کرکٹ اور شوبز کے دو بڑے ستارے ڈوب گئے

کرکٹ اور شوبز کے دو بڑے ستارے ڈوب گئے
کرکٹ اور شوبز کے دو بڑے ستارے ڈوب گئے

  


ایک دن کے وقفے سے پاکستان کے دو نامور ستارے یکے بعد دیگرے ڈوب گئے۔ اداکار عابد علی کے شدید بیمار ہونے کی خبریں تو کئی روز سے آ رہی تھیں، بلکہ کئی بار سوشل میڈیا پر ان کے انتقال کی خبر بھی دی جاتی رہی، تاہم ان کا انتقال 5ستمبر کو ہوا اور 6ستمبر کی شام اچانک اس خبر نے پورے ملک میں غم کی لہر دوڑا دی کہ اپنی طرز کے واحد کرکٹر اور گگلی باؤلنگ کے جادوگر عبدالقادر دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے بیٹے سلمان قادر کے مطابق 8بج کر 20منٹ تک وہ بالکل ٹھیک تھے، بعد ازاں انہیں سینے میں درد محسوس ہوا، انہیں فوراً ہسپتال لے جایا گیا، مگر وہ راستے ہی میں انتقال کر چکے تھے۔ عابد علی اور عبدالقادر دونوں ہی ہمارے ٹی وی ڈرامے اور قومی کرکٹ کے سنہرے دور کی علامت تھے۔ عروج کا وہ دور جب ہر پاکستانی ان کے سحر میں مبتلا تھا۔ ان کے انتقال سے صحیح معنوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے، جسے آسانی سے پُرنہیں کیا جا سکتا۔ شوبز اور کرکٹ کے یہ دو ”ع“ درحقیقت عین عوام کے دلوں میں بستے تھے اور ہر نسل کا اور عمر کا پاکستانی انہیں جانتا تھا، پیار کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ جب پی ٹی وی کا ڈرامہ ”وارث“ چل رہا تھا تو ہم پانچ دوست صرف عابد علی کو دیکھنے ملتان سے لاہور پہنچے۔ پی ٹی وی کے سامنے صبح سے چوکڑی مار کر بیٹھے رہے کہ عابد علی کو آتے یا جاتے دیکھیں گے۔ ایک دن تو ناکامی ہوئی، البتہ دوسرے دن عابد علی ٹی وی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھے گئے، ہم پانچوں دیوانہ وار ان کی طرف بڑھے۔ وہ اپنے مخصوص سٹائل میں ”ارے ارے کیا کر رہے ہو بھئی“ کہتے رہے، مگر ہم نے زبردستی ان سے ہاتھ ملانا شروع کر دیئے۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ ہم ملتان سے انہیں دیکھنے اور ملنے آئے ہیں تو حیران رہ گئے۔”کیا واقعی؟“…… ان کی زبان سے نکلا پھر انہوں نے ایک ایک کرکے ہم سے جپھی ڈالی۔ شکریہ ادا کیا اور پوچھا: ”کیا کھانا بھی کھایا ہے؟“ ہم نے کہا ہاں کھا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا وارث کی شوٹنگ شائد ملتان میں بھی ہو، مَیں وہاں آیا تو مجھ سے ضرور ملنے آنا، یوں ہماری عابد علی سے ملنے کی خواہش بھی پوری ہو گئی اور ان کی شخصیت کا ایک بہت اچھا تاثر بھی قائم ہو گیا۔ وارث وہ ڈرامہ سیریل تھی، جس نے معاشرے کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا اور عابد علی اس کا مرکزی کردار تھے۔ اس زمانے میں چونکہ صرف پی ٹی وی ہی ہوتا تھا اور نشریات بھی شام کو شروع ہوتی تھیں، اس لئے ہر گھر میں سرشام سبھی افراد ٹی وی کے گرد جمع ہو جاتے تھےّ جس دن وارث کی قسط آنی ہوتی، اس دن تو سرشام سڑکیں ویران ہو جاتیں۔ ایسے دور میں کوئی فنکار اگر نمایاں ہوتا تو وہ سب سے مشہور ترین اور مقبول ترین شخصیت کہلاتا۔ عابد علی انہی میں سے ایک تھے۔اس کے بعد تو وہ ملک میں صفِ اول کے فنکار کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔ عابد علی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مقبولیت کا تسلسل برقرار رکھا۔ اس دور میں بھی کہ جب پرائیویٹ پروڈکشن کی بھرمار ہوئی اور نجی چینل بھی شوبز کے شعبے میں آ گئے۔ مَیں نے ان کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جس تیزی کے ساتھ ڈرامہ پروڈکشن ہو رہی ہے، اسی تیزی سے اسے زوال بھی آئے گا، کیونکہ سب کچھ کمرشل بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ کہانی، مکالمے، اداکاری اور پروڈکشن کے دیگر شعبوں پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا بعض اوقات یکسانیت کی وجہ سے مَیں اکتا جاتا ہوں، کیونکہ اب کوئی نصرت ٹھاکر اور یاور حیات جیسا ڈائریکٹر بھی دستیاب نہیں۔ وہ بلاشبہ فن اداکاری و صداکاری کی ایک اکیڈمی تھے۔

جہاں تک کرکٹر عبدالقادر کا تعلق ہے تو دنیا انہیں ایک جادوگر سپنر کے طور پر تسلیم کر چکی تھی۔ بڑے سے بڑا بیٹسمین بھی ان کی انگلیوں سے نکلی ہوئی گیند کو سمجھنے سے قاصر ہوتا اور اپنی وکٹ گنوا بیٹھتا۔ ان کی وجہ سے پہلی بار کرکٹ میں رائج گگلی کی اصطلاح عام آدمی تک پہنچی، بلکہ اتنی مقبول ہوئی کہ سیاست کے ایوان میں بھی استعمال ہونے لگی کہ فلاں سیاستدان نے حکومت کو گگلی مار کر بولڈ کر دیا ہے۔ عمران خان عبدالقادر کی باؤلنگ پر بہت انحصار کرتے تھے،جب کبھی مخالف ٹیم کی کوئی جوڑی وکٹ پر جم جاتی اور فاسٹ باؤلرز اس پارٹنرشپ کو توڑنے میں ناکام رہتے تو عبدالقادر کو باؤلنگ دی جاتی۔ وہ پہلے یا دوسرے اوور میں ہی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ ان کی باؤلنگ کا ایک خاص سٹائل تھا۔وہ چند قدم کے فاصلے سے بال کرانے آتے، اس دوران گیند ان کے دونوں ہاتھوں میں ناچتی رہتی، پھر وہ اسی انداز میں آگے بڑھتے اور گیند کو ایسے گھما کے پھینکتے، جیسے کوئی جادوگر پھینکتا ہے۔ وہ واحد باؤلر تھے، جن کے باؤلنگ سٹائل کو دیکھ کر بھی شائقین لطف اٹھاتے۔ انہوں نے پاکستانی ٹیم کو بہت سے ایسے میچز جتوائے جن میں کوئی معجزہ ہی کام آ سکتا تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک صاف ستھرے اور پروفیشنل کرکٹر تھے۔ عموماً جو باؤلر بہت زیادہ کامیاب ہو جائے تو اس پر کئی الزامات لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بال ٹمپرنگ یا سٹے بازی جیسی بلائیں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔ اس کے باوئلنگ سٹائل پر بھی اعتراض کر دیا جاتا ہے، مگر عبدالقادر ایسی سب باتوں سے محفوظ رہے۔ ان کا زمانہ ٹی ٹونٹی کا نہیں تھا، انہوں نے ٹیسٹ میچز کھیلے یا پھر ون ڈے۔ وہ ٹیسٹ میچوں کو کسی بھی کھلاڑی کے لئے معراج سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ٹیسٹ میچ کسی بھی ٹیم اور کھلاڑی کے معیار کی سب سے بڑی کسوٹی ہے، کیونکہ پانچ دن کھیلنے کے بعد سب کچھ سامنے آ جاتا ہے۔ بعض کردار کسی شعبے میں افسانوی درجہ اختیار کر جاتے ہیں۔ اس شعبے میں آنے والے ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان جیسا بن جائے، عبدالقادر بھی ایک ایسا ہی کردار بن چکے تھے۔ سپن باؤلنگ میں ہر باؤلر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ عبدالقادر جیسی پرفارمنس دے سکے۔ ان جیسا نام کمائے۔

عبدالقادر کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو اس وقت سامنے آیا جب وہ ریٹائر ہوئے۔ تب انہوں نے پاکستان میں کرکٹ کے خلاف سازشوں کا تذکرہ کرنا شروع کیا۔ ان کا سب سے بڑا ہدف پاکستان کرکٹ بورڈ تھا،جس میں کرپشن، اقربا پروری اور نااہلوں کو عہدوں سے نوازنے پر وہ ہمیشہ تنقید کرتے۔ انہوں نے غلط نہیں کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ کو زوال آ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دس بارہ برسوں سے پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار نہیں رکھ سکی۔ پی سی بی میں سیاست بڑھ گئی، حتیٰ کہ چیئرمین بورڈ بھی سیاسی آشیرباد سے لگائے جانے لگے۔ عبدالقادر اس صورتِ حال کے ہمیشہ ناقد رہے۔ وہ پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی تجاویز دیتے رہتے تھے، مگر ”نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے“کے مصداق ان کی آواز بھی کبھی نہ سنی گئی۔ وہ سلیکشن کے معیار پر بھی نکتہ چینی کرتے تھے اور کئی بار ان کی باتیں درست ثابت ہوتی تھیں۔ جب عمران خان ملک کے وزیراعظم بنے تو عبدالقادر بہت خوش ہوئے۔ انہیں امید تھی کہ اب ملک میں کرکٹ کی صورتِ حال بہتر ہو گی۔ وہ عمران خان کے بہت اچھے دوستوں میں تھے، مگر انہیں جوڑ توڑ نہیں آتا تھا۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اقتدار کے ایوانوں میں دوستوں کی رسائی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وزیراعظم عمران خان انہیں کرکٹ کنٹرول بورڈ میں کوئی اہم ذمہ داری سونپتے، مگر پی سی بی میں بیٹھے ہوئے لاکھوں روپے ماہانہ کی مراعات لینے والوں کے لئے عبدالقادر جیسا صاف گو اور سچ بولنے والا آدمی قابلِ قبول نہیں تھا۔ سو سازشی جیت گئے اور عبدالقادر جیسا بڑا کرکٹر نظر انداز کر دیا گیا۔ ان کے بیٹے سلمان قادر نے بالکل درست کہا ہے کہ عبدالقادر کے جانے سے پاکستان میں کرکٹ کے حق میں اٹھنے والی سچ کی آواز خاموش ہو گئی ہے۔ وہ جسمانی لحاظ سے بالکل فٹ تھے اور اب بھی کرکٹ کی کوچنگ جاری رکھی ہوئی تھی، مگر اندر ہی اندر نجانے ان کے دل پر کیا گھاؤ لگے تھے کہ اچانک وہ ان کا ساتھ چھوڑ گیا اور وہ دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے، تاہم عابد علی ہوں یا عبدالقادر…… شوبز اور کرکٹ پر ان کے نقوش بڑے گہرے ہیں جو آسانی سے مٹ نہیں سکیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...