خواتین صحافیوں کا ”ڈیجیٹل بدزبانی کے خلاف اتحاد“، مطالبات پیش

      خواتین صحافیوں کا ”ڈیجیٹل بدزبانی کے خلاف اتحاد“، مطالبات پیش

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خواتین صحافیوں نے حکومت اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی بدزبانی اور حملوں کو روکنے کے لیے اپنے 6 نکاتی مطالبات پیش کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو عملی اقدامات کرنے پر زور دیا۔صحافیوں کی جانب سے 'ڈیجیٹل بدزبانی کے خلاف اتحاد' کے عنوان سے جاری بیان کے مطابق 150 سے زائد خواتین صحافیوں نے مشترکہ طور پر 6 مطالبات پیش کیے اور مرکزی حکومت سے بیان سے آگے بڑھ کر اقدامات کرنے پر زور دیا۔بیان میں کہا گیا کہ 'حکومت، سیاسی جماعتیں اور ان کے حامیوں اور سوشل میڈیا ونگز کی جانب سے ہونے والے گھناؤنے حملوں سے ہمارے کام، ذہنی طورپر اور ہماری سلامتی متاثر ہورہی ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'یہ حملے صنفی بنیاد پر محض بدزبانی تک محدود نہیں ہیں '۔خواتین صحافیوں نے کہا کہ 'ہماری چند ساتھیوں نے 12 اگست کوحقائق سے آگاہ کیا جس سے میڈیا میں موجود خواتین کو اپنی مشکلات سامنے لانے میں مزید آسانی ہوئی'۔انہوں نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو خاص کر سیاسی جماعتوں کی رپورٹنگ پر نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں حکومت یا کسی سیاسی جماعت کے مؤقف سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے'۔بیان کے مطابق 'کسی صحافی کی جانب سے تنقید پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی ٹی آئی)، مذہبی جماعتوں اور ریاستی اداروں سے منسلک اکاؤنٹس سے ناشائستہ زبان استعمال کی جاتی ہے'۔

ڈیجیٹل بدزبانی

مزید :

صفحہ آخر -