ملتان: تنظیم کاررواں شمس کا ماہانہ  اجلاس‘ درگاہ کے مسائل پر گفتگو  شرکاء کی محکمہ اوقاف پر کڑی تنقید

ملتان: تنظیم کاررواں شمس کا ماہانہ  اجلاس‘ درگاہ کے مسائل پر گفتگو  شرکاء ...

  

 ملتان (سٹی رپورٹر)تنظیم کارروانِ شمسؒ کا ماہانہ اجلاس کی صدارت سر پرست اعلیٰ تنظیم کارروانِ شمسؒ ملتان پاکستان مخدوم الشمسؒ سید طارق عباس شمسی نے کی۔ اجلاس بمقام گلستانِ شمسؒ دربار حضرت شاہ شمسؒ منعقد ہوا جس میں ملتان شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سالاران و نائب سالاران نے بھر پور(بقیہ نمبر25صفحہ 6پر)

 شرکت کی اور درگاہ پر درپیش مسائل خصوصاً درگاہ کی تزئین و آرائش کا ذکر نمایاں رہا۔ شرکاء نے محکمہ اوقاف کو تنقید کا نشانہ بنایا مقررین نے کہا ہے کہ ہم صاحب مزار کے عقیدت مند ہیں اور مذکورہ درگاہ کو جب سے محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لیا ہے درگاہ کی حالت دن بدن خستہ ہوتی جا رہی ہے اور محکمہ درگاہ حضرت شاہ شمسؒ کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ آخر میں مخدوم سید طارق عباس شمسی نے کہا ہے کہ حضرت شاہ شمسؒ میرے جد امجد ہیں اور دربار سے ملحقہ اراضی جس پر شاہ شمسؒ پارک و میلہ گراؤنڈ وغیرہ تعمیر ہیں ہماری خاندانی ملکیت و مقبوضہ تھی جسے محکمہ اوقاف نے وقف سمجھ کر غیر قانونی طور پر اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ اور اس اراضی کو مالِ مفت سمجھ کر مختلف محکمہ جات کے سپر د کر دیا ہے۔ متذکرہ اراضی میں سے تقریباً 48 کنال کا پلاٹ جو درگاہ سے ملحقہ ہے جس پر ماضی میں ہر سال قدیمی ثقافتی میلے کا انعقاد ہو ا کرتا تھا۔ کئی سال گندا پانی کا جوہڑ بنا رہا مسلسل ہماری کاوشوں سے گندے پانی کے انخلاء کو یقینی بنا دیا گیا اور محکمہ اوقاف کی جانب سے کئی بار مذکورہ گراؤنڈ پر قبضہ کی کوشش کروائی گئی مگر ہماری بر وقت مداخلت سے قابضین کو ناکامی اٹھانا پڑی آخر کار 2015 ء میں میٹرو بس پراجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنی حبیب رفیق کو محکمہ اوقاف نے ایک ماہ کا N.O.C دے کر قبضہ کروا دیا تھا جسے شروع دن سے ہی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا میٹرو پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد کمپنی نے مذکورہ پلاٹ محکمہ بلڈنگ کے حوالے کر دیا جس نے مذکورہ گراؤنڈ میلہ پر غیر قانونی کھدائی شروع کر دی اور اسی دوران عدالت عالیہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ ملتان کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہو چکا تھا جو اس وقت بھی موثر ہے۔ مگر اس امر کے باوجود غیرقانونی  تعمیرات کو نہ روکا جا رہا ہے۔ اور اس بارے انتظامیہ ملتان اور محکمہ اوقاف کے اعلیٰ حکام کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ درگاہ حضرت شاہ شمسؒ سے ملحقہ 518 کنال 13 مرلہ اراضی میرے خاندان کے آباؤ اجداد کی وراثتی ملکیت ہے جس میں سے تقریباً 46 کنال 10 مرلہ اراضی پر دربار حضرت شاہ شمسؒ، امام بارگاہ، مسجد اور صاحب مزار کی اولاد کے قدیمی مکانات اور راستے وغیرہ موجود ہیں اور اس اراضی میں سے 4 کنال پر حضرت شاہ شمسؒ کا مزار تعمیر ہے۔ جو 60 سال سے محکمہ اوقاف کی تحویل میں ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ فنڈ مختص ہونے کے باوجود خرچ نہیں کیا جاتا 2010 ء میں امریکن کونسلیٹ نے دربار حضرت شاہ شمسؒ کی تزئین و آرائش کے لیے 50 ہزار ڈالر دیئے جو اُس وقت تقریباً 50 لاکھ روپے بنتے تھے اس رقم کو بھی سہی معنوں میں خرچ نہیں کیا گیا۔ اگر اس رقم کا آدھا حصہ بھی درگاہ پر خرچ کر دیا جاتا تو بھی درگاہ کی یہ حالت نہ ہوتی جو اس وقت مایوس کن ہے مذکورہ درگاہ کے اندرونی و بیرونی حصوں میں میں تمام ثقافتی نقاشی عیاں ہے جسے دیکھ کر باہر سے آنے والے سیاح و عقیدت مندانِ حضرت شاہ شمسؒ لطف اندوز ہوتے تھے۔ مگر اس وقت درگاہ کی تمام عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور تمام ثقافتی نقاشی ماند پڑ چکی ہے۔ جس کا ذمہ داری محکمہ اوقاف اور محکمہ آثار قدیمہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 518 کنال اراضی میں سے تقریباً 472 کنال اراضی 1987 ء تک محکمہ اوقاف کے قبضہ میں تھی جس پر کاشت ہوا کرتی تھی اور اب تقریباً تمام اراضی مختلف محکمہ جات کے قبضہ میں دی جا چکی ہے۔ اس موقع پر مخدوم سید ظفر عباس شمسی، مخدوم سید علی مہدی شمسی، مخدوم زادہ سید محمد شاہ شمسی، مخدوم زادہ سید مرتضیٰ شاہ شمسی، مخدوم زادہ سید عباس رضا شاہ شمسی، الحاج غلام حسین، حاجی غلام عباس،نوید احمد ہاشمی، ذاکر حسین، افتخار حسین، عابد حسین، اعجاز حسین، عامر علی، ملازم حسین، محسن عل، ندیم عباس، اصغر علی، آغا جاوید اکبر، حسنین رضا، غلام مرتضیٰ، سجاد حسین، غلام علی، وقاص لابر، وجاہت حسین، وقار اکرم، قاضی اختر حسین و دیگر نے شرکت کی۔ اختتام پر مخدوم سید طارق عباس شمسی نے ملک ملت اور تمام سکیورٹی اہلکاران کے لیے خصوصی پاک فوج اور تمام سیکورٹی اہلکاران کیلئے خصوصی دعا کرائی جو ملک بھر میں سیکورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ 

تنقید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -