پائلٹ برطرفی کیس ،اسلام آبادہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

پائلٹ برطرفی کیس ،اسلام آبادہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی ...
پائلٹ برطرفی کیس ،اسلام آبادہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے پی آئی اے کے برطرف پائلٹ ثقلین اختر کی لائسنس منسوخی اور ملازمت سے برطرفی کیس میں اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس سے بڑامسئلہ کیا ہو سکتا ہے 2 سال سے ڈی جی سی اے اے کی تعیناتی نہیں ہوئی ،سول ایوی ایشن اتھارٹی اہم ادارہ ہے جو کمرشل پائلٹس کو لائسنس جاری کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں پی آئی اے کے برطرف پائلٹ ثقلین اختر کی لائسنس منسوخی اور ملازمت سے برطرفی کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے وکیل سول ایوی ایشن سے استفسار کیا کہ کتنے عرصے سے ڈی جی سی اے اے کا عہدہ خالی ہے ؟،وکیل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ 2 سال سے ڈی جی کا عہدہ خالی ہے ،ہم نے اشتہارجاری کیا ابھی تک کوئی تقرری نہیں ہوسکی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ قومی ایئرلائن کا امیج متاثر ہوا،ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کا عہدہ اہم ہے ،عدالت نے کہاکہ سب سے اہم عہدے کااضافی چارج سیکرٹری سول ایوی ایشن کو دیا گیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو وفاقی حکومت کاموقف لے کرآئندہ سماعت میں رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے عدالتی معاونت کی ہدایت کردی ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ اٹارنی جنرل کوکہاتھا حکومت سے ہدایات لے کر آگاہ کریں ،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مختصر وقت کی مہلت دیں ،اٹارنی جنرل کو عدالتی حکم سے متعلق آگاہ کردونگا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس سے بڑامسئلہ کیا ہو سکتا ہے 2 سال سے ڈی جی سی اے اے کی تعیناتی نہیں ہوئی ،سول ایوی ایشن اتھارٹی اہم ادارہ ہے جو کمرشل پائلٹس کو لائسنس جاری کرتا ہے،عدالت نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -