اپنے ساتھی کیساتھ ہاتھ کرنیوالی پولیس کسی اور کو کیا انصاف دیگی

اپنے ساتھی کیساتھ ہاتھ کرنیوالی پولیس کسی اور کو کیا انصاف دیگی

تجزیہ : ایثار رانا

آئیں ہم سب مل کے اس نظام پر ماتم کریں۔جو پولیس اپنی ساتھی کے ساتھ ہاتھ کرسکتی ہے وہ کسی  اورکو کیا انصاف دے گی۔میں مبارکباد دیتا ہوں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو جنکی آنکھوں کے سامنے یہ سب ہوریاہے۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اس میں پولیس کا کیا قصور؟جب آپ ایک عام سپاہی رشوت دیکر بھرتی ہوگا اور اسکی تربیت غلامانہ انداز میں ہوگی جب وہ یہ دیکھے گا کہ ایک معصوم صلاح الدین یہ پوچھتے پوچھتے مرجائیگا کہ تسی مارنا کتھوں سکھیا جے اور اسکے قاتل وقت آنے پر چھٹ جائیں گے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزم افسر مزید ترقیاں پائیں۔عابد باکسر اقبالی بیان کے بعد گمنامی میں چلا جائیگا تو یہ کیوں اپنے جیب میں آنے والے پیسوں سے انکار کریں۔مجھے سپاہی فائزہ سے ہمدردی ہے بیٹاجی اس نظام میں کمزور کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔جس افسر نے ملزم کا نام غلط لکھا اسے پوری قوم کی طرف سے سلیوٹ ہے۔اس نے عین موقع پر بے ایمانی کرکے ہمیں ایک بڑی شرمندگی سے بچالیا ورنہ ہم پہ دنیا شک کرتی کہ ہم بیٹیوں کی  شرم رکھنے والی قوم ہیں۔فائزہ کو شہباز گل کی ٹوئٹ کی تردید نہیں کرنی چاہئے تھی وہ نہیں جانتی وزیر اعظم کیلئیے  بزدار مجبوری اور شہباز گل کتنا ضروری ہیں۔فائزہ کو انصاف ملے نہ ملے پولیس سے فراغت کا لیٹر ضرور مل جائیگا۔آئی جی پنجاب اتنا تو اختیار رکھتے ہونگے۔یہاں فیروزوالا کے وکلا کو خراج تحسین پیش کرنا بھی بنتا ہے جنہونے اپنے ساتھی کی گرفتاری پر جلوس نکالا۔بے شک اس دھرتی پر طاقتوروں اور بااثر افراد کو بچیوں سمیت کسی کو بھی تھپڑ مارنے کا اختیار ہونا چاہئیے۔بھئی یہ ملک بنا ہے وڈیروں اور انکے گروہوں بلکہ طاقتور گروہوں کے لیے ہے۔ماڈل ٹاؤن میں لوگ مرجائیں ساہیوال میں۔مرحائیں صلاح الدین مرجائے فائزاؤں پہ ظلم ہوجائے کیا فرق پڑتا ہے۔یہ ایک جنگل ہے اور جنگل میں طاقتوروں شیروں بھیڑیوں ہاتھیوں کا راج ہوتا ہے جنگل میں انسان  کہاں بستے ہیں۔سو میری بیٹی میری بہن میری بچی فائزہ نواز اتنا کافی ہے کہ ملزم کو آپکے ساتھ ہتھکڑیاں لگی تصویر شائع ہوگئی۔اب ہم آرام سے سوشل میڈیا پہ انصاف کی بروقت فراہمی کی تشہیر کرسکیں گے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...