فوج اور حکومت بالآخر ایک پیج پر

08 ستمبر 2018

نسیم شاہد

یوم دفاع و یوم شہدا کی جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب اپنے انتظام و انصرام اور پیش کئے گئے پروگرام کے حوالے سے تو منفرد و یادگار تھی ہی، تاہم پہلی بار اس تقریب میں وزیر اعظم کی شرکت نے اسے اہمیت کے لحاظ سے دوچند کر دیا۔ تقریب میں وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے مجھے گزشتہ برس کی تقریب یاد آئی، جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا خطاب انتہائی لب و لہجے کا حامل تھا، جس میں انہوں نے پاکستان کے اندر اور باہر پاکستان کی سلامتی اور فوج کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو سخت پیغام دیا تھا، اس بار اُن کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا، نرمی و اطمینان تھا۔۔۔کہا جاتا ہے کہ چھ ستمبر کو یوم دفاع کی تقریب ماضی میں چونکہ صرف فوج کے شہدا کی قربانیوں اور جوانوں کو حوصلہ دینے کے لئے منعقد کی جانی تھی، اس لئے فوج کے سپہ سالار کے بعد کسی اور کے خطاب کی گنجائش نہیں بنتی تھی، مگر اس مرتبہ سارا منظر تبدیل ہوگیا۔

چیف آف آرمی سٹاف مہمان خصوصی سے میزبان بن گئے اور مہمان خصوصی کی نشست وزیر اعظم عمران خان کے لئے چھوڑ دی۔ پھر اس تقریب کی اہمیت یوں بھی بڑھ گئی کہ اس میں پارلیمنٹیرینز کے ساتھ ساتھ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی موجودگی نے صحیح معنوں میں اس تقریب کو سول و ملٹری قیادت کا مشترکہ خراجِ عقیدت بنادیا جو شہدائے پاکستان کو پیش کیا گیا۔ اس سے پہلے جب فوج کی طرف سے یوم دفاع و شہدا کو بڑے پیمانے پر منانے کا اعلان کیا گیا تو یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ شہدا میں صرف فوج کے افسرو جوان ہی شامل نہیں،بلکہ دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ جانے والے سیاستدان، طالب علم، پولیس کے جوان اور افسران بھی شامل ہیں، یوں اس بار یوم شہدا کا دائرہ بہت بڑھا دیا گیا تھا۔ ایسے میں یہ ضروری تھا کہ جی ایچ کیو میں ہونے والی روائتی تقریب کو بھی نیا رنگ اور نئی سوچ دی جائے، یوں پورے پاکستان کی نمائندگی یوم دفاع کی تقریب میں نظر آئی۔

شکر ہے کہ جس نئے پاکستان کا ہم روز و شب ذکر سن رہے ہیں، اُس کی شروعات بھی ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پاکستان وہ ملک ہے، جس کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے، ایسی فوج جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے لحاظ سے دنیا کی منتظم فوجوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتی ہے، لیکن ہماری یہ بدقسمتی بھی رہی ہے کہ یہاں فوج کے بارے میں منفی تصورات پائے جاتے ہیں، اس کی وجہ ہماری تاریخ کے تاریک ادوار ہیں، جن میں جرنیلوں نے اقتدار سنبھالا اور جمہوریت کو پھلنے پھولنے نہ دیا۔ اسی تاریخی تناظر کی وجہ سے سول و ملٹری کشیدگی نے جنم لیا، غلط فہمیاں اور بے اعتمادی اتنی بڑھی کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف ایک ساتھ بھی ہوتے تو ایک ساتھ نظر نہ آتے۔ یوں لگتا دو متحارب فریق مجبوراً ایک دوسرے سے مل رہے ہیں، اس کشیدہ فضا سے اس تاثر نے قدم جمائے کہ پاکستان میں فوج سول حکومت پر بالادستی چاہتی ہے اور اُسے اپنا غلام رکھنا اُس کی عادت بن چکی ہے۔ یہ تاثر پوری دنیا میں پھیل گیا اور بڑے ممالک کو خاص طور پر یہ اُلجھن رہی کہ معاملات کس سے طے کریں؟۔۔۔

سول حکومت سے معاملات طے کریں تو کیا فوج انہیں تسلیم کرے گی، خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی کے لحاظ سے بھی یہ تقسیم جاری رہی۔ یہ تو معلوم نہیں کہ جمہوری حکمرانوں پر اندر خانے کتنا دباؤ ہوتا ہوگا، لیکن بظاہر یہی لگتا تھا کہ سول حکمران بلاوجہ فوج کے ساتھ کشیدگی بڑھا رہے ہیں، اسے اپنا قومی ادارہ نہیں سمجھ رہے۔ پھر چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ آصف علی زرداری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ پھٹ پڑے، انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا بیان دے دیا۔ دوسری طرف ایک وقت ایسا آیا کہ نواز شریف کھل کر جرنیلوں کے سامنے آگئے، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اختلافات بڑھتے چلے گئے، حتیٰ کہ ڈان لیکس جیسی رپورٹ کے ذریعے یہ تک کہہ دیا گیا کہ دہشت گردی اور خطے میں امن کے موضوع پر سول حکومت کی پالیسی اور ہے اور فوج دوسری طرف کھڑی ہے۔ گویا حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ ایک ساتھ بیٹھنے پر بھی اعتماد کی فضا جاتی رہی تھی۔

اس پس منظر میں جی ایچ کیو کی یوم دفاع پر تقریب ایک بدلے ہوئے منظر نامے کی خبر دے گئی ہے۔ فوج نے سول وجمہوری قیادت کو بلاکر یہ عندیہ دے دیا ہے کہ فوج جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑی ہے، اُن کے ساتھ چلنا چاہتی ہے۔ پہلے جی ایچ کیو کی آٹھ گھنٹے ہونے والی بریفننگ کے دوران اور اب اس تقریب میں وزیر اعظم کو عزت و مرتبہ دے کر فوج نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ ہے، اس کی حریف نہیں۔ یہ اس سفر کی انتہا ہے جو دس سال پہلے فوج نے اپنی سوچ میں تبدیلی کے لئے شروع کیا تھا، جس کی وجہ سے پاکستان میں دو منتخب حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور تیسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل ہوچکا ہے۔ ہم نے پاکستان سے بہت زیادہ کھلواڑ کرلیا ہے، اس میں الگ الگ مورچے بناکر ایک دوسرے پر فائر کئے ہیں۔

دنیا ہمارا تماشا دیکھتی رہی ہے، یہ تو خوش قسمتی تھی کہ فوج تقسیم نہیں ہوئی اور اس نے اپنی طاقت برقرار رکھی، اگر اس میں بھی کمزوری آجاتی تو نجانے وطن دشمن قوتوں کے ہاتھوں پاکستان پر کیا گزرتی؟۔۔۔دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کو مطلق العنان اختیارات حاصل ہو جائیں، امریکی صدر بھی طاقتور ہونے کے باوجود من مانی نہیں کرسکتا۔ پاکستان میں یہ تصور بھی غلط پیدا ہوا کہ یا فوج کلی طاقتور ہوگی یا پھر منتخب حکومت۔ حالانکہ آئین نے ایسے بے شمار چیک اینڈ بیلنس رکھے ہوئے ہیں کہ سب کو ایک خاص حد تک ہی اختیارات دیئے گئے ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آئین کے دائرے میں رہ کر کام کیا جائے، تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جن حدود و قیود کا تعین کردیا گیا ہے، اُن کی پابندی کی جائے۔ 71 برسوں میں ہم نے سب تجربات کرلئے ہیں اور ہر شوق پورا کرلیا ہے، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مطلق العنان بننے کا خبط بحران کی سب سے بڑی وجہ رہا ہے، اس یوم دفاع کی تقریب کو دیکھ کر مجھے تو یوں لگا ہے جیسے یہ خبط اب دم توڑ رہا ہے اور اس سے بلند ہو کر سوچنے کی لہر پیدا ہورہی ہے۔

یوم دفاع و شہدا کی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں ایک چھوٹا سا جملہ بول کر پورے منظر نامے کو تبدیل کردیا۔ ان کا یہ جملہ حاصل غزل تھا۔۔۔ یہ جملہ سننے کے لئے ہم کئی دہائیوں سے انتظار کررہے تھے، لیکن اناکی بیڑیاں ہمیں اجازت ہی نہیں دیتی تھیں۔ انہوں نے جب یہ کہا کہ ہمارے ہاں یہ دائمی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ فوج اور حکومت میں ایک کشیدگی موجود ہے۔۔۔ کس بات پر کشیدگی؟۔۔۔ دونوں کا مقصد پاکستان کو آگے لے جانا ہے، دونوں نے مل کر کام کرنا ہے۔۔۔ جی ایچ کیو میں کھڑے ہو کر انہوں نے واشگاف لفظوں میں جب فوج اور سول حکومت کے درمیان کسی اختلاف، مقابلے یا کشیدگی کی نفی کی تو نہ صرف وہاں موجود ہزاروں افراد نے زبردست تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا، بلکہ خود وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں بھی یہ تاثر اُبھرا کہ وہ ماضی کے وزرائے اعظم کی طرح اس نکتے میں اُلجھنے کے خواہاں نہیں کہ ملک میں فوج طاقتورہے یا سول حکومت؟ بلکہ وہ ایک ٹیم ورک کے طور پر ملک کو چلانا چاہتے ہیں، وہ ہروقت جی ایچ کیو پر نظریں جمائے رکھنے کے خبط میں مبتلا نہیں، بلکہ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے جنون پر زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو خطاب کیا، اس میں انہوں نے بھی اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے پچھلے دس برسوں میں جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ فوج منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، ملک سے غربت، جہالت اور پسماندگی ختم کرنے کے لئے حکومت کے ہر منصوبے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یوں دیکھا جائے تو اس بار یوم دفاع کی تقریب نے دنیا بھر کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں منتخب حکومت اور فوج نہ صرف ایک پیج پر ہیں، بلکہ اُن کے خیالات میں اس قدر ہم آہنگی ہے کہ کوئی دشمن اگر چاہے بھی تو اُسے رخنہ ڈالنے کا کہیں سے راستہ نہیں ملے گا۔ جنرل آصف غفور باجوہ نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ 2018ء میں ایک نئے پاکستان کا آغاز ہوگا۔ شاید اُن کا اشارہ اسی طرف تھا!

مزیدخبریں