پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں کرکٹرز کی آمدنی کا تخمینہ جاری کردیا، کس کیٹگری کے کھلاڑی کو کتنی آمدن ہوگی؟

پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں کرکٹرز کی آمدنی کا تخمینہ جاری کردیا، کس کیٹگری ...
پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں کرکٹرز کی آمدنی کا تخمینہ جاری کردیا، کس کیٹگری کے کھلاڑی کو کتنی آمدن ہوگی؟

  

لاہور(آئی این پی)پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک سیزن میں کرکٹرز کی آمدنی کا تخمینہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق کی اے پلس کٹیگری میں شامل کھلاڑی کی آمدن 30 لاکھ روپے سے زائد ہوگی۔

اے پلس کیٹگری میں شامل10کھلاڑی ایک سال تک ڈیڑھ لاکھ روپے رقم ماہوار معاوضہ وصول کریں گے۔اس کٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کومحدود طرز کی کرکٹ یعنی قومی ٹی20 کپ اور پاکستان کپ میں میچ فیس کی مد میں 40ہزارروپے جبکہ قائداعظم ٹرافی میں فی کھلاڑی60ہزار روپے کی میچ فیس وصول کرے گا۔اس طرح یہ کھلاڑی پورے سیزن میں مجموعی طور پر32 لاکھ روپے کی رقم حاصل کرے گا۔

کٹیگری اے میں شامل 38 کھلاڑی 85 ہزار روپے ماہانہ،کٹیگری بی میں شامل 48 کھلاڑی 75 ہزار روپے ماہانہ ،کٹیگری سی میں شامل 72 کھلاڑی، 65 ہزار روپے ماہانہ اورکٹیگری ڈی میں شامل 24 کھلاڑی40 ہزار روپے ماہانہ کما سکیں گئے۔ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کو ماہوار وظیفے کے ساتھ ساتھ میچ فیس بھی دی جائے گی۔ڈومیسٹک کرکٹ کی ڈی کٹیگری میں شامل کسی بھی کھلاڑی کی ماہانہ آمدن40 ہزار روپے مقرر ہے تاہم میچ فیس کی مد میں انہیں بھی اے کٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کے برابررقم دی جائے گی۔ لہٰذا، ڈی کیٹیگری میں شامل اگر کوئی کھلاڑی فرسٹ الیون کے تمام 32 میچز کھیلتا ہے تو وہ اس سیزن میں 18 لاکھ روپے وصول کرے گا۔

ڈی کٹیگری میں شامل کھلاڑی کی یہ آمدن ڈومیسٹک سیزن 20-2019 میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والے کھلاڑی کی آمدن سے بھی سات فیصد زیادہ ہے۔ گذشتہ سال ، فرسٹ الیون میں شامل تمام کھلاڑیوں کو ماہانہ 50 ہزار روپے کی رقم دی گئی تھی۔ ان کھلاڑیوں کو محدود طرز کی کرکٹ کھیلنے پر میچ فیس کی مد میں 40 ہزار روپےاورطویل طرز کی کرکٹ کھیلنے پر میچ فیس کی مد میں 75 ہزار روپے دئیے گئے تھے۔

ڈائریکٹر ہائی پرفامنس ندیم خان نے کہا کہ ڈو میسٹک کیلنڈر 21-2020 کو حتمی شکل دیتے وقت ہم نے نہ صرف وائٹ بال کہ تینوں عالمی مقابلوں کو مد نظر رکھا بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھا کہ اپنے معاہدوں کو بہتر بنایا جائے جس سے کھلاڑیوں کو معاشی فائدہ بھی حاصل ہو سکے اور وہ اپنی فٹنس اور فارم کے معیار کو بہتر بنا کر فرنچائز کرکٹ اور قومی ٹیم کے لیے مضبوط امیدوار بنیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو علم ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کا شمار دنیا میں زیادہ معاوضہ کمانے والے کرکٹرز میں نہیں ہوتا لیکن ہماری کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ ان کے معاہدوں میں بہتری لائی جائے تاکہ وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنےبہتر مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کر سکیں۔

ندیم خان نے مزید کہا کہ پی سی بی اپنے فنڈز اور آمدن کرکٹ کے ذریعے ہی بناتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ اس آمدن کا ایک بڑا حصہ کرکٹرز اور کھیل ترقی پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا مجھے یقین ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کا اس اضافے سے ہمت اور حوصلہ بڑھے گا اور وہ نہ صرف گزشتہ سال کے مقابلےمیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے بلکہ ان میں مزید بہتر کنٹریکٹ کے حصول کا جذبہ بھی بڑھے گا۔

مزید :

کھیل -