کھائی جاؤ  کھائی جاؤ

  کھائی جاؤ  کھائی جاؤ

  

زندگی بھر میرا طرزِ عمل اور وطیرہ یہ رہا ہے کہ بلا وجہ میں کسی کی تعریف نہیں کرتا، البتہ اگر مجبوری یا نظریہ ضرورت کے تحت کسی کی بلاوجہ تعریف کرنا ناگزیر ہو تو میں تکلف سے کام بھی نہیں لیتا بلکہ بلا تکلف  ممدوح کا قرب حاصل کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتا ہوں۔ ویسے ایسا میں روز روز بھی نہیں کرتا، لیکن جب کرتا ہوں توٹکا کر کرتا ہوں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایسا میں بلاوجہ بھی نہیں کرتا دنیا میں رہنے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے اور پھر اپنے کئے کا بھرنا بھی پڑتا ہے۔خالی بھانڈا بھرنے کے لئے مشقت کرنا پڑتی ہے اور آج ہی کرنا پڑتی ہے نہیں تو پھر ضرب المثل پڑھنا پڑتی ہے اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔   چڑیاں بھی بلاوجہ کھیت نہیں چگتیں۔ بھوکا تو کچھ بھی کرسکتا ہے اور خصوصا جب محافظ سو جائے  تو کچھ بھی ہو سکتا ہے آؤ محافظ کو جگاتے ہیں، مگر کیسے؟اس کی مراعات اور اختیارات میں اضافہ کر کے دیکھتے ہیں۔ مراعات اور اختیارات میں بلاوجہ اضافہ کرنے سے خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔ پڑوسی کھیت کے مالک کو بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ ورنہ دیگر ”کامے“ (کام کرنے والے) لوگوں کی دل آزاری ہوگی اور وہ بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ کھیت چگانے میں ان کا بھی حصہ ہو جائے اور ان کی مراعات اور اختیارات بھی بڑھ جائیں اس طرح اختیارات کی جنگ شروع ہو جائے گی۔

طاقتور بہرحال اس کا نوٹس لے گا اور اپنے اختیارات میں مداخلت کو مائنڈ کر جائے گا۔ پھر تو بلا مشروط معافی کا آپشن ہی ہو گا۔ معافی تلافی میں وقت لگے گا اتنے میں کھیت اپنی خیر منائے نہیں تو اختیارات کی جنگ جیتنے والے جشن منائیں گے۔ گھوڑے ناچیں گے بگھیاں چلیں گی اور کامیابی پانے والے ان میں سج دھج کے بیٹھیں گے اتنے میں شور مچ جائے گا کہ غریب ملک اور اتنا بڑا جشن اور وہ بھی کونسی بات پر۔ سب سے پہلے شور ختم کرتے ہیں سارے ملوث لوگوں کو معطل کرکے جان چھڑوائیں اور انکوائری کی جائے ایسا کیوں ہوا ہے۔ یہ کوئی بلا وجہ تو نہیں ہوا اختیارات کی جنگ ہی تو آج کل اصل جنگ  ہے۔ اگر جیتے تو جشن ورنہ معافی بلا مشروط عام طور پر کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی بلا وجہ نہیں ہوتا جو بلاوجہ ہوتا ہے وہ مذاق ہوتا ہے۔ ویسے بیشمار واقعات بلا وجہ ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر کشمیر کے سلسلہ میں مودی کی قانون سازی، ٹرمپ کا اچانک نمودار ہونا اور امریکی صدر بن جانا، سعودی عرب کا پاکستان سے آنکھیں پھیرنا اور تیل بند کر دینا وغیرہ وغیرہ۔ یہ واقعات انتہائی اہم ہیں مذاق تھوڑا ہیں  مذاق، بلاوجہ اور احمد سعید کی کتاب بلاوجہ۔ احمد سعید ایک نوجوان مزاحیہ شاعر ہیں جن کو میں نے کئی مشاعروں میں یہ نظم سنا کر خوب داد سمیٹتے ہوئے دیکھا ہے

اکھ وچ مٹی پائی جاؤ پائی جاؤ

ملک نوں رل مل کھائی جاؤ کھائی جاؤ

 گویا کہ وہ سامعین کو یہ مشورہ دے کر خوش کر دیتے تھے کہ کھائی جاؤ کھائی جاؤ ایسی شاعری پر تو پاکستان میں لوگ لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں اور ان کا لوٹ پوٹ ہونا بلا جواز نہیں، کیونکہ وہ کھانے کے تو فریفتہ ہیں، جو کچھ ملے کھا جاتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں مارتے۔ کامے ایسے ہیں کہ مزدوری کے لئے بیرون ملک جانے سے بھی نہیں کتراتے بیشک بعدازاں کامے کے الزام کو برقعہ پہنانے کے لئے بیمار ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔ بیمار ہونا بڑی بات نہیں بیمار ذہن کا ہونا بہت بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ معرکہ آرائی کے لئے پہلے ذہن بنانا پڑتا ہے پھر صورت حال سے پالا پڑتا ہے۔ احمد سعید کی شاعری کھائی جاؤ کھائی جاؤ کا درس دیتی ہے، اور جو خوب کھا لیتے ہیں انہیں ”پالا“ تو لگنا ہی ہوتا ہے، بلکہ ان کا اپنے ہم جنسوں سے پالا پڑتا ہے۔ ہم جنس کہاں سے آگئے، یعنی اپنے ہی جیسے کھانے والے۔ کھانے والوں کا روز محشر آچکا ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ہاتھ پاؤں سن ہو رہے ہیں،بلکہ آنکھوں میں مٹی ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن منکر نکیر کچے چٹھے کھلار چکے ہیں۔ اہم شہادت کی ضرورت ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اہم شہادت پیش کرنے سے کہیں بہت ہی اہم شہادت نہ ہو جائے اور لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

محتاط رویہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہوا دیکھ بھال کر کھانا چاہئے کہیں کھانا پینا اگلنا نہ پڑ جائے۔ کھانے کا مشورہ بے سود، اس بات کا ادراک احمد سعید کو بخوبی ہو گیا ہے اِس لئے انہوں نے شاعری سے نثر کی طرف ٹرن لیا ہے۔ تاکہ لوگوں کو تبدیلی محسوس ہو۔ ان کا تبدیلی کا سفر کوئی مذاق نہیں۔ کتاب کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں حس مزاح سے مستفید فرمایا ہے اور ان کو اپنی اس صلاحیت کا اندازہ زمانہ طالب علمی میں ہی ہو گیا تھا اور انہوں نے اپنی اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور زندگی کے حالات و واقعات کو جب تحریر کیا تو طنز و مزاح مختلف تحریروں کی شکل میں سامنے آیا۔ بنیادی طور پر طنز و مزاح سے مصنف معاشرہ کے چہرے سے اس خوبصورت انداز سے گھنڈ(گھونگٹ) اتارتا ہے کہ لوگ محظوظ بھی ہوتے ہیں اور اصل خدوخال بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اصل خدوخال دیکھنے سے ہی حقیقت بے نقاب ہوتی ہے۔ نقاب جھٹک کر  اتارنے اور نقاب سرکانے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یہی بات مزاح نگار اور عام ادیب کے طرز تحریر میں نمایاں ہوتی ہے۔ لوگ اب سنجیدہ گفتگو سن سن کر تھک گئے ہیں اب وہ طنز و مزاح سننا چاہتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے مستقبل کی بہتری کے لئے کبھی بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے، بلکہ ان کے ساتھ آج تک مذاق ہوتا رہا ہے۔

گفتگو سنجیدہ اور عملی طور پر مذاق اور یہ مذاق دیکھ دیکھ کر اب یہ قوم بھی مذاق سننے کے لئے پوری طرح ذہنی طور پر تیار ہے اور اس موڈ میں ہے کہ کوئی احمد سعید سٹیج پر آئے اور اس قوم کا مذاق اڑانے والوں   پر طنز و مزاح کے نشتر چلائے تاکہ ان کو اندازہ ہو کہ ایک نہ ایک دن حقیقت نے بے نقاب ہونا ہے اور ہر چیز کا اصل چہرہ سامنے آنا ہے۔ مصنف نے ہلکے پھلکے انداز میں معاشرتی مسائل کو قاری کے سامنے پیش کیا ہے، بلکہ نہ صرف پیش کیا  اس کو اتنا ہنسا دیا ہے کہ اس کی پلکیں بھیگ گئی ہیں مسکراتے چہرے اور بھیگی پلکوں کو جو بھی دیکھے گا وہ سمجھ جائے گا کہ اس قوم کے ساتھ مزاق ہواہے اور یہ بہت بڑا مذاق ہے۔ آو احمد سعید کی کتاب بلا وجہ کا مطالعہ کر کے اپنے آپ کو ہلکا پھلکا کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -