یہ جنگ ہماری نہیں تھی،لیکن ہمیں لڑنی کیوں پڑی؟

08 ستمبر 2018

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کسی دوسرے مُلک کی جنگ نہیں لڑے گا،جس طرح پاک فوج نے ہمیں اِس جنگ سے نکالا اِس پر ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، ہمارا کام ہے اپنے لوگوں کے لئے کھڑے ہوں، ہماری خارجہ پالیسی بھی پاکستان کی بہتری کے لئے ہو گی،مَیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کے خلاف تھا،لیکن جس طرح سے پاکستان کی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں، دُنیا میں کسی بھی فوج نے حاصل نہیں کیں،مَیں شہدائے وطن کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، فوج ایسا ادارہ ہے،جہاں میرٹ کا نظام ہے، جب ملکی ادارے تباہ ہوتے ہیں تو مُلک تباہ ہوتا ہے،بمباری مُلک کو تباہ نہیں کرتی،جرمنی اور جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے، دس سال بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے،کیونکہ ادارے فعال تھے۔ اب ہم نے اپنے ادارے مضبوط کرنے ہیں۔ یہ مُلک اُٹھے گا اور ایک عظیم قوم بنے گا۔ میرا جینا مرنا اِس مُلک کے لئے ہے، یہ مُلک اوپر جائے گا تو مَیں اوپر جاؤں گا یہ مُلک نیچے جائے گا تو مَیں بھی نیچے جاؤں گا۔انہوں نے یہ باتیں جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہیں،جہاں شہدا کے لواحقین بڑی تعداد میں شریک تھے اور اُن کی یاد میں اُن کی آنکھیں نم آلود تھیں،آنسوؤں کے موتی اُن کی آنکھوں میں جھِلملا رہے تھے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نقطہ آغاز اگر تلاش کیا جائے تو یہ وہ دن ہے جب امریکہ نے 7 اکتوبر2001ء کو افغانستان پر بمباری شروع کی اور ایک ماہ تک مسلسل تباہ کن بمباری کے نتیجے میں وہاں طالبان کی حکومت تِتر بتر ہو گئی،جس کے بعد امریکہ نے بتدریج اپنی گراؤنڈ فورسز بھی افغانستان میں داخل کر دیں اور کابل کی حکومت پر حامد کرزئی کو بٹھا دیا۔امریکہ کی شروع کردہ اِس جنگ میں پاکستان نے اس کا ساتھ دیا،اتفاق سے اُس وقت مُلک پر ایک فوجی صدر کی حکومت تھی، جو صدر ہونے کے ساتھ ساتھ آرمی چیف کے منصبِ جلیلہ پر بھی فائز تھے۔انہوں نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا تھا اور اِسی کی تکمیل کرتے ہوئے انہوں نے مُلک کے مفاد کو محفوظ بنانے کے لئے ہی امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ کرتے وقت اور بعد میں کئی مواقع پر بھی انہوں نے یہی کہا کہ امریکہ کا ساتھ دے کر انہوں نے مُلک کے مفادات اور سٹرٹیجک اثاثے محفوظ بنا لئے ہیں،اپنے اس فیصلے کا دفاع وہ سینہ تان کر اپنے پورے دورِ حکومت میں بھی کرتے رہتے تھے اور آج تک اپنے اس فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور جہاں کہیں اُنہیں اظہار خیال کا موقع ملتا ہے وہ ایسا ایسے ہی کہتے ہیں جب وہ صدرِ مملکت تھے تو اگر کہیں صحافیوں اور دانشوروں سے اُن کا سامنا ہوتا تو ترنگ میں آ کر یہ بھی پوچھ لیا کرتے تھے کہ آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟اس کا جواب وہ یہی سننا چاہتے تھے کہ اگر آپ ہوتے تو بھی یہی فیصلہ کرتے، جو مَیں نے کیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دینے کا جو فیصلہ کیا وہ جتنی بھی نیک نیتی سے کیا گیا ہو، اور اس سے جتنی بھی اچھی توقعات وابستہ کی گئی ہوں، امر واقعہ یہ ہے کہ اس کے نتائج ہمارے حق میں نہیں نکلے، یہ درست ہے کہ ہماری بہادر مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں قربانیوں کی عظیم الشان تاریخ رقم کی، جس کے اپنے پرائے سبھی معترف ہیں۔امریکہ میں بھی صائب فکر حلقے اِن قربانیوں کا ذکر اچھے الفاظ میں کرتے اور اُن کا اعتراف کرتے ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے تو ایک بار کھل کر اعتراف کیا تھا کہ امریکہ نے روس کے واپس جانے کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ کر بڑی غلطی کی تھی نہ صرف امریکہ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا،بلکہ اب اس کا ازالہ بھی کرنا چاہئے،لیکن ستم ظریفی یہ ہوئی کہ امریکہ میں وہ الیکشن ہار گئیں اور صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھال کر اپنی افغان پالیسی اِس انداز میں بدل دی کہ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف تو کیا کِیا جاتا، اُلٹا پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا جانے لگا اور کہا جانے لگا کہ اُس نے اپنے ہاں دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور انہوں نے اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنائی ہوئی ہیں۔یہ ٹرمپ کی پالیسی کا ہی کِیا دھرا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا امریکی وزیر خارجہ پاکستان سے یہ دہرا رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے۔

یہ درست ہے کہ دہشت گردی کی جنگ ہماری نہیں تھی،لیکن جب اِس جنگ میں پاکستان نے امریکہ کو اپنی سرزمین، اپنے ہوائی اڈے اور اپنی فضائیں پیش کر دیں تو سمجھا گیا کہ پاکستان اِس جنگ میں امریکہ کے ساتھ پوری طرح شریک ہے،چنانچہ پاکستان پر دہشت گردانہ حملے شروع ہو گئے، خود جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ دہشت گردی کی اِس جنگ سے پہلے پاکستان کی سرزمین پر کبھی کوئی خود کش حملہ نہیں ہوا تھا گویا ہمیں ان حملوں کی صورت میں جس تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا اور جس کے نتیجے میں ہمارے خوبصورت فوجی جوان اور افسر شہید ہو گئے،ہمارے شہری بڑی تعداد میں شہید ہوئے،ہماری املاک کو نقصان پہنچا،ہمارے کھیلوں کے میدان اُجڑے،ہماری مارکیٹیں سنسان ہوئیں،ہماری دفاعی تنصیبات پر حملے ہوئے اور اِس طرح کے سارے دہشت گردانہ حملوں کا سامنا ہمیں اِس جنگ میں شرکت کے بعد ہی ہوا،پہلے ہم اس سے مامون و محفوظ تھے،شروع میں اگر یہ جنگ ہماری نہیں بھی تھی تو بھی ہماری اپنی قیادت کے فیصلوں کے نتیجے میں ہی ہمارے گلے پڑ گئی تھی،ایسی صورت میں ظاہر ہے پاکستان کو اِس کا مقابلہ کرنا تھا،کیونکہ مُلک کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، اِس لئے وزیراعظم عمران خان جب یہ کہتے ہیں کہ ہم غیروں کی جنگ نہیں لڑیں گے تو موجودہ حالات میں بالکل درست بات کرتے ہیں،لیکن آئندہ درست فیصلوں کے لئے انہیں اِس سوال کا جواب ضرور حاصل کرنا چاہئے کہ غیروں کی یہ جنگ پاکستان کی جنگ کس طرح بن گئی اور پاکستان کو اپنے گلے میں پڑا ہوا یہ ڈھول کیوں بجانا پڑا،وہ کون سے فیصلے تھے جن سے ہم نے نیک توقعات باندھی تھیں،لیکن اُن کا نتیجہ برعکس نکلا، یہاں تک کہ ہماری فوجی قیادت کو کھل کر یہ کہنا پڑا کہ پاکستان نے جتنی قربانیاں دے دی ہیں اب ان سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ ’’ڈو مور‘‘ کیا جا سکتا ہے، اب ڈو مور کی اگر ضرورت ہے تو دُنیا کو ہے۔

وزیراعظم کو چاہئے کہ اِن حالات کا دقتِ نظر سے مطالعہ کریں جن کی وجہ سے پاکستان اِس جنگ میں، جو ہماری جنگ نہیں تھی، کود پڑا، اِس کے جواب میں پاکستان کو جن حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا وہ اسی فیصلے کا نتیجہ تھا۔امریکہ نے افغانستان پر حملے سے پہلے اِسی قسم کا تعاون بھارت سے بھی طلب کیا تھا،لیکن وہ ہوشیاری سے پہلو بچا گیا، دہشت گردی کی جنگ کے جواب میں ہونے والی دہشت گردی سے بھی محفوظ رہا اور چالاکی کے ساتھ امریکہ کی گڈ بُک میں بھی آ گیا اور اب حالات یہ ہیں کہ امریکہ پاکستان کو تو ’’فیصلہ کن اقدامات‘‘ کے مشورے دے رہا ہے اور بھارت کے ساتھ فوجی معاہدے، جنگی مشقوں کی منصوبہ بندی اور جدید اسلحہ بھی فروخت کر رہا ہے اور بھارت کے ناز نخرے بھی اُٹھا رہا ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپنا ہی گھر لُٹا کر نقصان میں کون رہا اور کچھ نہ کر کے بھی فوائد کی ساری فصل کِس نے کاٹ لی، وزیراعظم اِس معاملے پر غور کر لیں اُنہیں سب کچھ معلوم ہو جائے گا اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہزاروں جانیں قربان کرنے کے بعد اب کیوں کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان کبھی کسی کی جنگ نہیں لڑے گا،جہاں تک اداروں کا تعلق ہے ان کی مضبوطی میں تو کوئی کلام نہیں، دیکھیں وہ کِس طرح یہ مرحلہ سر کرتے ہیں۔

مزیدخبریں