شمالی کوریا کی آڑ میں چین کا گھیراو

شمالی کوریا کی آڑ میں چین کا گھیراو
شمالی کوریا کی آڑ میں چین کا گھیراو

  

  شمالی کوریا کے مسئلہ کو  لے کر امریکیوں نے خوب شور مچایا  ہے ۔ پورا کوریائی پنسلولہ اس وقت تباہی کے دھانے پر کھڑا نظر آ رہا ہے-امریکی مندوب برائے اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کو شدید الفاظ میں دھمکیاں بھی دی ہیں -اس کے باوجود شمالی کوریا کسی بھی دباو  میں آنے کے لیے تیار نہیں

-امریکیوں کی اس علاقہ میں دلچسپی بہت پرانی ہے-ایک طرف جنوبی کوریا ہے تو دوسری طرف جاپان ہے، جو اس کے قریبی حلیف ہیں اسی لیے امریکیوں کے اس علاقے سے مفادات منسلک ہیں-امریکہ کو چین کا خطرہ لاحق ضرور ہے لیکن امریکی معیشت اب چین کی مرہون منت ہے- ایسے میں امریکہ کسی لمبے تنازعہ کا متحمل نہیں ہو سکتا- اسی لیے امریکہ نے اپنے اتحادی اکٹھا کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ حالات سے نبردآزما ہوا جا سکے-لیکن  حقیقت یہ ہے کہ وہ ابھی تک واضح دباو کو بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے-

   شمالی کوریا دباو  بڑھتے ہی  دباو کو کم کرنے کے لیے ایٹمی دھماکوں اور میزائیلوں کا سہارا لے لیتاہے لیکن اس  صورتحال سے معاملات مزید کشیدہ اور سنگین ہوتے جا رہے ہیں - دوسری طرف امریکہ بھی دباو بنانے کے لیے جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر جنگی مشقوں میں مصروف ہے-چین اس صورتحال میں دونوں فریقین کو تمام کارروائیاں منجمد کرنے کا مشورہ دے رہا ہے جس کو امریکہ نے رد کر دیا ہے -چین نے  حال ہی میں تاحد نامی امریکہ میزائیل شکن میزائیل کی  تنصیب پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا- چین کو ان میزایلوں کی تنصب پربھی سخت تحفظات تھے-ان  میزایلوں کے ساتھ لگا ریڈار  بہت طاقت ور ہے جس سے چین کی نگرانی ہو سکے گی-ان میزایلوں نے بھی معاملات کو بہت سنگین بنا دیا ہے-

 شمالی کوریا کے بڑھتے ھوئے تنازعہ  کا سب سے  زیادہ نقصان چین کو ہو گا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اس علاقہ میں آ کر بیٹھ گیا ہے اور اگر جنگ چھڑ  گئی تو  اس کی ساری تجارت وقتی طور پر ہی سہی مگر رک جائے  گی-امریکہ چین پر دباو ڈال رہا ہے کہ وہ اپنی تمام کمپنیوں کو شمالی کوریا سے کام کرنے سے روکے-لیکن چین اس صورتحال میں امریکیوں کے لیے کوئی سہولت پلیٹ میں رکھ کے دینے کو تیار نہٖیں-

یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی کوریا پر حملہ ہو جائے تو چند لمحوں مٖیں سیول جسیا شہر کھنڈر بن سکتا ہے -جس کی آ بادی ڈھائی کروڑ ہے -اگرچہ جنوبی کوریا بھی ہر طرح سے تیار ہے- امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں جن پر چوبیس ہزارامریکی فوجی  تعینات ہیں لیکن جو ملک پہل کر گیا وہ ہی بچ سکے گا- چین کے لیے دونوں کوریا بہت اہم ہیں چین کی پانچ ہزار سے زاید  کمپیناں دونوں کوریا میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں- اس سرمایہ کاری کی مالیت اربوں ڈالر ہے-چین پر شمالی کوریا کی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے  لیکن چین اس نئے دور میں جنوبی کوریا کے ساتھ تجارت اور ثقافت مٖیں بہت قریبی دوست بن چکا ہے-

روس اس سارے معاملے میں بہت محتاط  نظر آتا لیکن وہ اس معاملے میں بہت اطمینان سے کھیل رہا ہے-کیونکہ اگر جنگ ہوتی ہے تو سب سے زیادہ فائدہ میں روس ہو گا -کیونکہ اس کے سارے دشمن اس آگ کی نذر ہو سکتے ہیں-

جاپان بھی اس ساری دوڑ کا حصہ ہے۔ اس کی فوجی تیاری بھی کچھ کم نہیں لیکن جاپان کسی بھی صورت جنگ میں جانے کو تیار نہیں  اس کی بڑی وجہ ایٹمی دھماکہ بھی ہے جس کی یاد ابھی تک جاپانی نہیں بھلا سکے.جاپان نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں کی تھیں جس پر چین نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن حالات کے تحت جاپان نے جنگ عظیم دویم کے بعد پہلی مرتبہ اپنی فضیائیہ اور بحریہ کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے. اور جاپان کی  بحریہ جنگ عظیم دویم کے بعد پہلی بار کھلے پانیوں میں آ ئی ہے۔اس ساری صورتحال کا فائدہ امریکی حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ چین کو گھیرا جا سکے - اگر یہاں لڑائی شروع ہو تو نقصان بہت زیادہ ہو گا جس سے امریکی بھی محفوظ نہ رہ سکیں گے.

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -