سی سی پی او لاہور آئی جی کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ، عمر شیخ آئی جی آفس پہنچے تو وہاں موجود پولیس افسران نے کیا کیا ؟ بڑی خبر آ گئی 

سی سی پی او لاہور آئی جی کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ، عمر شیخ آئی جی آفس ...
سی سی پی او لاہور آئی جی کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ، عمر شیخ آئی جی آفس پہنچے تو وہاں موجود پولیس افسران نے کیا کیا ؟ بڑی خبر آ گئی 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیاہے ، آئی جی پنجاب مشاورت کے بغیر سی سی پی او لاہور کی تعیناتی پر ڈٹ گئے ہیں ۔ذرائع کاکہناہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کی حالیہ تقرری سیاسی فیصلہ تھا ، آئی جی پنجاب کی مشاورت کے بغیر سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کی گئی تھی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سی سی پی او عمر شیخ آئی جی آفس پہنچے لیکن پولیس افسران نے سی سی پی او کو اجلاس میں شرکت سے روک دیاہے جبکہ پولیس افسران کا کہناہے کہ سزا ملنے تک سی سی پی او کو میٹنگ کا حصہ نہیں بننے دیں گے ۔نجی ٹی وی جیونیوز کا کہناہے کہ سی سی پی او اور آئی جی کے درمیان جاری تنازع کے باعث پولیس میں غیر معمولی کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے ،آئی جی اور سی سی پی او میں سے کس کو عہدہ چھوڑنا ہے اس حوالے سے فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے ۔ آئی جی پنجاب مشاورت کے بغیر سی سی پی او لاہور کی تعیناتی پر ڈٹ گئے ہیں ۔

سی سی پی او عمر شیخ کا کہناہے کہ میں آئی جی سے ملاقات کرنا چاہتاہوں لیکن ملاقات میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا ہوں ، آئی جی پولیس شعیب دستگیر کو معذرت کا پیغام واٹس ایپ کیا ہے ، پیغام میں اپنے بیان کو کنفیوژن قرار دیاہے ۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے آئی جی شعیب دستگیر کے ساتھ ملاقات کی تصدیق کر دی ہے اور کہاہے کہ آئی جی سے ملاقات ہوئی ہے ، یہ معاملہ آج ہی حل ہو جائے گا ، سب کی سفارش کرتاہوں کوئی فیورٹ نہیں ہے ۔ صحافی نے سوال کیا کہ آئی جی پنجاب آفس نہیں آ رہے ؟ جس پر عثمان بزدار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کام چل رہاہے ۔ان کا کہناتھا کہ میں نے کسی افسر کا بیان نہیں دیکھا ہے ، آئی جی یا سی سی پی او کا کوئی بیان میری نظر سے نہیں گزرا ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -