے اور کیا کریں؟

دسمبر2014ء میں شیخ صاحب نے کہا کہ دھرنا حکومت کا دھڑن تختہ کردے گا، عوام نے حکومت کو مسترد کردیا ہے، لوگوں کی آہوں نے اثردکھانا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے رانا مبشر کے ٹی وی پروگرام میں کہا کہ قربانی کی عید سے پہلے قربانی ہوگی، میرے پاس کوئی تحقیقی ٹیم نہیں ، بس مجھے الہام ہوجاتا ہے اور میں کہہ دیتا ہوں کوئی فلٹر نہیں لگاتا، ایوب خان کے خلاف تحریک اتنی زوردار نہیں تھی، جتنی عمران خان اور طاہر القادری کی تحریک اور دھرناہے۔اکتوبر میں جہانزیب کے پروگرام میں کہا کہ میں نون لیگ کے اندر بڑی تبدیلی دیکھ رہاہوں، ذوالفقار کھوسہ خلاف ہوگئے ہیں اور بھی خبریں آئیں گی لیکن سب نے دیکھا کوئی خبر نہیں آئی ۔ وہ 2015ء کوانتخابات کا سال قراردیتے رہے۔کئی مہنیوں سے قربانی سے پہلے قربانی کی ’’بریکنگ نیوز‘‘ دے رہے تھے مگر ان کی ہر پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔شیخ صاحب منجھے ہوئے سینئرسیاست دان ہیں، انہیں قوم کوپیش گوئیوں کے چورن کے چسکے دینے کی بجائے تعمیر کی روشن راہیں دکھانی چاہئیں‘اپنے سیاسی اور حکومتی تجربے کی بنیاد پررہنمائی کرنی چاہئے،اس سے ان کے پروگراموں کی ریٹنگ تو شائد زیادہ نہ بڑھے مگر ان کا وقار بہت بڑھے گا۔

مزید : کالم