چین کی ختن ائر بیس کی توسیع

چین کی ختن ائر بیس کی توسیع
چین کی ختن ائر بیس کی توسیع

  

درج ذیل سطور میں ایک مختصر انگریزی آرٹیکل کا اردو ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ مضمون 4ستمبر 2020ء کو انڈیاکے ایک معروف  اخبار India Today میں چھپا ہے اور اسی کو گوگل نے وائرل کر دیا ہے۔ گوگل کا چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی چونکہ ایک ہندو ہے اور چنائی (سابق مدراس) کا رہنے والا ہے اس لئے انڈین پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیامیں حالیہ انڈو چائنا کشیدگی پر جو مواد شائع یا نشر ہوتا ہے اس کو فوراً سوشل میڈیا پر ڈال کر ساری دنیا میں وائرل کر دیا جاتا ہے۔اگر آپ کے پاس سمارٹ موبائل ہے اور نیٹ بھی استعمال کرتے ہیں اور اگر دفاعی امور و معاملات سے کوئی دلچسپی ہے تو آپ گوگل پر فلیش / وائرل کی جانے والی ان خبروں / معلومات کو دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کا یہ لکھاری جس نے یہ آرٹیکل لکھا ہے ایک عرصے سے اسی میگزین کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کا نام کرنل (ریٹائرڈ) ویناٹک بھٹ (Vinayak Bhat) سیٹلائٹ سے کھینچی جانے والی تصاویر وغیرہ کو پڑھنا اور اس کا تجزیہ کرنا کرنل بھٹ کی سپیشل فیلڈ ہے۔ اس نے 33سال انڈین آرمی میں گزارے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انڈیا نے اپنے جو آبزرویشن سیٹلائٹ فضا میں چھوڑے ہوئے ہیں وہ انڈیا کے مغرب میں لداخ سے لے کر انڈیا کے مشرق  میں اروناچل پردیش اور اس کے اردگرد کے سارے علاقوں کی تصاویر (Images) جس مرکز کو بھیجتے ہیں اس کا رابطہ ”انڈیا ٹو ڈے“ کے کرنل بھٹ سے مسلسل قائم ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس کالم / مضمون کا مطالعہ کریں تو یہ بات یاد رکھیں کہ سیٹلائٹ تصاویر جو آپ کے سمارٹ موبائل پر آتی ہیں وہ بڑی رنگیں اور باتفصیل ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ روزنامہ ”پاکستان“ کے ادارتی صفحہ پر رنگین تصاویر اور خاکوں کو نہیں دکھایا جا سکتا اس لئے یہ ایک طرح کی اشاعتی مجبوری ہے…… ہاں البتہ میں نے یہ اہتمام کیا ہے کہ اس اردو ترجمہ میں جو عسکری اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، ان کی تشریح کالم کے آخر میں کر دی ہے۔اب کرنل بھٹ کا کالم ملاحظہ کیجئے:

……………………

چین نے جون 2020ء سے لداخ میں اپنی افواج کی لاجسٹک (1)سہولیات کو ازِ سرِ نو ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ختن (Hotan) کی ائر بیس (2) پر دو نئے ائر سٹرپ(3) کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ چینی ائر بیس، مشرقی لداخ کے نزدیک واقع ہے۔ان ائر سٹرپس پر اواخر جون میں کام شروع کیا گیا تھا۔

یہ ختن ائر بیس درۂ قراقرم(4) سے 250کلومیٹر کے فاصلے پر اور مشرقی لداخ میں واقع پاگونگ جھیل (5) کی فنگر نمبر(6) 4سے 380کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس ائر بیس کی اَپ گریڈیشن کا عمل ایک عرصے سے جاری تھا جس میں ایمونیشن (7) سٹور کرنے اور لڑاکا(8) طیاروں کے ہینگرز(9) بنائے جا رہے تھے۔ بعض عمارات PLA (پیپلزلبریشن آرمی) کی راکٹ فورس (10) کا حصہ تھیں۔ یہ فورس، چین کی الیٹ فورس ہے جو اس کے روائتی اور جوہری میزائلوں کی ذمہ دار ہے۔

انڈیا پہلے ہی جولائی اور اگست میں اس ائر بیس پر J-20 لڑاکا طیاروں کی صف بندی (11) کی خبریں دے چکا ہے۔یہ J-20 چین کی پانچویں جنریشن (12) کا طیارہ ہے…… ختن کی یہ ائر بیس 3330 میٹر لمبی اور 60میٹر چوڑی ہے۔ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر دو نئے ائر سٹرپس کی تعمیر کا کام (جو اواخر جون میں شروع کیا گیا تھا) بڑے صاف انداز میں دکھا رہی ہیں۔ جولائی میں اچانک ایک بڑا ایمونیشن ڈپو بھی ابھرتا نظر آ رہا ہے۔ اور 3ستمبر کو لی جانے والی تصاویر میں اس ڈپو کی (Plinth) پر جاری کام دیکھا جا سکتا ہے۔اس ائر بیس پر پہلے ہی ایک ائر سڑپ موجود تھا۔ اب ان تصاویر میں دو نئے ائر سٹرپس بھی نظر آ رہے ہیں جو 4کلومیٹر لمبے اور 60میٹر چوڑے ہیں۔ نئے اور پرانے ائرسٹرپس کے درمیان خالی جگہ چھوڑ دی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑا ائرپورٹ (13) زیرِ تعمیر ہے اور یہ ٹرمینل بلڈنگ ان دونوں ائر سٹرپس کے درمیان ہے۔

اگر اس ختن ائر بیس میں J-20لڑاکا بمبار (14) بھی رکھے جانے ہیں اور مستقل طور پر رکھنے مقصود ہیں تو ایمونیشن سٹور کرنے کے لئے ایک بڑا گودھام گھر بھی درکار ہوگا۔

ایمونیشن سٹور کرنے کی یہ عمارتیں یا سٹور یا گودھام گھر ان کو جو بھی نام دیں، میزائلوں کو سٹور کرنے کے لئے ایک معاون ماحول کی متقاضی بھی ہوں گی۔ اس ائر بیس کے دائیں جانب کم از کم 27ایمونیشن سٹورز دیکھے جا سکتے ہیں جو پرانے ٹرمینل (15) سے تقریباً 4کلومیٹر اور نئے ائر سٹرپس سے 2.5کلومیٹر کے فاصلے پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے چاروں طرف ایک سخت اور ٹھوس جنگلا بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ غالباً سیکیورٹی جنگلے کی دوسری تہہ ہو گی۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران اس ختن ائر بیس کی جو سیٹلائٹ تصاویر لی گئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین ایک تواتر سے ان عمارات کو تعمیر کر رہا ہے…… اس کے نزدیک ہی ایک اور ائرپورٹ تعمیر کیاجا رہا ہے جس کا نام کیریا ائرپورٹ (Keria Airport) ہے۔ اس کی تعمیر کے لئے جو لیبر متعین کی گئی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اور دیگر تعمیراتی سٹاف، مشرقی ترکستان سے لایا گیا ہے۔ اب اس جگہ کو سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اتنی وسیع و عریض عمارات ہیں کہ ان کو سیٹلائٹوں کی نظر سے پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں۔

چین، حالیہ سٹینڈ آف (16)کو طول دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلزلبریشن آرمی (PLA) جو جھیل پاگونگ پر فنگر نمبر4پر آکر بیٹھ گئی ہے اس کے واپس جانے کا کوئی امکان اس وقت تک نہیں ہوگا تا آنکہ انڈین مسلح افواج اس کو اٹھا کر باہر نہ پھینک دیں!

……………………

اصطلاحات کی تشریح

1۔لاجسٹک: اس کا اردو ترجمہ انصرام کیا جاتا ہے۔ فوجی ٹروپس کی نقل و حرکت، ساز و سامان اور قیام و طعام کی تنظیم کو ”لاجسٹک“ کہا جاتا ہے۔

2۔یہ ایک بڑا فوجی ائر بیس ہوتا ہے جو ملٹری فورس، ملٹری طیاروں کے آپریشنوں میں استعمال کرتی ہے۔

3۔ائر سٹرپ: وہ جگہ جو طیاروں کی ٹیک آف اور لینڈنگ کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس کی سطح بالعموم بلیک ٹاپ نہیں ہوتی اور اس میں کم سے کم تکنیکی یا امدادی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔

4۔درہ قراقرم: انڈیا اور چین کی سرحد پر ایک درہ جس کی بلندی 18176فٹ ہے۔ 1984ء تک یہ درہ پاک چین سرحد کہلاتا تھا۔

5۔پاگونگ جھیل (Pangong TSO): سلسلہ کوہِ ہمالیہ کی ایک جھیل ہے جس کی لمبائی 134کلومیٹر ہے۔ یہ لداخ سے تبت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا 60% حصہ چین میں ہے اور 40% لداخ میں ہے۔

6۔فنگر نمبر4: جھیل پاگونگ کے کنارے پر واقع ایک کوہستانی شاخ جو انڈیا اور چین کے درمیان وجہ تنازعہ ہے۔

7۔ایمونیشن: گولہ بارود 

8۔لڑاکا طیارہ: ایک فکسڈ ونگ فوجی طیارہ جو بالعموم فضا سے فضا کی لڑائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔

9۔ہینگرز: وہ مقام جہاں فوجی طیارہ ٹھہرایا جاتا ہے۔

10۔راکٹ فورس: وہ فورس جو لڑائی میں راکٹ استعمال کرتی ہے۔

11۔صف بندی: انگریزی لفظ Deployment کا اردو ترجمہ ہے۔ کسی بھی فورس یا ہتھیار کو جنگ کرنے کی غرض سے جب کسی مقام پر ٹھہرایا جاتا ہے تو اسے صف بندی کا نام دیا جاتا ہے۔

12۔پانچویں جنریشن: کسی ہتھیار کی پانچویں نسل…… ہر نسل (جنریشن) گزشتہ نسل کا اَپ گریڈ ایڈیشن ہوتی ہے۔

13۔ائرپورٹ: وہ ہوائی اڈہ جس میں کئی سہولیات ہوتی ہیں۔ یہاں سے سویلین طیارے اڑتے اور لینڈ کرتے ہیں۔ اس میں ٹریفک کنٹرول ٹاور بھی ہوتا ہے۔ مسافروں کی نشست و برخاست کی جگہ ہوتی ہے اور ہوائی جہازوں کی ابتدائی دیکھ بھال کی سہولت بھی ہوتی ہے۔

14۔لڑاکا بمبار: وہ طیارہ جس میں بم رکھ کر لے جائے جاتے ہیں تاکہ دشمن پر بمباری کی جا سکے۔ لڑاکا بمبار طیارے سے دہرا کام لیا جاتا ہے یعنی فضا سے فضا میں لڑائی (کمبٹ) کا بھی اور بمباری کا بھی۔

15۔ٹرمینل: فضائی مسافروں وغیرہ کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کی ایک تعمیری سہولت (Facility)

16۔سٹینڈ آف: عسکری کشیدگی، دو بدو ہونے کی کیفیت۔ ایک ایسی حالتِ جنگ جس کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہو۔

قارئین کرام! اب آپ کو شاید معلوم ہو گیا ہو گا  کہ کسی عسکری تحریر کو اردو میں ترجمہ کرنے سے تفہیمِ مطالب کی کیاکیا مشکلات پیش آتی ہیں!

مزید :

رائے -کالم -