"پولیس پر دباو ڈال کر ہتھکڑی کھولی گئی اور جج صاحب نے۔ ۔ ۔" وکیل کی ضمانت منظور ہونے پر تھپڑ کھانیوالی لیڈی کانسٹیبل کا موقف بھی آگیا

"پولیس پر دباو ڈال کر ہتھکڑی کھولی گئی اور جج صاحب نے۔ ۔ ۔" وکیل کی ضمانت منظور ...

  


لاہور(ویب دیسک)مقامی عدالت نے فیروزوالہ کچہری میں خاتون پولیس اہلکار پر ہاتھ اٹھانے والے وکیل کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز منظور کرلی جس پر تھپڑ مارنے والے وکیل کی ضمانت پر متاثرہ خاتون پولیس اہلکار نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ انصاف ملے گا۔ادھر ڈی پی او نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم وکیل نے تھپڑ کے علاوہ خاتون اہلکار کو کک بھی مارے ۔

تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز فیروزوالہ پولیس نے ایڈووکیٹ احمد مختار کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر ملزم کے وکلا نے پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور نعرے بازی کی۔وکیل کی ضمانت کے بعد عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خاتون پولیس اہلکار فائزہ نے کہا کہ ایڈووکیٹ احمد مختار کو ہتھکڑی لگاکر عدالت میں پیش کرنے پر وکلاء کو زیادہ غصہ تھا۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں پیشی کے دوران وکلاء نے احمد مختیار کی ہتھکڑی کھولنے پر اصرار کیا اور شور مچانا شروع کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر دباو ڈال کر ہتھکڑی کھولی گئی اور جج صاحب نے صرف احمد مختیار کے بیان پر ضمانت دے دی۔

پولیس اہلکار فائزہ نے الزام لگایا کہ عدالت میں پیشی کے دوران انہیں ملزم کے وکلا نے ہراساں کیا اور کہا کہ لیڈی کانسٹیبل وکیل کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔خاتون پولیس اہلکار سے بد تمیزی کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب نے وکیل کو گرفتار کروایا تھا۔ وکیل کی گرفتاری کے بعد متاثرہ پولیس اہلکار نے انہیں جمعہ کو ہتھکڑی پہنا کر عدالت میں پیش کیا تھا۔

ادھرجیونیوز کے پروگرام ”نیاپاکستان “میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او شیخو پورہ غازی صلاح الدین نے کہا کہ وکیل احمد مختار نے گاڑی فیروز والہ کچہر ی کے دروازے کے سامنے کھڑ ی کردی تھی جس پر موقع پر موجود کانسٹیبل احمد علی نے ان سے کہا کہ آپ گاڑی راستے ایک طرف کھڑی کریں ۔ اس پر احمد مختار وکیل نے اس کو گالیاں دینا شروع کردیں ۔ اس پر خواتین کی حفاظت کیلئے موقع پر موجود لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز نے وکیل احمد مختار کو روکا کہ آپ خواتین کے سامنے اتنی گندی گالیاں نہ دیں جس پر وکیل احمد مختار نے لیڈی کانسٹیبل کو ایک نہیں کئی تھپڑ مارے اور کک بھی لگائی ۔انہوں نے کہا کہ وکیل کی ضمانت نام کی غلطی سے نہیں ہوئی بلکہ ہم نے قانون کے مطابق دفعات قابل ضمانت لگائی تھیں ۔اب اس کیس میں تفتیش کا عمل جاری رہے گا اور اس کاچالان بھی جمع کروایا جائے گا ۔

مزید : جرم و انصاف


loading...