طلبہ و طالبات کا ریڈیو پاکستان براڈ کاسٹنگ لاہور مرکز کا مطالعاتی دورہ 

 طلبہ و طالبات کا ریڈیو پاکستان براڈ کاسٹنگ لاہور مرکز کا مطالعاتی دورہ 

  

لاہور(فلم رپورٹر)محکمہ تعلقات عامہ پنجاب میں انٹرن شپ کے لئے آئی ماس کمیونیکیشن کی یونیورسٹی آف نارووال، یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب اور ایم اے کالج کے طلبہ و طالبات نے ریڈیو پاکستان براڈ کاسٹنگ لاہور مرکز کا مطالعاتی دورہ کیا۔اس موقع پرشعبہ نیوز کے سب ایڈیٹر عمران حسن نے طالبات کو ریڈیو پاکستان کے مختلف سیکشن کا دورہ کراتے ہوئے بتایا گیا کہ ریڈیو پاکستان ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہے۔قیام پاکستان سے پہلے اور بعد ریڈیو کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔آغا ناصر کا شمار ریڈیو پاکستان کے بانیوں میں ہوتا ہے۔قیام پاکستان سے قبل صرف ڈھا کہ،پشاور اور لاہور میں ریڈیو سٹیشن قائم تھے۔جس کو پاکستان بننے کے بعد سے ملک بھر میں وسعت دی گئی۔مصطفےٰ علی ہمدانی نے پاکستان بننے کا اعلان لاہور ریڈیو پر 13اگست1947 ء کو رات 11بجکر 59منٹ پر اردو اور انگریزی زبان میں اناؤنسمنٹ کر کے کیا۔ان کے یہ الفاظ اور وہ خود تاریخ میں امر ہو گئے ہیں۔ طالبات کو بتایا گیا کہ اسوقت پاکستان بھر کے ریڈیو سٹیشنز پر 34زبانوں میں عو ام کے لئے ہر موضوع کے معلوماتی پروگرام طور نشر کئے جاتے ہیں۔وقتی طور پر آج کل الیکٹرانک میڈیا چھایا ہوا ہے مگر ریڈیو کی اہمیت سے پھر بھی کسی کو انکار نہیں ہے۔عوام ریڈیو پاکستان اور دیگر ایف ایم ریڈیو کے پروگراموں کو ابھی تک اپنی تفریح کا زینہ بنائے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو کے ڈراموں،بچوں کے پروگراموں،کسانوں کے معلوماتی پروگراموں، فوجی بھائیوں کے گیت پروگراموں کو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔آ ج بھی نشر مکرر کے طور پر لوگوں کی فرمائش پر نشر کیا جاتا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے نیوز اینڈ کرنٹ افئیر چینل کا اجرا 2000ء میں کیا۔جس میں ملکی و غیر ملکی حالات حاضرہ پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے۔طالبات کو نیوز روم،رپورٹنگ روم اور دیگر سیکشنز کا بھی دورہ کرایا گیا۔

مزید :

کلچر -