وزارت داخلہ، ماتحت ادارے، انٹیلی جنس ایجنسیاں رئیل اسٹیٹ کا روبار میں ملوث 

    وزارت داخلہ، ماتحت ادارے، انٹیلی جنس ایجنسیاں رئیل اسٹیٹ کا روبار میں ...

  

  اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پا کستا ن (ایس ای سی پی) کے لاپتہ جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کی بازیابی کیلئے 10دن کی مہلت دیدی۔عدالت عالیہ نے سیکرٹری داخلہ کو معا ملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے اور وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں رکھنے کی بھی ہدایت کردی۔چیف جسٹس اسلام آباد اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے، شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں، وزارت داخلہ، اس کے ماتحت ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیا ں ر یئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایس ای سی پی کے لاپتہ افسر کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کیا۔ سما عت کے دوران سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا ساجد گوندل کی بازیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، اجلاس میں تمام صور تحا ل کا جائزہ لیا، اعلیٰ سطح پر تفتیش جاری ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا تین دنوں سے صرف میٹنگز ہو رہی ہیں، آپ کی کوششیں نظر نہیں آ رہیں، لاپتہ افسر کو تلاش نہیں کیا جا سکا، آپ کتابی باتیں نہ بتائیں، اپنی ناکامی تسلیم کریں اور وزیراعظم کے نوٹس میں یہ بات لا ئیں،کسی کو تو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا معلوم ہوا ہے لاپتہ افراد کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے، کیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے؟اس پر سیکرٹری داخلہ نے کہا ابھی اس سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا تفتیشی ٹیم کو کمیشن کے چیئرمین سے پوچھنا چاہیے تھا،کیا ان کے پاس اس بارے میں کوئی ذاتی معلومات ہیں؟چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ سے کہا آپ نے وزیراعظم کو بتایا کہ آپ کے ماتحت ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ہیں؟ یہ مفادات کا ٹکراؤ اور اصل کرپشن ہے، قا نو ن کی حکمرانی نہیں ہو گی تو کرپشن ہوگی، صرف نیب ہی کرپشن نہیں روک سکتا۔چیف جسٹس نے کہا اگر ہم شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے تو ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟  پھر یہ آئینی عدالت بند کر دیں۔ عدالت نے ساجد گوندل کی بازیابی کیلئے مزید مہلت دیتے ہو ئے سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ خیال رہے ساجد گوندل چند روز قبل اسلام آباد سے لاپتا ہوگئے تھے۔ان کی گاڑی زرعی تحقیقاتی مرکز شہزاد ٹاؤن کے قریب کھڑی ملی تھی۔ 

چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے کہ گرین نمبرپلیٹ والی گاڑیوں سے شہری اغوا ہورہے ہیں وفاقی حکومت شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری عبدالقدوس کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی جس میں عدالت نے شہری کی عدم بازیابی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔جسٹس محسن اخترکیانی نے طلبی کے احکامات جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس بھی جاری کردیا۔جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، اٹارنی جنرل کو بتادیں آنکھیں بندکرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے، گرین نمبرپلیٹ والی گاڑیوں سے شہری اغوا ہورہے ہیں، اسلام آباد پولیس ناکام ہوچکی ہے توکیا تفتیش کرنے کیلئے سندھ پولیس کولکھیں؟معزز جج نے کہا کہ کبھی کسی پولیس والے نے کسی ایجنسی والے کے خلاف لکھا نا ہی ملزم بنایا۔دورانِ سماعت جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن ملک نعیم نے عدالت کو بتایا کہ تھانہ کراچی کمپنی میں عبدالقدوس کے اغوا کی ایف آئی آر یکم جنوری 2020 کو درج ہوئی تھی، 50 لاپتا افراد کی جے آئی ٹی کی سربراہی میں کررہا ہوں۔جسٹس محسن اختر نے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب نا دے سکے تو پھر وزیراعظم کو بلائیں گے۔عدالت نے وزیرداخلہ اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کرتے ہوئے سماعت 16 ستمبرتک ملتوی کردی۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ  

مزید :

صفحہ اول -