دنیا کی خاموشی سے ایسا لگتا ہے کہ کشمیریوں کی بے نام و نشان قبروں میں۔۔۔۔صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی مغموم ہو جائے گا

  دنیا کی خاموشی سے ایسا لگتا ہے کہ کشمیریوں کی بے نام و نشان قبروں ...
  دنیا کی خاموشی سے ایسا لگتا ہے کہ کشمیریوں کی بے نام و نشان قبروں میں۔۔۔۔صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی مغموم ہو جائے گا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے طول و عرض میں پھیلی آٹھ ہزار کشمیریوں کی بے نام نشان قبروں میں سے چھ ہزار قبروں کی نشاندہی ہونے کے بعد بھی دنیا کی خاموشی سےایسالگتاہےکہ ان قبروں میں انسان نہیں بلکہ عالمی ضمیر دفن ہے،جو اس ظلم و بربریت پر بولنے سے قاصر ہے،1989 ء میں تحریک آزاد ی کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کو قتل کیا گیا ہے،جن میں سے آٹھ ہزار وہ ہیں جنہیں محاصروں اور تلاشیوں کے دوران اغوا کیا گیا اور اذیتیں دے کر شہید کرنے کے بعد بے نام قبروں میں دفن کردیا گیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیرسردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اُن نوجوانوں کو گرفتار کر کے غائب کر دیا جاتا ہے جو اپنی ماں اور بہن کی عزت و حرمت بچانے کے لیے بھارتی قابض فوجیوں کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں یا مزاحمت کرتے ہیں اور بعد میں اُنہیں تشدد کے ذریعے شہید کر کے گمنام قبروں میں دفن کر دیا جاتا ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے بدنام زمانہ، کالے قوانین کا سہارا لے کر بھارت کی قابض فوج ایسے ایسے مظالم ڈھا رہی ہے جو انسان کے رونگھٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔

صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کا بھارتی منصوبہ سب سے بڑا چیلنج ہے،اگر آج ہم نے بھارت کو اس کے مذموم منصوبوں پر عملدرآمد سے نہ روکا تو کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل  جائے گا، بھارت وادی کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے وہی کچھ کر رہا ہے جو اُس نے 1947ء میں کیا تھا ۔

صدر سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ بھارت جس تیزی سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اُس پر ہمیں مدافعا نہ نہیں بلکہ جارحانہ رد عمل ظاہر کرنا چاہیے، بھارت نے ہمارے اُوپر ایک جنگ مسلط کر دی ہے جسے  بہر صورت لڑنا اور اس میں کامیاب ہونا ہے، دو طرفہ مذاکرات کے ڈھونگ کو بھارت نے ہمیشہ کشمیریوں، پاکستان اور دنیا کو دھوکہ دینے اور کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا اور  اب ہم اس جال میں پھنسنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اُنہوں نے نوجوانوں سے خاص طور پر اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور بے بس عوام کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں اورمستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔  

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -