’اسِیں وی رائٹر ہونے آں‘

’اسِیں وی رائٹر ہونے آں‘
’اسِیں وی رائٹر ہونے آں‘

  


بی بی سی کے پرانے ساتھی اور بے تکلف دوست محمد حنیف کے اولین ناول ’اے کیس آف ایکس پلوڈنگ مینگوز‘ کے اردو ایڈیشن کی اشاعت ایک دل خوش کُن خبر ہے۔ دس سال پہلے جب مَیں نے لاہور میں ہونے والی تقریبِ رونمائی میں یہ انگریزی ناول دستخط کروانے کی خاطر اُن کے سامنے رکھا تو محسوس ہوا کہ مصنف کی طبعی صاف گوئی راستے کی رکاوٹ بن رہی ہے۔ وہ عام آدمی ہوتے تو رواج کے مطابق لکھ سکتے تھے ’عظیم دانشور جناب شاہد ملک کے ذوقِ مطالعہ کی نذر‘ یا ’ایک ہمدمِ دیرینہ کے لئے ہدیہ ٗ ناچیز‘۔ حنیف صاحب چونکہ ایک اور طرح کا آئیٹم ہیں، اِس لئے پہلے تو انہوں نے فوری طور پہ سگریٹ پلانے کا مطالبہ کیا اور طلب پوری ہوتے ہی کتاب کے پہلے اندرونی صفحے پہ لکھ دیا ’اسیں وی رائٹر ہونے آں‘۔ یہ جملہ مزا دے گیا اور مجھے بھی اپنی ایک نفسیاتی الجھن سے نجات مل گئی۔

نجات اِن معنوں میں کہ بطور لکھاری مقبولیت میں زمین آسمان کے فرق کے باوجود، ہم دونوں میں ایک انسانی قدر مشترک ہے۔ وہ ہے غیر لوگوں کے سامنے جھینپ جانے کی عادت۔ ورنہ کئی اور دوست ایسے بھی ہیں کہ ہر صورت حال میں موقع محل کی مناسبت سے بلا تامل مطلوبہ لب و لہجہ اختیار کرلیں گے۔ شکل بھی ایسی بن جائے گی گویا آرڈ پہ تیار ہوئی ہو۔ دکھ کی گھڑی ہے تو اتنے غم زدہ کہ خود الم نصیب لواحقین انہیں دلاسہ دینے پہ مجبور ہو جائیں۔ خوشی کا ہنگام ہو تو یوں باچھیں کھلی ہوئیں جیسے طربیہ کہانی کا مرکزی کردار یہی ذاتِ شریف ہوں۔ محمد حنیف کی سادہ طبعی کا اندازہ اِس سے لگائیے کہ رواں صدی کے آغاز پہ بی بی سی اردو کے سربراہ مقرر ہوئے تو کئی دن نئی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہتے کہ شرم آ رہی ہے۔ مَیں اتفاق سے تین ماہ کے لئے لندن میں تھا، اِس لئے میرے کہنے پر لوگوں سے بچ بچا کر چھٹی کے دن بار بار بیٹھنے اٹھنے کی مشق کی تو طبیعت کچھ سنبھلی۔

محمد حنیف کی طرح مَیں بھی ’سپلائی سائیڈ‘ کا آدمی ہوں جو منڈی کی طاقتوں کا خیال نہیں رکھتا۔ مراد ہے ایسا دکاندار جو شو کیس میں اچھی اچھی چیزیں چھانٹ کر نہ سجائے بلکہ خواہش کرے کہ جو مال گودام میں اور جس بھی حالت میں پڑا ہے گاہک اُسی پر توجہ دے۔ آج کل تو گھر ہی میں مصروفیت کی ایکٹنگ کرتا ہوں۔ تاہم جس زمانے میں ہر روز بی بی سی عالمی سروس کے صدر دفتر جانا ہوتا تو وہاں بھی اپنے لئے کوئی کرسی میز یا تالہ چابی والی الماری مختص نہ کی۔ جہاں دل چاہا بیٹھ گئے اور کام کے دوران بھی حتی الامکان قہقہے لگاتے رہے۔ لندن کے بُش ہاؤس میں تو کسی کے مسودات، صوتی ٹیپ اور ذاتی چیزوں کو چھیڑنے کا رواج ہی نہیں تھا۔ ’وقت نیوز‘ لاہور میں صدرِ شعبہ والی بناوٹی سی ریوالونگ چیئر پہ دِل گھبراتا تو نیوز ڈیسک، مانیٹرنگ روم یا نان لینئر ایڈیٹرز کی ہم نشینی میں راحت مِل جاتی جہاں تصنع کا شائبہ نہیں تھا۔

تو، بھائی جان، یہ تصنع کا شائبہ آخر ہے کیا؟ آپ مانیں یا نہ مانیں، میرے نزدیک جبلی جذبوں سے انحراف تصنع ہے لیکن وہ جو مصطفے زیدی نے کہا تھا، ہر جذبہ شعور کی آنچ پہ پک گیا ہو۔ بات درست ہے،لیکن سپلائی سائیڈ والے کے لئے گڑ بڑ کا سامان بھی اِسی میں ہے۔جیسے کسی یونیورسٹی کی ’انٹرنیشنل کانفرنس‘ سے ایک روز پہلے (عام طور پہ ہر کانفرنس انٹرنیشنل ہوتی ہے) چند طالب علم آ جائیں گے کہ سر ’جنگ زدہ علاقہ سے نیوز رپورٹنگ‘ کے موضوع پر بطور کلیدی مقرر آپ کا پون گھنٹہ چاہئیے۔ اب آپ اُن بولنے والوں میں سے نہیں جو کسی چینل پر صبح کے اوقات میں معیشت داں ہوتے ہیں، دوپہر کو کھیلوں کے مبصر اور رات کو حالاتِ حاضرہ کے تجزیہ کار۔ آپ کا جواب ہے ’بیٹا، مَیں سلو تھنکر ہوں، مجھے تیاری کے لئے ایک ہفتہ چاہئے‘۔طالب علم حیران رہ جاتے ہیں کہ جب آپ کو تقریر کرنی آتی ہے تو پھر کلیدی خطبہ سے اجتناب کیسا۔

یعنی جو کوئی تقریر کر سکے، کیا ضروری ہے کہ اُسے ہمہ وقت تقریر آئی ہوئی ہو؟ ایسا کرنا تو مصنوعی طرزِ عمل ہو گا۔ اِن موقعوں پہ بندہ اپنے حقِ خاموشی کو آزادیئ اظہار کا لازمہ سمجھ لیتا ہے۔ دیکھئے نا، مہذب جمہوری ممالک میں پولیس، ایکسائز اور کسٹم کے حکام پوچھ گچھ سے پہلے واضح کر دیتے ہیں کہ آپ کو خاموش رہنے کا حق ہے، لیکن سوالوں کے جو جواب آپ دیں گے وہ بطور شہادت آپ کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ اِسی لئے تو مَیں دو دن پہلے یوم دفاع پہ سما ٹی وی کے خصوصی پروگرام میں شرکت کی دعوت پر یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ گفتگو میں تاریخی تناظر کی خاطر 1965ء کی جنگ میں ’آپریشن جبرالٹر‘ کا حوالہ آ سکتا ہے، جو ہماری غلطی تھی۔ مجھے لاہور میں مذکورہ چینل کے اولین بیورو چیف ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے، مگر فون پہ میری وضاحت سُن کر دعوت دینے والی خاتون نے پہلے تو قہقہہ لگایا اور یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ہماری اپنی حدود و قیود ہیں۔

مجھے انیس سو ستر کی دہائی میں درس و تدریس سے اپنی وابستگی کا ابتدائی زمانہ یاد ہے جب پی ٹی وی وطن ِ عزیز میں انفرادی تشہیر کا واحد موثر ذریعہ تھا۔ کسی پروگرام یا خبرنامہ میں آپ کی جھلک دکھائی دے جاتی تو جاننے والوں میں کئی روز تک چرچا رہتا۔ایک شام خبروں کے بلیٹن میں ہمارے گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو کے مشفق استاد اور نامور افسانہ نگار سید غلام الثقلین نقوی کی تصویر دکھائی دے گئی۔یہ ایک انٹر کالجیٹ مباحثہ کی رپورٹ تھی جس میں نقوی صاحب دو اور بزرگ دانشوروں کے ساتھ منصفین کے پینل میں بیٹھے تھے۔ جب کیمرے کا فوکس اُن پہ ہوا تو موصوف نے دھیان کسی اور طرف کر لیا۔ اِس پہ اگلے ہی دن شائستہ ترین جگت باز پروفیسر شعیب بن حسن نے پھبتی کسی کہ آپ شرماتے بہت ہیں۔ نقوی صاحب نے جواب میں کہا ’جی ہاں، مجھے بچپن میں شرمانے کی بہت پریکٹس تھی‘۔

یہاں یہ بتا دوں کہ سیالکوٹ سے قدرے مغرب کی جانب بیِڑ نام کا جو گاؤں ہے میرے دادا، پردادا وہاں کے سیدوں کے مرید تھے۔ مراد ہے پروفیسر غلام الثقلین نقوی کی ننہال۔ اجنبی لوگوں کے سامنے جھینپ جانے کی میری عادت کو شاید اِسی روحانی تعلق سے تقویت ملی ہو۔ اِسی لئے نقوی صاحب والے ٹی وی مباحثہ کے کچھ ہی دن بعد جب کراچی سے خوش بخت شجاعت (اُس وقت خوش بخت عالیہ) اور لاہور سے مَیں نے نوجوانوں کا ہفتہ وار پروگرام ’فروزاں‘ متبادل بنیادوں پہ شروع کیا تو ایک ویک اینڈ پہ مری کی مال روڈ پر ایک اور واقعہ ہو گیا۔ اُس صبح مَیں واہ کینٹ کے نو عمر دوستوں کے ساتھ وارفتگی کے عالم میں گپ مارتا ہوا چل رہا تھا کہ اچانک ساری ٹولی زور زور سے ہنسنے لگی۔ پوچھنے پر میرے کزن نے ایک چار سالہ بچے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ تمہاری طرف انگلی اٹھا کر کہہ رہا تھا ’امی وہ دیکھیں، ڈرامے والا آدمی جا رہا ہے‘۔

ایسے تاریخی موقعوں پر دنیا دار لوگ صورت حال کی مناسبت سے بڑی فرسٹ کلاس شکل بنا لیتے ہیں، جو مجھ سے نہیں بنتی۔ اب یہی دیکھ لیں کہ لندن میں بیٹے کی پیدائش سے کچھ ہی پہلے دفتر کے ساتھی اور جید صحافی علی احمد خان نے غیرت دلائی تھی کہ یار، اِس وقت آپ کو اسپتال میں موجود ہونا چاہئے۔چنانچہ مَیں ایسٹ ایکٹن میں واقع ہیمر سمتھ ہاسپٹل پہنچ تو گیا، لیکن بیوی کا اصرار تھا کہ پہلے اپنے کھانے کے لئے کچھ لے آؤ، کیا پتا یہاں رات دیر تک ٹھہرنا پڑے۔ اب جو چند منٹ بعد ہاتھ میں فِش اینڈ چپس کا لفافہ اٹھائے لیبر روم میں واپس آیا ہوں تو لیڈی ڈاکٹر اور نرسوں نے واویلا سا مچادیا ’یو ہیو گاٹ اے بوائے‘ یو ہیو گاٹ اے بوائے‘۔ مَیں نے کہا ’گُڈ‘۔ اس کے جواب میں سب نے چلا کر پوچھا ’یُو آر ناٹ ہیپی؟‘۔ آج بار بار خیال آ رہا ہے کہ ہو نہ ہو خوشی کے اُس مبارک لمحے میں میری طرف سے اچھل کود میں کوئی کمی رہ گئی تھی،جس سے طبی عملے کو مایوسی ہوئی۔

یہی خدشہ ’خوش کلامی‘ کی کتابی اشاعت پہ محسوس ہو رہا ہے۔ پہلے تو تعریف کہ ’آپ کے اسلوب کا جواب نہیں‘ یا ’اچھا کیا، تحریریں محفوظ تو ہو گئیں‘۔ پھر یہ سوال کہ ’کیا یہ اولین کتاب ہے؟‘۔ اب کیا بتاؤں کہ اولین تصنیف بطور طالب علم زمان ملک، امانت ندیم مرحوم اور خود میری اردو شاعری کا انتخاب ہے جو محترم استاد ڈاکٹر فرانسس زیوئر کی سرپرستی میں گورڈن کالج راولپنڈی سے شائع ہوا۔ اُس وقت (بچہ سمجھ کر) فیض احمد فیض، قدرت اللہ شہاب نیز دوکتوران ِ علم توصیف تبسم، رشید امجد، اجمل نیازی اور امجد اسلام امجد نے حوصلہ افزا تبصرے لکھے تھے۔اب سجاد انور منصوری کے سرورق اور پروفیسر خواجہ محمد زکریا کے پیش لفظ کے ساتھ تازہ مجموعہ کی اشاعت پبلشر فرخ سہیل گوئندی کا کارنامہ ہے، جس نے مجھے بوڑھا سمجھ کر ’رائٹر‘ ثابت کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔ مَیں بیٹے کی پیدائش کی طرح کتاب کی اشاعت پہ مطمئن ہوں مگر سخت سہما ہوا بھی کہ کسی دن اگر تقریبِ رونمائی ہو ہی گئی تو پتا نہیں وہاں کیسی شکل بنانی پڑے۔

مزید : رائے /کالم


loading...