ملکی وسائل پر مبنی سستا توانائی سسٹم مقامی ضروریات کا بہترین حل ہے: فیاض الحسن 

    ملکی وسائل پر مبنی سستا توانائی سسٹم مقامی ضروریات کا بہترین حل ہے: فیاض ...

  

 لاہور(جنرل رپورٹر) وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ مقامی وسائل پر مبنی سستا توانائی مِکس ملک کی توانائی کی ضروریات کا بہترین حل ہے اور موجودہ حکومت نیک نیتی اور قومی خدمت کے جذبے سے اس عزم کی تکمیل پر کام کر رہی ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ لیہ کے علاقے چوبارہ میں پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے دس ارب کی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والا 100 میگا واٹ کا پاکستان کا سستا ترین سولر پاور پراجیکٹ اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے  انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں قائد اعظم سولر پاور پراجیکٹ کا ٹیرف 14 سے 18 سینٹ طے کیا گیا تھا لیہ سولر پاور پراجیکٹ محض 3.7 سینٹ فی یونٹ کے ریٹ پر بجلی قومی گرڈ میں شامل کرے گا  فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ ن لیگ نے اپنے اقتدار کے آخری دو سال قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار پر پابندی لگا کر  اور درآمد شدہ مہنگے فیول سے مہنگی بجلی کے منصوبوں سے اربوں روپے کمیشن وصول کر کے ملک کے ساتھ زیادتی کی انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے سستی توانائی کے حصول کی داغ بیل ڈالی۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اب تک 10870 میگاواٹ ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر کام شروع کیا جا چکا ہے جبکہ نیا پاکستان سولرائزیشن پروگرام پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے 15000 ہزار پرائمری سکول اور 2400 بنیادی مراکز صحت شمسی توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اب تک تقریباً آٹھ ہزار سکول شمسی توانائی پر منتقل ہو چکے ہیں، باقی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب بھر کی تقریباً ساٹھ سرکاری جامعات کی ایسکو ماڈل پر سولر پر منتقلی کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی سولرائزیشن سے نہ صرف ساٹھ میگا واٹ کلین اینڈ گرین اور سستی بجلی مہیا ہو گی بلکہ اس منصوبے سے ان جامعات کو سالانہ ایک ارب اور اگلے پچیس سالوں میں پچیس ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔ یونیورسٹیوں کی سولرائزیشن میں حکومت کا ایک روپیہ خرچ نہیں ہوگا۔

فیاض الحسن 

مزید :

صفحہ اول -