شیخوپورہ، تجاوزات قائم کروانے میں لاکھوں روپے بھتہ وصولی کا انکشاف 

  شیخوپورہ، تجاوزات قائم کروانے میں لاکھوں روپے بھتہ وصولی کا انکشاف 

  

شیخوپورہ(سلمان ارشد شیخ سے)شہر بھر میں قائم پختہ و عارضی تجاوزات کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ ان تجاوزات کے قائم ہونے کے پیچھے میونسل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کے بعض افسران کا ہاتھ ہے، ذرائع کے مطابق فقط شہر بھر سے تجاوزات قائم کروانے کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کا  اندازہ 30لاکھ روپے  سے زائد بتایا گیا ہے جس میں سے باقاعدہ حصہ بعض بااختیار ضلعی افسران کو بھی پہنچایا جاتا ہے جن کی آشیر باد کے تحت ہی کرپٹ افسران و ملازمین یہ بھتہ خوری دھڑلے سے انجام دے رہے ہیں۔ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کے ریٹس مقرر ہیں جن سے ماہانہ فی کس 3تا 5ہزار روپے وصول کئے جاتے ہیں اسی طرح ڈھابہ مالکان اور تجارتی مراکز و بازاروں کی دکانوں کے باہر لگے اسٹالزسے ماہانہ فی کس 5تا 8ہزار روپے بھتہ لیا جاتا ہے جبکہ یہ اسٹالز لگانے والے جن دکانوں کے باہر یہ اسٹالز لگاتے ہیں ان کے مالکان کو بھی ہزاروں روپے ادا کرتے ہیں تاہم پختہ تجاوزات قائم کرنے والوں سے وصول کی جانیوالی بھتہ کی رقم سالانہ لاکھوں روپے بتائی گئی ہے جو بعض کرپٹ افسران و ملازمین کی جیبوں کی نذر ہوتی آئی ہے، تجاوزات کی بھرمار کا مسئلہ ہر دور میں اہل شیخوپورہ کیلئے دشواریاں اور مسائل پیدا کرنے کا موجب رہا ہے جن کے تدارک کی بجائے متعلقہ سرکاری افسران کی طرف سے نہایت عمومی اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں تاکہ عوام اور اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے جبکہ بتی چوک، صدر چوک، موٹر سائیکل مارکیٹ، میزائل چوک،خادم حسین روڈ، امام بارگاہ چوک، چھتری چوک، مین بازار واس سے ملحقہ بازاروں سمیت دیگر تجارتی مراکز و مارکیٹوں میں تجاوزات کی بھرمار ہے اور شہر کے دیگر حصے بھی کسی طرح محفوظ نہیں جگہ جگہ قائم تجاوزات نے شہریوں کو شدید مشکلات کا شکار کررکھا ہے۔ شہریوں کے بار بار مطالبات کے باوجود اصلاح و احوال ممکن نہیں ہوسکا جو مایوس کن ہے، تجارتی مراکز و بازاروں سے گاڑیوں کا سلیقے سے گزرنا تو درکنار پیدل چلنا بھی محال ہے جو یقینا تشویشناک اور ناقابل برداشت ہے۔

تجاوزات

مزید :

پشاورصفحہ آخر -