تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد

تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد

محکمہ تعلیم میں مار نہیں پیار کا کلچر متعارف کرانے کی ہدایت پر عمل نہیں ہوا اور اب بھی اساتذہ اپنے پرانے فارمولے پر عمل کر رہے ہیں اگرچہ سرکاری تعلیمی اداروں میں ایسے امر میں کمی آئی تاہم نجی تعلیمی اداروں اوردینی مدارس میں یہ سلسلہ جاری ہے۔چند روز قبل دینی مدرسے میں پیار کی جگہ مار کی وڈیو منظر عام آئی اور اب دو روز قبل گلشن راوی کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں نویں جماعت کا ایک طالب علم سبق یاد نہ کرنے کی پاداش میں استاد کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گیا۔ طالب علم حسنین بلال اس روز سبق یاد کر کے نہ آیا، استاد نے لاتوں گھونسوں سے مار پیٹ شروع کر دی حسنین ہاتھ پاؤں بچانے کی کوشش میں گر گیا تو پھر بھی محترم استاد کا دل نہ بھرا اور وہ لاتوں کا استعمال کرتے رہے۔ طالب علم بے ہوش ہو گیا تو استاد کے مطابق وہ مکر کر رہا تھا طالب علم کے والدین نے الزام لگایا کہ بے ہوشی کے باوجود حسنین (متوفی)کو ہسپتال نہ لے جایا گیا اور جب دیر سے طبی امداد کے لئے پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی۔ والدین غم سے نڈھال ہیں، پولیس نے مقدمہ درج کرکے کامران کو گرفتار کر لیا ہے۔پرانے ادوار میں والدین بچوں کو استاد کے سپرد کرتے ہوئے کہتے تھے ”کھال آپ کی ہڈیاں ہماری“ اس دور میں استاد کی طرف سے سزا دی جاتی اور زیادہ تر ہاتھوں پر بید مارے جاتے تھے۔ کم مثالیں ایسی بھی ہیں جب طالب علم کے جسم پر بھی بید لگے یا بعض اساتذہ کان پکڑوا دیتے تھے۔ اس دور میں جب سماجی روایات ایسی تھیں طالب علموں کی موت کی خبریں نہیں آتی تھیں، بید سے آنے والی چوٹیں سہلا لی جاتی تھیں لیکن آج کے دور میں جب ”مار نہیں پیار“ موٹو ہے۔ یہ اطلاعات تواتر سے آ رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا کوئی اثر نہیں اور یہ ہدایات بھی دوسرے احکام اور ہدایات کی طرح ہوا میں اڑا دی گئیں۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ قانون اور قاعدے موجود ہونے کے باوجود عمل کا خانہ خالی رہتا ہے۔ حکومت اور حکام کو قانون، قواعد اور ہدایات پر عمل نہیں کرانا ہوتا تو نافذ ہی نہ کریں تو بہتر ہے کہ ہمارے یہاں قانون پر عمل کرانا ہی مشکل مرحلہ ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...