مجھے زہرلادو!

 مجھے زہرلادو!
 مجھے زہرلادو!

  


شایدساری رات سویانہیں،سیاہ حلقوں کے درمیان سرخ آنکھیں،بے ترتیب بالوں کوکھجلی کرتے اس شخص نے جب گفتگو کاآغازکیاتوساتھ ہی اُس نے چائے کی فرمائش بھی کر دی،"چھوٹے ! دوکپ چائے لاؤ" یہ آوازسنتے ہی اس کی آنکھیں کھلیں،چہرہ آسمان کی طرف اورزبان گویاہوئی۔

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں!

میں نے پوچھاکہ یہ شعر توساغر صدیقی سے منسوب ہے، کہنے لگا کہ یار یہ شاعر بھی ہم جیسوں پرمسلط ہونے والے عذابوں اور ہماری موتوں پر ہی نوحہ کناں رہے ہیں۔کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن ہاتھ باندھ کر عرض کیا کہ" جناب اب آپ پر کون سا عذاب مسلط ہے اور کب موت پڑی ہے آپ کو؟"پھرسارے زمانے کے غم سنا دیئے اورمجھے یوں لگ رہاتھا کہ جیسے یہ ایک شخص نہیں بلکہ پورا معاشرہ بول رہاہے۔

دودھ،دہی،آٹا،چاول،گھی،نمک،مرچ،مصالحے،بجلی ،گیس،پانی،گھر کا کرایہ،سفری سہولیات،بچوں کی فیسیں،بیگم کے خرچے،مہمان داری،خوشی ،غمی،شادی بیاہ،تیمار داری،بھکار ی ،کوڑے والےکی فیس،سکیورٹی گارڈ کی فیس،موبائل بیلنس،محرم کی نیاز،ربیع الاول کی محفلیں،چھوٹی عید،بڑی عید،درباروں پر حفاظت پاپوش،ٹول ٹیکس،پارکنگ فیس،چڑیاگھر کی ٹکٹ،سینماکی ٹکٹ،پٹرول،ڈیزل،مٹی کاتیل،سرسوں کاتیل اورنجانے کیا کیااس نے گنا دیا،ابھی وہ بول رہاتھا کہ میں نے اسے درمیان میں ہی ٹوک دیا،وہ یوں رکاجیسے بھاگتے گدھے کو راستہ پرکھڑا کوئی شخص کان سے پکڑ لے کہ جاتا کہاں ہے؟میں نے پوچھا کہ"کہ کوئی سپرسٹوربنایاہے کہ سب چیزوں کے نام بتارہے ہو تو کہنے لگاکہ لگتاہے شعر دھیان سے نہیں سنا تم نے۔بھئی مجھے جواب چاہیے کہ میرا جرم آخر کیاہے؟سب کچھ تومہنگاہوچکاہے اب اتنی مہنگائی میں کیاکروں؟ کہاں جاؤں؟ مرنابھی تواب آسان نہیں رہا،مرنے والا تومر جاتاہے اور اس کے بعدتجہیزوتکیفن،پہلی روٹی،قل کاختم،گیارہویں کاختم اورپھرچالیسواں،ہرسال برسی بھی کراناپڑتی ہے اوریہ سب پانی کے ایک گلاس پرتو نہیں ہوسکتا،یہ بھی پورا پورا ولیمہ ہے،انواع واقسام کے کھانے نہ پکائیں توکون جینے دیتاہے زندوں کو۔اس لیے مر کر بھی گھروالوں پر نئے خرچوں کابوجھ ڈالنے والی بات ہے۔

زندہ رہنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں اورمرنے کے لیے میرے اہل خانہ کے پاس کچھ نہیں۔نوکریوں کے وعدے اورتبدیلی کاخواب سجائے ووٹ دیاتھا،اب کیامعلوم تھا کہ تبدیلی کاانتظارکرتے کرتےیوں زندگی اجیرن بن جائے گی،کبھی خوشی بھی ہوتی ہے کہ کرپشن کرنے والوں کواندرکردیاہے چلوجنہوں نے ہماری زندگی بدلنے کے لیے کچھ نہیں کیا تھا ،اب لیں مزے جیل کے۔پھرخیال آتاہے کہ جو عوام کے لیے کچھ نہیں کرتے کیاان کاحشر ایسے ہی ہوتاہے؟ اگرہاں،،، توپھراب کے برسراقتدارحکمران اگلے دورمیں جیلوں میں ہوں گے؟کسی نتیجے پرپہنچنا مشکل ہورہاہے کیوں کہ گھبمیرمسائل میں پاگل ہورہاہوں۔

اُس کاچہرہ لال پیلاہورہاتھا اوروہ آگ بگولہ تھا،اتنے مسائل میں جی نہیں سکتا،مرناچاہتاہوں،تم ایسا کروکہ چائے کے بعدمجھے زہرلادو۔

مہنگائی کی چکی میں پسےعوام اورخط غربت کے آس پاس رہنے والےلوگ ہردورمیں پچھلے حکمرانوں کو یاد کرتے ہیں،عام آدمی خودسےہی سوال کرتاہےکہ کیاہرآنے والا دورپچھلے سے بدترہوگا؟سیاسی وابستگی سے ہٹ کرسوچیں،مسلم لیگ نون،ق اور الف سے لے کر "ی" تک سب جماعتوں سے باہرہوکرسوچیں کہ سرکاری نوکری ملتی نہیں،پرائیویٹ ادارے زبوں حالی کاشکارہیں،کاروبارکرنامشکل ہے،کسان کواتنی آمدن نہیں جتناخرچہ ہوجاتاہے،پھرلوگ خودکشی کانہیں سوچیں گے توکیاسوچیں گے؟مایوس نہ ہوں گے توکیاکریں گے؟

خداتوبندے کومایوس نہیں کرتامگرخدا پرکامل یقین بھی ہو،اس نے توفرمایاکہ"زمین پر رینگنے والی ہرچیزکے رزق کابندوبست اُس کی ذمہ داری ہے"فرمایا"اوراللہ تعالیٰ بہترین رزق دینے والا"پھرفرمایا"اس کی رحمت سے مایوس مت ہو"وہ بندے کے ہر حال سے بھی ہمہ وقت باخبرہے،فرمایا"اورہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں"۔۔یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی بڑی سے بڑی مشکل کوحل نہ کردے،توکل ہوناچاہیے۔ فرمایا"بے شک اللہ تعالیٰ ہرچیزپرقادرہے"۔اللہ تعالیٰ کے کلام میں شک وشبے کی کوئی گنجائش ہی نہیں،پھرانسان کواس ذات پربھروسہ رکھناچاہیے۔ہاتھ پرہاتھ دھرکرنہ بیٹھے رہیں،محنت کریں اورمحنت کاصلہ ملنے کاپختہ یقین بھی رکھیں۔

مہنگائی اور بیروزگاری کے مسائل اپنی جگہ مگرزندگی اُس ذات کی عطاہے،اس کی بہت سی انمول نعمتیں بھی انسان کے پاس ہیں،اگرانسان کوانہیں نعمتوں کی دستیابی کاہی احساس ہوجائے توپھرکون ناشکرایہ کہے گا کہ مجھے زہرلادو؟۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، www.facebook.com/munazer.ali )

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...