’میں اُس علاقے سے آیا ہوں جہاں سے برمی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو نکالا، میں نے دیکھا ہے اب وہاں پر۔۔۔‘ معروف بین الاقوامی صحافی روہنگیا کے آبائی علاقوں میں پہنچنے والا پہلا غیر ملکی بن گیا، وہاں کیا منظر ہے؟ جان کر شاید مسلمان جاگ جائیں

’میں اُس علاقے سے آیا ہوں جہاں سے برمی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو نکالا، میں ...
’میں اُس علاقے سے آیا ہوں جہاں سے برمی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو نکالا، میں نے دیکھا ہے اب وہاں پر۔۔۔‘ معروف بین الاقوامی صحافی روہنگیا کے آبائی علاقوں میں پہنچنے والا پہلا غیر ملکی بن گیا، وہاں کیا منظر ہے؟ جان کر شاید مسلمان جاگ جائیں

  



بنکاک(مانیٹرنگ ڈیسک) صحافیوں کو میانمار کی ریاست راکھین جانے کی اجازت نہیں ہے جہاں میانمار کی فوج اور بودھ شدت پسند روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ دنوں حکومت کی طرف سے چندغیرملکی صحافیوں کو اپنی نگرانی میں بعض مخصوص دیہات کا دورہ کروایا گیا۔ ان صحافیوں میں بنگلہ دیش کی منیزہ نقوی، تھائی لینڈ کے گرانٹ پیک اور بھارت کے اشوک شرما و دیگر شامل تھے۔ یہ پہلے غیرملکی صحافی تھے جو راکھین کے متاثرہ علاقوں میں گئے۔ واپس آ کر گرانٹ پیک نے بتایا کہ ”ہم اس علاقے سے واپس آ رہے ہیں جہاں سے برمی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان دیہات میں ہم نے دیکھا کہ وہاں کوئی باشندہ نہیں تھا۔ دیہات بالکل خالی پڑے تھے۔ ان میں موجود گھروں کو آگ لگائی گئی تھی جس سے ابھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ دیہات میں مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید کے اوراق پھاڑ کر ادھر ادھر پھینک دیئے گئے تھے۔“

مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن اس آدمی کا روہنگیامسلمانوں کے قتل عام میں کیا کردار ہے ؟جان کر آپ اس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہ کریں گے

گرانٹ پیک کا مزید کہنا تھا کہ ”برمی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ روہنگیا مسلمان جان بوجھ کر اپنے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں لیکن ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں کہ ان دیہات سے تمام مسلمان ہجرت کر چکے تھے، اس کے باوجود ان کے گھروں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ کس نے لگائی؟ اور کوئی بھی مسلمان اپنی مقدس کتاب کو پھاڑ کر نہیں پھینک سکتا۔ یہ تمام شواہد اس حکومتی دعوے کی نفی کر رہے ہیں۔“واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک 1لاکھ 64ہزار روہنگیا مسلمان ہجرت کرکے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں اور ہزاروں قتل کیے جا چکے ہیں، لیکن میانمار کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف چند سو شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ برمی حکومت کی طرف سے بھی اپنی فوج کے دعوے کی حمایت کی جا رہی ہے اور الٹا مظلوم روہنگیا مسلمانوں پر اس پرتشدد صورتحال کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی