مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ہندوؤں کی آباد کاری شروع

مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری ہندوؤں کی آباد کاری شروع

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت نے غیر مسلموں کو ریاست میں آباد کرنا شروع کر دیا ہے، آزاد کشمیر کے سیکرٹری لبریشن سیل منصور ڈار نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کو بتایا ہے 500 ہندوؤں کو ڈومیسائل دے دیئے گئے ہیں، اور مزید پانچ ہزار دیئے جانے کا منصوبہ ہے، ریٹائر فوجیوں کو مقبوضہ کشمیر میں زمینیں الاٹ کی جا رہی ہیں، جو لوگ وادی سے ہجرت کر گئے اُن کی زمینیں بھی ہندوؤں کو دی جا رہی ہیں، پاکستان عالمی فورم پر یہ مسئلہ اٹھائے، عالمی ریڈ کراس کو مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے، تمام ارکانِ اسمبلی ایل او سی پر جائیں تاکہ کشمیریوں کو حوصلہ ملے۔

بھارت نے ریاست سے مسلمان اکثریت کو ختم کرناہے اور بالآخر یہی اس کے تمام تر اقدامات کا مقصد و مدعا ہے، خاموشی کے ساتھ تو وہ اِس منصوبے پر کافی عرصہ پہلے سے عمل کر رہا ہے، ریٹائرڈ فوجیوں کو خصوصی طور پر بنائی گئی کالونیوں میں بڑی تعداد میں آباد کیا جا رہا ہے، اس کے دو بنیادی مقاصد ہیں ایک تو یہی کہ ریاست میں آبادی کا تناسب ہندوؤں (یا غیر مسلموں) کے حق میں جھک جائے اور دوسرا یہ کہ ریٹائرڈ فوجیوں کے ذریعے مقامی آبادی کو خوف و دہشت میں مبتلا رکھا جائے اور اگر کسی وقت ریاست میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوں تو یہ ریٹائرڈ فوجی کشمیریوں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کرنے میں حکام کا ہاتھ بٹائیں، ریاست میں آبادی کا تناسب بدلنے کا یہ منصوبہ ویسے تو بہت پرانا ہے اور اس پر خاموشی سے کام جاری بھی تھا، لیکن 5اگست کے مودی کے اقدام نے سارے حجاب ہی اُلٹا دیئے اور ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کر کے انہوں نے غیر مسلموں کو ریاست میں آباد ہونے کی ”صلائے عام“ دے دی ہے، بلکہ بعض ریاستیں تو سیاحوں کو سہولتیں دینے کے نام پر وہاں سرکاری سطح پر سیاحتی مقامات اور ہٹس وغیرہ بنانے کے لئے زمینیں بھی خرید رہی ہیں، لگتا یوں ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاستی سرکاروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے باشندوں کو کشمیر میں سیاحت کے نام پر بھیجیں اور اس مقصد کے لئے وہاں ریسٹ ہاؤسز اور دوسرے سیاحتی مقامات بھی بنائیں، یہ تو ریاستی حکومتوں کا منصوبہ ہے، ابھی چند ہفتوں بعد آپ دیکھیں گے کہ بہت سے سرمایہ کار بھی اِس ضمن میں سرمایہ کاری کریں گے، سرمایہ کاری کے نام پر اور سیاحوں کو سہولتیں دینے کے پردے میں بھی یہ مقصد چھپا ہوا ہے کہ ریاست میں آبادی کا تناسب بدل جائے۔

نریندر مودی 2014ء میں جب پہلی مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے تو انہوں نے کشمیر میں ہندو وزیراعلیٰ بنانے کا منصوبہ بھی تیار رکھا ہوا تھا اور ریاستی اسمبلی میں ایک ووٹ کی اکثریت سے ہندو وزیراعلیٰ کو منتخب کرانے کے لئے ہر قسم کی تیاری کر رکھی تھی، اس منصوبے کا نام 1+44 رکھا گیا تھا، لیکن یہ ابتدا ہی میں اس لئے ناکام ہوگیا کہ مفتی محمد سعید (مرحوم) کی جماعت پی ڈی پی نے ریاست میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرلیں اور مودی نے ان کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی کوشش اس شرط کے ساتھ شروع کی کہ وزیراعلیٰ ہندو ہوگا اور اس کا تعلق بی جے پی کے ساتھ ہوگا جو ریاست میں نشستوں کے حساب سے دوسرے نمبر پرتھی، مفتی سعید نے یہ بات نہ مانی اور یہ موقف اختیار کیا کہ مسلم اکثریت کی ریاست میں وزیراعلیٰ مسلمان ہی ہونا چاہئے اور دوسرے اس کا تعلق ہماری جماعت سے ہوگا کیونکہ یہی ریاست کی سب سے بڑی جماعت ہے، مودی اس پر ناراض ہوگئے اور گورنر کی مخالفت کے باوجود گورنر راج لگا دیا گیا، لیکن 60 دن کے بعد جب اس کی مدت ختم ہوئی تو حالات جوں کے توں تھے جس پر مودی کو ناک نیچی کرکے مفتی سعید کو وزیراعلیٰ ماننا پڑا۔ تقریباً ایک سال تک وزیراعلیٰ رہنے کے بعد مفتی سعید انتقال کرگئے اور ان کے جانشین کے انتخاب کی نوبت آئی تو پھر مودی پرانی ضد پر اڑ گئے۔ اب کی بار مفتی سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی نے وہی موقف اختیار کیا جو ان کے والد نے کیا تھا، دوبارہ طویل عرصے تک حکومت سازی کا کام معطل رہا اور بالآخر محبوبہ مفتی اپنی اکثریت کی بنا پر وزیراعلیٰ بن گئیں۔ تیسری مرتبہ تو ریاست کے خراب حالات کی وجہ سے حکومت اور اسمبلی ہی ختم کرنا پڑی۔ جب ریاست کی حیثیت ختم کی گئی تو ریاستی اسمبلی موجود نہ تھی جس کی توثیق کے بغیر ریاست کی حیثیت ختم نہیں کی جاسکتی۔

مودی کو اپنا وزیراعلیٰ بنانے میں بار بار کی ناکامی کے بعد یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ ریاست میں ہندو وزیراعلیٰ بنانا ناممکنات میں سے ہے اور بی جے پی کو کبھی اکثریت نہیں مل سکتی، اس لئے انہوں نے ریاست کی حیثیت ہی ختم کردی اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے راستے پر چل پڑے، اب وہ اگلے چند برسوں میں اپنے اس منصوبے پر عمل کرنا چاہتے ہیں اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات اس وقت کرائیں گے جب غیر مسلم ووٹروں کی تعداد مسلمان ووٹروں سے بڑھ جائے گی، لیکن ان کے اس منصوبے کو اندرون ملک بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا، بس بی جے پی کے متعصب رہنما اور اس کی سرپرست آر ایس ایس ہی اس منصوبے میں مودی کی حامی ہیں باقی سیاسی جماعتیں اس کی نہ صرف مخالف ہیں بلکہ انہوں نے ریاست کی حیثیت تبدیل کرنے کے منصوبے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ کانگرس اور دوسری سیاسی جماعتیں بھی اس کی مخالف ہیں، مودی فی الحال ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں لیکن لگتا ہے ان کے چاند تک پہنچنے کے مشن کی طرح کشمیر کا منصوبہ بھی ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے نہ جانے کس خبط میں چاند مشن شروع کیا تھا جس کی ایک بار پہلے بھی ناکامی ہو چکی اور اب بھی 900کروڑ روپے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے بھوکے ننگے بھارت کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے، اور ناکامی کی خفت گزشتہ روز ان کے چہرے سے اس وقت نمایاں تھی جب انہیں تقریب میں اطلاع ملی کہ مشن ناکام ہوگیا ہے، ان کا کشمیر مشن بھی اس طرح ناکام ہوگا، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی نئے مرحلے میں داخل ہونے والی ہے جس سے مودی خوفزدہ ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...