سمجھ میں نہیں آتا

سمجھ میں نہیں آتا
سمجھ میں نہیں آتا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 فرخ شہباز وڑائچ

عام طور پر یہ سوال روز کسی نہ کسی نئے انداز کے ساتھ سامنے آجاتا ہے۔کبھی کبھار کوئی الٹی سیدھی بات بنا کر اس کا جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔مگر سچی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک سوال اتنے سوالوں کو جنم دیتا ہے کہ ہمیں بے بس کر دیتا ہے۔چلیے ان سوالوں کو دیکھتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال اگر ہم سب ہی اپنے ملک کے اتنے بڑے خیر خواہ ہیں تو ملک میں بہتری کیوں نہیں آجاتی، سمجھ میں نہیں آتا جب ہماری اعلٰی ترین یونیورسٹیاں ہر سال سینکڑوں طلباء کو تعلیم یافتہ کرکے فیلڈ میں بھیج رہی ہیں تو معاشرہ باشعور کیوں نہیں ہورہا؟ سمجھ میں نہیں آتا ہمارے نامور بیورکریٹ،طاقتور جرنیل اور تگڑے سیاستدان سارا سچ اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے کے بعد ہی کیوں بولتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا جب عوام بھی کرپشن سے تنگ ہیں اور حکمران بھی کرپشن کے خلاف ہیں تو کرپشن ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے اگر ہمارے خلاف سب کچھ امریکا اور یورپ ہی کروارہا ہے تو ہم سب وہاں کیوں جانا چاہتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا جب ہر کوئی اپنا کام ٹھیک طرح سے کر رہا ہے تو خرابی کہاں ہے؟

سمجھ میں نہیں آتا اگر انڈیا ہی ہمارا دشمن ہے تو ہم دشمن کی فلمیں اتنے شوق سے کیوں دیکھتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا پولیس کی یونیفارم بدلنے سے ان کے رویے اور کارکردگی میں کیسے بہتری آسکتی ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا اگر جماعت اسلامی ہی کرپشن سے پاک جماعت ہے اور لوگ تسلیم بھی کرتے ہیں تو ان کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ سمجھ میں نہیں آتا اگرہمارا ملک زرعی ملک ہے تو ہمارے ٹی وی چینل زراعت سے متعلق پروگرام کیوں نہیں نشر کرتے؟ سمجھ میں نہیں آتا اگرہمارے ہاں اتنی ہی بے روزگاری ہے تو ہر اتوار کا اخبار نوکریوں سے اشتہار سے کیوں بھرا ہوتا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا اگر ہم اپنے وطن سے محبت کے اتنے بڑے دعوے دار ہیں تو موقع ملنے پر اس کا قانون کیوں توڑتے ہیں؟ سمجھ میں آتا ہم ہمیشہ نو پارکنگ کے بورڈ کے پاس ہی گاڑیاں کیوں پارک کرتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا ایک ہی پھل فروش گاڑی اور موٹر سائیکل پر آنے والے گاہکوں کو ریٹ مختلف کیوں بتاتا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا سڑکیں اتنی کشادہ ہونے کے باوجود شہر میں ٹریفک کیوں جام رہتا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتااگر عوام جمہوریت کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں تو آمرحکمرانوں کو اتنی آسانی سے قبول کیسے کرلیتے ہیں؟سمجھ میں نہیں آتا اگر پولیس کا کام ہماری مدد کرنا ہے تو عام آدمی مدد لینے کے لیے تھانے جانے سے کیوں گھبراتا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا اگر ایک وزیراعظم کو عدالت کا گھر بھیجنا ٹھیک ہوتا ہے تو دوسرے وزیراعظم کو گھر بھیجنا کیسے غلط ہوسکتا ہے؟

سمجھ میں نہیں آتا اگر پرویز مشرف نے پاکستان کا آئین توڑا،سنگین جرم کیے اور یہ بات تسلیم شدہ ہے تو کوئی اسے گرفتار کیوں نہیں کرتا؟ سمجھ میں نہیں آتا اگر ہم نبی کریم ﷺ کو رول ماڈل مانتے ہیں تو ہمارے اعمال ان کی تعلیمات کے برعکس کیوں ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا اگر ہم قائد اعظم کو اپنا لیڈر کہتے ہیں تو ہمارے افعال قائد کے اصولوں جیسے کیوں نہیں؟ سمجھ میں نہیں آتاسب تبدیلی تبدیلی کی باتیں کرتے ہیں پھر بھی تبدیلی آتیکیوں نہیں؟سمجھ میں نہیں آتا بلاول بھٹو آصف علی زرداری کے ساتھ کھڑے ہوکر کرپشن کو جڑ سے ختم کرلینے کی بات کیسے کرلیتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتااگر ہیلی کاپٹر کا سفر اتنا ہی سستا ہے تو میٹرو بس سروس بند کرکے شاہدرہ سے ہیلی کاپٹر سروس کیوں نہیں شروع کردیتے؟

سمجھ میں نہیں آتا جب شہر کے سارے سرکاری سکولوں کے بچے آرام دہ نشستوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں تو میرے گاؤں کے بچے کیوں آج بھی ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا پبلک مقامات پر لگے واٹر کولر پر پڑے گلاس کو لوہے کی زنجیر سے کیوں باندھا جاتا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا مسجد میں داخل ہوتے ہی ہم اپنے جوتے کسی کونے میں کیوں چھپا دیتے ہیں؟ سمجھ میں نہیں آتا ہر دوسرا پروفیسر،وکیل،بزنس مین،ریٹائرڈ آفیسر اینکر پرسن اور کالم نگار ہی کیوں بننا چاہتا ہے؟ مجھے تو بالکل سمجھ میں نہیں آتا اگر آپ کو آتا ہے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔۔!

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ