میرٹ وہ نہیں ہوتا جو آپ کے ذہن میں ہے

میرٹ وہ نہیں ہوتا جو آپ کے ذہن میں ہے
 میرٹ وہ نہیں ہوتا جو آپ کے ذہن میں ہے

  

میری خوش قسمتی یہ رہی ہے کہ اخباری ادارہ ہو یا کاروباری، اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہو یا پبلک سروس کمیشن کے انٹرویوز گزشتہ دو دہائیوں سے افراد کار کی سلیکشن اور انتخاب کا حصہ بن رہا ہوں، پہلی بات جو عام طور پر ہر جگہ مشترک ہے، وہ یہ ہے کہ نوجوان امیدوار کا سی وی ہی غلط اور جھوٹی معلومات لئے ہوتا ہے، پوچھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ خود نہیں بنایا تھا،کسی اور سے بنوایا یا خود ہی محنت کرنے کی بجائے فارمیٹ کہیں سے اٹھایا اور کاپی پیسٹ کرلیا، نام بدلنے سے سی وی نہیں بنتا، یہ آپ کا اصلی چہرہ ہوتا ہے، اسے تو پوری محنت اور توجہ سے خود بنانا چاہیے،کتنے واقعات کا تو میں خود گواہ ہوں کہ تعارف کروایا تو والد کا نام الطاف احمد بتایا، سی وی پر لکھا ہوا تھا، جمال خان،پوچھا کہ اصل ابا کون ہے، ایسے میں شرمندگی سے سر نہیں اٹھتا، جب بتانا پڑتا ہے کہ کسی کے سی وی پر نام اور پتہ بدل کر بھیج دیا تھا۔ دوحہ میں کاروباری کمیونٹی کے دوستوں نے بتایا کہ ایسا سی وی دیکھ کر وہ بجا طور پر سوچتے ہیں کہ اس لڑکے کی سیریس نیس کا عالم یہ ہے کہ اپنا سی وی تک بنانے میں وقت صرف نہیں کر پایا،اسے دوبارہ ڈھنگ سے پڑھا تک نہیں، اس کا لیٹسٹ یا جدید فارمیٹ تک بنانا نہیں آتا، اسی بے دھیانی میں اپنے باپ کا نام تک بدل نہ پایا، اس لڑکے کو کیسے کوئی اہم اور وائیٹ کالر جاب یا ٹاسک دینے کا رسک لیا جا سکتا ہے؟

دوسری بات یہ ہے کہ باہر کی دنیا میں ڈگری کو بڑا سیریس لیا جاتا ہے، اسی لئے اس کی تنخواہ اور پروٹوکول اچھا اور مختلف ہوتا ہے، ہمارے بچے نے جس مضمون میں ڈگری لی ہوتی ہے، اسی کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں ، انٹرویا میں پوچھے گئے سوال کاعام جواب ہوتا ہے۔

’’جی پڑھے کافی عرصہ ہوگیا، اب تو کچھ یاد نہیں‘‘ اور حیران کن بات یہ ہوتی ہے کہ یہ عرصہ ایک آدھ سال ہی ہوتا ہے، اس مضمون میں جدید ترین ریسرچ کیا ہو رہی ہے، معلوم نہیں،کوئی نئی کتاب اور نیا مصنف جس نے اسی مضمون کی باڈی آف دی نالج میں کچھ نیا شامل کیا ہو، اضافہ کا باعث بنا ہو، جواب نفی میں ہوتا ہے، اس مضمون میں زیادہ کام کس نے کیا،کس کی کتابیں پڑھ کر ڈگری مکمل کی، جواب ہوتا ہے، کتاب ایشو تو کروائی تھی، پوری طرح سے پڑھ نہیں سکا، وقت ہی نہیں ملا،، اگر کچھ پڑھی بھی تھی تو مصنف کا نام کبھی نہیں دیکھا ،عام طور پر تو استاد کے نوٹس ہی لے لیتے تھے۔ شائد ہی کوئی اتنا سمجھدار ہو کہ انٹرویو کی تیاری کے لئے چند گھنٹے گوگل بابا کے ساتھ گزار کر آیا ہو، وہاں تو تازہ بہ تازہ معلومات ہی اتنی ہوتی ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے۔

تیسری بات ہمارے بچوں کے انٹرویوز عام طور پر اچھے نہیں ہو پاتے، اس کی وجہ کوئی اور نہیں انٹرویو دینے والے خود ہوتے ہیں۔ زبان کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ثابت ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ زیادہ افسوس ناک بات یہ ہوتی ہے کہ اپنی بات، زندگی کے مقاصد اور اپنی خوبیاں تک نہیں بتا پاتے۔ یہاں تک کہ یہ تک نہیں کہہ سکتے کہ ’’سر موقع ملا تو میری جلد سیکھنے کی چاہت دیکھ کر آپ حیران ہو جائیں گے، میں ایک قابل بھروسہ ورکر بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہوں‘‘۔ جاب دینے والوں کا لازمی خیال یہی ہوتا ہے کہ یہ اتنا لتھارجک یا سست اور کاہل ہے کہ کوئی بھی ذمہ داری نبھانے میں اسے مشکل ہوگی،کسی ٹارگٹ کو کیسے پورا کرے گا،کوئی چیلنج قبول ہی کیسے کرے گا، ملٹی ایتھنک کلچر[مختلف مذاہب اور زبانوں کا کلچر] میں اس کا گزارا ہو بھی سکے گا کہ نہیں۔ دوسروں کی رائے اور مزاج کا ہی نہیں مذہب کابھی فرق ہوگا تو یہ کیسے ایڈجسٹ ہوگا، مخلوط ماحول میں کسی سے بات کر بھی سکے گا یا نہیں کسی کو کام کیسے کہے گا، کیسے کروائے گا، انگریزی زبان کیسے بولتا ہے، ایکسپوژر کتنا ضروری اور کس قدر اہم ہوجائے گا، اسی روز پتا چلتا ہے، جب گنوانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارے الزامی سیاسی کلچر سے جانے والے بچے سب سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں، جب وہ حسب عادت اپنے تعلیمی ادارے اور تعلیمی نظام کو اپنے بے وقعت تبصروں کی زد پر رکھ لیتے ہیں، جو ان کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب یہ سب ہو رہا ہوتا ہے، انڈیاوالا لڑکا بھی وہاں انٹرویو کے لئے موجود ہوتا ہے، وہی27 برس کی عمر اور پانچ برس کا تجربہ، اسے اسی وقت بڑی آسانی کے ساتھ سات آٹھ ہزار ریال مل جاتے ہیں، تجربہ، زبان، ڈرائیونگ لائسنس اور مینجمنٹ سے متعلق کورسز، یہ سب اس کے پلس پوائنٹس ہوتے ہیں۔

اسی لئے میں پورا زور دے کر کہتا ہوں کہ اپنے خاندان کی حالت بدلنی ہے توانٹر کے بعد ہر صورت باہر چلے جاؤ، آٹھ دس سال لگاؤ، دل لگ جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ واپس آجانا، ملک اور معاشرے کو آپ کے جانے میں زیادہ فائدہ ہے نہ کہ یہاں بے روزگاری اور بے سمتی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا۔ اگر آپ خوش بخت ہیں، تو جاتے ہوئے زندگی کا مقصد ساتھ لے کر جایئے، ڈٹ کرکام کیجئے، دوسروں کی خدمت کریں، اداروں میں اپنی جگہ بنایئے اور اپنے مزاج اور کردار کا ان کو گرویدہ بنا کر اپنے جیسا بنانے کی کوشش بھی کریں، آپ کا دین کا فہم اور سمجھ آپ کو ایکٹو رکھے گی اور ہمیشہ غلط کاموں اور لوگوں سے بچنے اور اچھا کرنے کی طرف جانے میں مدد کرے گی۔اسی لئے آپ کا اندر سے مضبوط ہونا، اپنے رب سے جڑا ہونا، آنحضور ﷺ کی محبت سے سرشار ہونا اور ایک اچھی زندگی بسر کرکے اپنے والدین اور پھر اپنی اولاد کے لئے آسودگی کا باعث بننا آپ کو ایک کارآمد انسان بنا دے گا، براہ کرم وہاں جاکر کسی فرقے اور برادری کی نمائندگی مت کیجئے گا۔ ایک پریکٹیکل مسلمان کے طور پر ایک صاف دل معاون، نرم مزاج اور مخلص انسان کی پہچان پایئے گا۔ پاکستان کی بدنامی اور رسوائی کا کبھی باعث مت بنئے گا، آپ کا قابل تعریف رویہ وطن عزیز کا اچھا اور عمدہ چہرہ پینٹ کرے گا۔

سعودی عرب میں دونوں مقدس مقامات کو چھوڑ کر ہندوستان سے آنے والے لوگ اس قدر زیادہ ہیں کہ حیرت ہوتی ہے، جدہ، دمام، ریاض ہر جگہ اور ہر پوزیشن پر، وہ صرف اپنے آپ سے، بلکہ اپنے لوگوں سے آخری حد تک مخلص ہیں۔ ان کی محنت اب جاپانیوں اور چینیوں کی طرح مشہور ہو رہی ہے۔ان کی کارکردگی یورپ اور امریکہ میں بھی بہت اچھی جارہی ہے اور وہاں وہ معمولی اور چھوٹی پوزیشنز پر نہیں ہیں، یاد رہے کہ آج کی دنیا کے دس بڑے سی ای اوز کا تعلق بھارت سے ہے۔گلگت بلتستان کے کل دس اضلاع ہیں، چند ماہ قبل میں وہاں کیریر کونسلنگ پر سیمینار کرنے گیا نہ ہوتا تو ساری عمر خبر بھی نہیں ہونی تھی کہ یہاں کی جغرافیائی اور انتظامی تقسیم کیا ہے۔ [گلگت کے چھ اضلاع ہیں] ۱۔

گلگت2۔ دیا میر3۔ استور4۔ غیزر5۔ نگر، نگار6۔ ہنزہ اور[بلتستان کے چار اضلاع] 7۔سکردو8۔گانچی9۔شگر 10۔ کھارمک،یہ اضلاع پہلے سے موجود تھے، صرف مجھے خبر نہیں تھی، جونہی پروفیسر نقیب صاحب نے بتانا شروع کیا میں نے پوری توجہ سے نوٹ کر لیا۔ اسی طرح ہمارے آپ کے کیرئیر کے بارے میں حقائق کا تعلق ہے، یہ سبھی ان اضلاع کی طرح موجود ہوتے ہیں، صرف ہمیں ہی خبر نہیں ہوتی، کیونکہ اول تو واسطہ نہیں پڑا ہوتا دوسرا ہم نے کبھی دھیان اور توجہ کے اسے قابل ہی نہیں سمجھا ہوتا یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ نوکری کے لئے جانے والے مسترد کئے جانے کے بعد میرٹ کا بڑا رونا روتے ہیں، بابا میرٹ وہ نہیں ہوتا جو آپ کے ذہن میں ہے، میرٹ جاب دینے والے ادارے کی ضرورت اور مطلوبہ صلاحیت اور ہنر ہو تا ہے، اچھے رویے اور عمدہ طرز عمل سے جڑا ہوتا ہے، آپ کے سیکھنے کی اہلیت اور اکٹھے کام کرنے اور میرٹ دوسرے کو برداشت کرنے کی خوبی ہوتی ہے، صرف کسی ڈگری کے کم زیادہ نمبروں کومیرٹ نہیں کہا اور سمجھا جاتا ۔

اس وقت گوگل کا چیف ایگزیکٹیو ’’سندر راجن پچائی‘‘ ہے، جس کا تعلق بھارت سے ہے۔ اس کی سالانہ تنخواہ پاکستانی روپے میں 2 ارب روپے [انیس کروڑ نوے لاکھ ڈالر سالانہ] سے زائد بنتی ہے۔ یہ اس وقت دنیا میں میرٹ پر سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم ہے۔ بچپن میں دو کمروں کے گھر میں چٹائی پر بیٹھ کر پڑھنے والا یہ لڑکا کس طرح گوگل کا سی ای او بنا یہ بذات خود محنت اورتخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کی ایک شاندار کہانی ہے اور اس کا تعلق تامل ناڈو کے شہر مدورائی سے ہے۔اس نے غربت میں آنکھ کھولی، گھر دو کمروں کا فلیٹ تھا، اس فلیٹ میں اس کا ٹھکانہ ڈرائنگ روم کا فرش تھا، وہ فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا، وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تھا تو وہ سرہانے سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی سو جاتا تھا، ماں کے ساتھ مارکیٹ سے سودا لانا، گلی کے نلکے سے پانی بھرنا، پڑھائی کے ساتھ ساتھ تار سے سوکھے کپڑے اتارنا اور گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو بھگانا بھی اس کی ذمہ داری تھی، گھر کی مرغیوں اور ان کے انڈوں کو دشمن کی نظروں سے بچانا بھی اس کی ڈیوٹی تھی اور شہر بھر میں کون سی چیز کس جگہ سے سستی ملتی ہے، یہ تلاش بھی اس کا فرض تھا اور باپ اور ماں دونوں کی جھڑکیاں کھانا بھی اسی کے ذمے تھا، وہ بارہ سال کا تھا جب اس کے گھر ٹیلی فون لگا، اس فون نے اس کا کام اور بھی بڑھا دیا، لوگ اس کے گھر فون کر کے بلاک کے دوسرے فلیٹس کے لئے پیغام چھوڑتے تھے اور وہ یہ پیغام پہنچانے کے لئے اٹھ کر دوڑ پڑتا تھا، وہ جوانی تک ٹیلی ویژن اور گاڑی کی نعمت سے بھی محروم رہا، اس کا والد پوری زندگی کار نہیں خرید سکا، لیکن آج وہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن گوگل کا سی ای او ہے، جس کی مالیت 554 ارب ڈالر ہو چکی ہے، جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 74 بلین ڈالر ہے، اور اسی گوگل میں وہ دنیا کا سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم ہے۔ ایسے کئی ہیرے ہمارے بھی ہیں، مگر ہمیں شک کرنے اور تنقید کے تیر برسانے سے ہی فرصت نہیں ملتی تعریف اور شاباش کے لئے کیسے وقت نکالیں، جبکہ ہم تو یہی نہیں مانتے کہ میرٹ وہ نہیں ہوتا، جو آپ کے ذہن میں ہے۔

مزید :

کالم -