25ارب روپے مالیت کا 10کھرب گیلن پانی سالانہ ضائع ہوتا ہے

25ارب روپے مالیت کا 10کھرب گیلن پانی سالانہ ضائع ہوتا ہے
25ارب روپے مالیت کا 10کھرب گیلن پانی سالانہ ضائع ہوتا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ : ایثار رانا

اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو یاد رکھیں بدترین قحط ہمارا منظر ہے، اور قحط کا مطلب اگر پوچھنا ہو تو بس ایک جھلک افریقی ممالک کو دیکھ لیں، پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن اتنے بڑے ملک میں صرف تیس دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، یہ خشک سالی اور قحط سالی کا خطرہ اچانک ہمارے سر پر آن نہیں کھڑا ہوا گزشتہ دو دہائیوں سے ماہرین اس کی جانب اشارہ کرتے رہے ہیں لیکن افسوس ہمارے حکمران اپنے محل بناتے رہے، رہی سہی کسر ہماری حرص اور چھوٹے چھوٹے مفادات پر سیاست کرنے والی قیادت نے پوری کردی، پاکستان میں ڈیمز نہ بنانے کے پیچھے ایک افسوسناک کہانی چھپی ہے، ہمارے بہت سیاستدانوں نے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا اور ایک غریب ترین قوم کے اربوں روپے صرف فزیبلیٹیوں اور ابتدائی انتظامات پر ضائع کردئے گئے، ہم اپنے مستقبل کے حوالے سے کتنے سنجیدہ ہیں اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ چیف جسٹس کی جانب سے ڈیم فنڈ بنانے اور اس پر مایوس قوم رد عمل کے بعد وزیراعظم عمران خان کو خود میدان میں آنا پڑا، ہم نے بھارتی فلم سنجو بابا پر کئی کروڑ لٹا دیئے لیکن ڈیم میں 10 روپے کا ایس ایم ایس نہ کرسکے، اگر میں کہوں کہ ہم قحط کے دور میں پہلا قدم رکھ چکے تو زرا دل تھا کہ اسے تسلیم کرنے کی کوشش کریں، جو ملک سالانہ 25 ارب روپے کا پانی سمندر میں پھینک دیتا ہو اور دس کھرب گیلن پانی ضائع کردیتا ہو اسکی قسمت میں قحط سالی نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔ یہ بھی افسوس کا مقام ہے کہ ڈیموں پر جتنا کام مارشل لاء دور میں ہوا وہ سیاسی حکومتوں میں نہ ہوسکا، سیاسی حکومتیں اپنی کھال موٹا کرنے میں لگی رہیں، سیاسی مصلحتوں نے ہمیں آج تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، دنیا بھر میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس پانی کو دوبارہ قابل استعمال بناتے ہیں جبکہ پاکستان میں صرف آٹھ فیصد پانی کو قابل استعمال بنایا جاتا ہے، ہم شاید واحد قوم ہیں جو پانی کا بے دریغ استعمال کرکے ضائع کرتے ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی 50 فیصد قابل استعمال پانی ضائع کرتے ہیں، خیر اب تو قحط سالی ہمارے دروازوں پر دستک دے چکی ہے، اگر اب ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو ایک المناک انجام ہمارا منتظر ہے، عدلیہ فوج اور پارلیمنٹ کو اپنی مصلحتوں سے نکل کر کام کرنا ہوگا، اس کے لئے چاہے جائیدادیں ضبط کی جائیں اور زبردستی پیسے نکلوائے جائیں۔ قوم کو اس نہج پر پہنچانے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ جو کیا جاسکتا ہے کرنا ہوگا، قوم کو بھی اپنے اللے تللوں سے نکل کر اپنے بچوں کے کل کا مستقبل محفوظ کرنا ہوگا۔ ہمارے پاس صرف سات سال رہ گئے ہیں، صرف سات سال۔

مزید : تجزیہ