فلسطینیوں کے حق واپسی مارچ کی تحریک

08 ستمبر 2018 (12:39)

صابر ابو مریم

مسئلہ فلسطین تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسے فیصلہ کن مرحلہ سے گزر رہاہے کہ جہاں اب اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ آیا فلسطین غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے شکنجہ سے آزاد ہو کر رہے گا یا نہیں؟ دوسری طرف دشمن یعنی غاصب و جعلی ریاست اسرائیل اور اس کی سرپرست حکومت امریکہ اور حواریوں کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے فلسطین کو فلسطینیوں سے لا تعلق کر دیں اور پورا فلسطین غاصب صیہونیوں کی جاگیر بنا دیا جائے جیسا کہ انہوں نے پہلی عالمی جنگ کے بعد سے اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کیا تھا اور آخر کار عالمی استعماری قوتوں کی سرپرستی میں عالم اسلام کے قلب ’’فلسطین‘‘ پر ایک غاصب اور جعلی صیہونی ریاست اسرائیل کو وجود دینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

صیہونیوں کا ہمیشہ سے خواب رہاہے کہ عظیم تر اسرائیل کا قیام عمل میں لایا جائے اور جس کی سرحدین نیل و فرات کو عبور کرتی ہوئیں مکہ و مدینہ تک جاتی ہوں۔اس ناپاک مقصد کے لئے صیہونیوں نے نہ صرف فلسطین پرقبضہ جمایا بلکہ فلسطینی قوم کا قتل عام کرنے کے ساتھ خطے بھر میں اقوام کو دہشت گردانہ اور سفاکانہ جنگوں کا نشانہ بنایا اور بعض اوقات دہشت گرد گروہوں کو پیدا کر کے اندرونی طور پر ان اقوام اور ان کے ممالک کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں۔حالیہ ادوار میں اس بات کی مثالیں عراق، شام، لبنان اور فلسطین سمیت افغانستان، پاکستان کی حکومتیں اورافریقی ممالک و علاقے ہیں کہ جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے صیہونیوں نے اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ان علاقوں میں مختلف ناموں سے دہشت گرد گروہوں کو جنم دے کر ان کی مالی ومسلح معاونت کر کے ان اقوام اور ممالک کو نابود کرنے اور کمزور کرنے سمیت ان علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

حالیہ دور میں جہاں ایک طرف غاصب و جعلی ریاست اسرائیل کے سرپرست و آقا امریکہ نے پورے خطے کو اسرائیل کی سیکورٹی کی خاطر قتل گاہ بنا ڈالا ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ ایسے فیصلہ جات بھی کئے ہیں کہ جس سے دنیا کو یہ باور کروانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے کہ فلسطین اب صیہونیوں سے تعلق رکھتا ہے اور فلسطینیوں کا اس سے کوئی تعلق باقی نہیں رہاہے ، لیکن جیسا کہ لکھا گیا ہے کہ ’’ناکام کوشش ‘‘تو یقیناًیہ کوشش ناکام ہی ہے، کیونکہ جب امریکہ نے امریکی سفارتخانہ کو فلسطین کے تاریخی دارالحکومت یروشلم میں منتقل کرنے کی بات کی اور اعلان کیا تو اقوام متحدہ میں ایک سو اکتیس سے زائد ممالک نے اس اعلان کو مسترد کر دیا ۔یعنی پوری دنیا امریکی فیصلہ کو مسترد کر کے یہ اعلان کر چکی ہے کہ یروشلم شہر (القدس) فلسطین کا ہی ابدی دارالحکومت تھا ، ہے اور رہے گا۔یہ امریکہ کی یقینی طور پر بہت بڑی شکست تھی کہ جس میں عالمی برادری کا اہم کردار رہاہے۔

ایک طرف فیصلہ کن مراحل میں ہونے والے فیصلوں کو عالمی برادری مسترد کر چکی ہے تو دوسری طرف فلسطین کے اصل باشندے اور قوم ہے کہ جس نے فلسطینی سرزمین کے تاریخی دن یعنی ’’یوم الارض ‘‘ کے دن سے امریکی فیصلہ کے خلاف قیام کیا ہے اور جد وجہد کا نیا انداز اپناتے ہوئے فلسطین میں تیسری تحریک انتفاضہ کو جنم دیا ہے جو مسلسل تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور نہ صرف فلسطین کے مغربی علاقے میں بلکہ بارہ سال سے صیہونیوں کے محاصرے میں جکڑے ہوئے علاقے غزہ کی پٹی سے بھی تحریک جاری و ساری ہے۔تیسری تحریک انتفاضہ کا عنوان ’’فلسطینیوں کا حق واپسی‘‘ ہے یعنی ہم اس تحریک کو فلسطینی عوام کے حق واپسی کی تحریک کا عنوان بھی سمجھ سکتے ہیں جبکہ انگریزی میں اس تحریک کو ’’Great Return March‘‘کا عنوان دیا گیا ہے۔غاصب صیہونی ریاست اسرائیل فلسطینیوں کے حق واپسی کی تحریک اور مارچ کے سامنے بے بس ہو چکی ہے ، ظلم و استبداد کے تمام ہتھکنڈے فلسطینی بہادر جوانوں اور ماؤں کے سامنے ناکام ہو چکے ہیں، نوجوانوں اور بچوں سمیت بزرگوں نے اس تحریک میں مزید جان ڈال دی ہے،ایسی مائیں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں کہ جو شیر خوار بچوں کے ہمراہ غاصب صیہونیوں کے مقابلہ پر صف اول میں نظر آتی ہیں۔

تیس مارچ سنہ2018ء کے دن سے شروع ہونے والا فلسطینیوں کا انتفاضہ حق واپسی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہاہے اور ہر آنے والا دن احتجاج کے عنوان سے مزید طاقتور اور حوصلہ بخش احتجاج کے ساتھ گزر رہاہے۔تا دم تحریر فلسطینیوں کی اس مجاہدانہ حق واپسی کی تحریک اور احتجاج کو روکنے کے لئے غاصب صیہونی جعلی ریاست اسرائیل ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے اور قتل و غارت گری سمیت گرفتاریوں اور دیگر حربوں کا استعمال کر چکی ہے ، اب تک دو سو سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں ، دس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، درجنوں کو لاپتہ کیا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، نہ جانے کس کس طرح کے ظلم روا رکھ کر فلسطینیوں کو مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی تحریک سے دستبردار ہو جائیں لیکن سلام ہے ملت عظیم فلسطین پر کہ جس نے مجاہدانہ روش کو اختیار کر رکھا ہے کہ اور مسلسل چھ ماہ سے حق واپسی تحریک علم بلند کر رکھا ہے۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں