پٹرولنگ پولیس کو 15برس بعدموجودہ حکومت نے نئی گاڑیاں دیں، راجہ بشارت 

    پٹرولنگ پولیس کو 15برس بعدموجودہ حکومت نے نئی گاڑیاں دیں، راجہ بشارت 

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی کا اجلاس 1 گھنٹہ 39 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے متعلقہ سوالوں کے جواببات پارلیمانی سیکرٹری چوہدری محمد اشرف رندنے دیئے  رکن اسمبلی ممتاز چاہنگ نے ضمنی سوال میں کہا کہ محکمہ آبپاشی کے زیر کنٹرول ریسٹ ہاؤسز میں سیاست کی جار رہی ہے۔ ریسٹ ہاوسز و بنگلوں میں  زیادہ ترسیاسی افراد رہتے ہیں جس کے شواہد ہے موجود ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ رحیم یار خان  شہر میں اس وقت ایک کینال ریسٹ ہاوس  ہے جس میں حکومتی،محکمہ آبپاشی کے آفیسرزز اور عام افراد رہائشی کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔محکمہ آبپاشی نے عوام کی سہولت کیلئے ریسٹ ہاوسز میں رہائش کا سسٹم آن لائن کر دیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں امن و امان پر جاری بحث کو سمیٹے ہوئے صوبائی وزیر قانون بشارت راجہ  نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد پولیس کے  فنڈز کو بحال کرایا۔15 سال کے بعد 500 گاڑیاں خریدیں گئیں ہیں۔جب کسی کو سہولت نہیں دیں گے تو بہتری کیسے لائیں گے۔حسن مرتضی نے سانحہ ساہیوال پر ادھوری بات کی۔سانحہ ساہیوال پر حکومت نے مکمل کاروائی کرتے   ہوئے چالان عدالت میں جمع کرائے ماڈل ٹاؤن میں بچوں کے منہ میں گولیاں ماریں گئیں۔انہیں ایف آئی آر درج کرانے  کیلئے دھرنا دینا پڑاہمارا وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب پر اعتماد ہے۔حکومت میں کوئی کنفیوژن  نہیں۔عوام کے ووٹ سے آئے اور پانچ سال پورے کریں گے۔قبل ازیں رکن اسمبلی ملک ارشد  کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ساہیوال دوآب نہر کی 2015 میں ریماڈلنگ پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے۔دس ارب 68 کروڑ 80 لاکھ روپے دوآب نہر پر خرچ کیے گے۔بھاری رقم دوآب نہر پر لگانے کا مقصد کسانوں کو پانی فراہم کرنا تھا، وقفہ سوالات کے بعد سرکاری کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر بحث کا آغاز ہوا،بحث کا آغاز مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی چوہدری اقبال نے کیا۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سیدحسن مرتضی نے  بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ پولیس کے فنڈز میں اضافہ کر کے پولیس کو ٹھیک کیا جائے۔ہمیں استحصالی رویوں کا سدباب کرنا چائیے دیکھا جائے تو پولیس پروٹوکول پر ڈیوٹیاں دینے والے اہکاروں کو فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے پولیس فنڈز کے نام پرافسر شاہی کو خوش کیا گیا۔آج بھی پولیس انویسٹی گیشن میں پین کاغذات کے اخراجات مدعی برداشت کر رہا ہے۔آئی جی تبدیل کرنے سے امن و امان ٹھیک نہیں ہوگا۔بلکہ تبدیل کسی اور کو کرنے کی ضرورت ہے نام لوں گا تو ایوان میں شور مچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے عام آدمی کو نشے کی اجازت دی ہے و زیر اعظم نے بھنگ کی اجازت دے دی ہے۔اس دوران حکومتی ممبران شور مچانے لگے ایوان میں حکومتی خواتین کی مداخلت پر حسن مرتضی  کا کہنا تھا کہ جب بھی بات کرتا ہوں سپیڈ بریکرز سامنے آ جاتے ہیں۔امن و امان پولیس،بندوق سے ٹھیک نہیں کر سکتے ہیں۔عوام کو نوکریوں کا جھانسہ دیا،وعدے کیے جو پورے نہیں ہوئے۔میرٹ پر لوگوں کو نوکریوں نہیں دیں گے تومسائل پیدا ہوتے رہے گے۔ پنجاب اسمبلی مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی میاں نصیر احمدنے کہا کہپولیس کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔لاہور میں سی سی پی او کو اسلئے تبدیل کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے سے انکار کرتا رہا۔پنجاب اسمبلی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -