صرف 18 سال کی عمر میں پاکستانی اور بھارتی شہریوں کا نشانہ بننے والی معصوم لڑکی کی دردناک کہانی

صرف 18 سال کی عمر میں پاکستانی اور بھارتی شہریوں کا نشانہ بننے والی معصوم لڑکی ...
صرف 18 سال کی عمر میں پاکستانی اور بھارتی شہریوں کا نشانہ بننے والی معصوم لڑکی کی دردناک کہانی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی شہر برمنگھم میں دو سال قبل ایک جنسی درندوں کا گینگ پکڑا گیا تھا جس میں بدقسمتی سے اکثریت پاکستانی اور بھارتی نژاد مردوں کی تھی۔ اس گینگ نے درجنوں کم عمر لڑکیوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور ان لڑکیوں کو نشے کا عادی بنا کر جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا۔ اب اس گینگ کی درندگی کا شکار ہونے والی ایک خاتون سامنے آ گئی ہے اور اپنی المناک کہانی دنیا کو سنا دی ہے۔ اس خاتون کا نام لورین الیزا پریڈے ہے جس کی عمر اس وقت 31سال ہے۔ وہ 18سال کی تھی جب اس گینگ کے ہتھے چڑھی۔ لورین کا کہنا ہے کہ اسے پہلی بار محمد علی سطان اور شاہ میل خان نامی دو کزنز نے اپنے چنگل میں پھنسایا اور اس سے جنسی زیادتی کر ڈالی۔ 

لورین کا کہنا تھا کہ”اس کے بعد انہوں نے مجھے منشیات دینی شروع کر دیں اور مجھے دیگر مردوں کے پاس بھیجنا شروع کر دیا۔ کئی سال تک میں اس گینگ کے چنگل میں پھنسی رہی اور اس دوران وہ مجھے برطانیہ کے مختلف شہروں میں لیجاتے رہے اور وہاں مختلف مردوں کے حوالے کرتے رہے۔ مجھے یاد نہیں کہ مجھ سے کتنے لوگوں نے جنسی زیادتی کی لیکن ان کی تعداد درجنوں میں ہو گی۔ اس گینگ کی حیوانگی کی وجہ سے میری زندگی ابنارمل ہو کر رہ گئی تھی۔ پھر میں نے خود کو سنبھالا اور اب میں سینئر مینٹل ہیلتھ نرس کے طور پر کام کر رہی ہوں۔ ایک عرصے تک میں اپنے ساتھ ہونے والے اس سلوک کو اپنے دوستوں او رکولیگز سے چھپاتی رہی۔ مجھے ایسے لگتا تھا جیسے میں اداکاری کر رہی ہوں۔ میں اندر سے ایک ٹوٹی اور بکھری ہوئی لڑکی تھی لیکن میں ظاہر کرتی جیسے میں دوسری لڑکیوں کی طرح نارمل ہوں۔ اب میں نے اپنا ماضی دنیا کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ باتیں دنیا کو بتا رہی ہوں۔ “

لورین کا کہنا تھا کہ ”مجھے 2007ءکا وہ دن آج بھی یاد ہے جب چند دن بعد میرے اے لیول کے امتحانات ہونے جا رہے تھے۔ میں ٹیلفرڈ میں اکیلی فلیٹ میں رہتی تھی۔ ایک روزمیں سڑک پر جا رہی تھی کہ 33سالہ شاہ میل خان نے میرا راستہ روک لیا اور مجھ پر حملہ کر دیا۔ میں وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی تاہم میں فلیٹ میں پہنچی ہی تھی کہ شاہ میل خان میرے فلیٹ میں گھس آیا اور مجھے اپنے سامنے برہنہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ میں خوفزدہ تھی کہ اس کی ہر بات مانتی چلی گئی اور اس نے مجھے میرے فلیٹ میں جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ دو دن بعد وہ اپنے کزن سلطان کو لے آیا اور اس نے مجھ سے زیادتی کی۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ سلطان اس گینگ کا سرغنہ تھا۔ اس کے بعد انہوںنے مجھے منشیات کا عادی بنا کر جسم فروشی پر لگا دیا۔“ واضح رہے کہ یہ گینگ چند سال قبل پکڑا گیا تھا اور 2019ءمیں سلطان کو 6سال اور شاہ میل خان کو 8سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔ ان پر لورین سمیت کئی لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت ہوئے تھے ، جن میں ایک 13سالہ لڑکی بھی شامل تھی۔

مزید :

برطانیہ -