کراچی پیکج پرسیاست کی جائے اور نہ ہی اسے متنازع بنایا جائے،صوبائی حکومت اور سندھ کے ادارے ہی کراچی کو چلائیں گے: نوابزادہ تیمور تالپور 

 کراچی پیکج پرسیاست کی جائے اور نہ ہی اسے متنازع بنایا جائے،صوبائی حکومت اور ...
 کراچی پیکج پرسیاست کی جائے اور نہ ہی اسے متنازع بنایا جائے،صوبائی حکومت اور سندھ کے ادارے ہی کراچی کو چلائیں گے: نوابزادہ تیمور تالپور 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سندھ  نوابزادہ تیمور تالپور نے کہا ہے کہ  کراچی پیکج میں سندھ حکومت کا 750 ارب روپے کا حصہ ہے، کراچی پیکج پرسیاست کی جائے اور نہ ہی اسے متنازع بنایا جائے،حال ہی میں قائم کمیٹی کا انتظامی معاملات میں کوئی کردار نہیں ہوگا،صوبائی حکومت اور سندھ کے ادارے ہی کراچی کو چلائیں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ کراچی میں دہشتگردوں کا راج ختم ہوچکا، اب یہاں ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہوگا، پیپلز پارٹی کی قیادت کا وفاق میں حکومت ہونا ضروری ہے تاکہ صوبوں کو این ایف سی کا حق ملے، تنخواہوں و پینشنز میں اضافہ ہو، اور عوام کو روزگار ملے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گذشتہ چار پانچ برسوں سے کراچی کو نظرانداز کرتی آ رہی ہے،وزیراعظم کے 2019 میں اعلان کردہ 162 ارب روپے ابھی تک کراچی کونہیں ملے، کراچی پیکج میں سندھ حکومت کا 750 ارب روپے کا حصہ ہے، کراچی پیکج پرسیاست کی جائے اور نہ ہی اسے متنازع بنایا جائے،حال ہی میں قائم کمیٹی کا انتظامی معاملات میں کوئی کردار نہیں،صوبائی حکومت اور سندھ کے ادارے ہی کراچی کو چلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم کو کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر اضلاع کا بھی دورہ کرنا چاہیے تھا،سندھ کے کئی اضلاع  سیلاب سے تباہ ہو چکے ہیں، میرپور خاص، سانگھڑ،عمر کوٹ،بدین، شہید بینظیرآباد اور کاچھو کی زراعت ختم ہوچکی ہے،کپاس،مرچ پیاز، ٹماٹر اور دوسری سبزیوں کی فصل مکمل تباہ ہوگئی ہے،بارش سے گنا، چاول، کیلا اور دوسرے باغات کو بھی بہت نقصان ہوا ہے۔ نوابزادہ تیمور تالپور نے کہا کہ سندھ کے بارش متاثرین وفاقی حکومت کی توجہ سے محروم ہیں، اتنی تباہی کے باوجود وزیراعظم کے کان پر جوں تک نہ رینگی،وزیراعظم نے بارش سے متاثر کاشتکاروں کی مدد کا اعلان نہ کرکے مایوس کیا، قدرتی آفات میں وفاقی حکومت کی اتنی لاتعلقی فقط عمران خان کا شیوہ ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -