آئی جی پنجاب کی تبدیلی ،سلیم صافی نے "تبدیلی" کا ایسا مطلب سمجھا دیا کہ ہر کوئی مسکرانے پر مجبور ہو گا 

آئی جی پنجاب کی تبدیلی ،سلیم صافی نے "تبدیلی" کا ایسا مطلب سمجھا دیا کہ ہر ...
آئی جی پنجاب کی تبدیلی ،سلیم صافی نے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت پنجاب کی جانب سے انسپکٹر جنرل پولیس تبدیل کرنے کے بعد ناقدین نے بزدار حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہےجبکہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی پر مسلم لیگ ن بھی خم ٹھونک کر میدان میں آگئی ہے اور پنجاب حکومت کے اس اقدام کو مسلم لیگ ن پر دباؤ بڑھانے کا ہتھکنڈہ قرار دیا ہے ایسے میں معروف تجزیہ کار سلیم صافی بھی میں میدان میں آگئے ہیں اور""تبدیلی"" کی ایسی  تشریح کر دی ہے کہ ہر کوئی حیران رہ جائے گا ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے وزیر اعظم کی منظوری سے شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو  آئی جی پنجاب مقرر کردیا ہے،اس اچانک "تبدیلی" سے پورے ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ حکومت کے سیاسی ناقدین اس " تبدیلی " کو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ قرار دے ہیں ۔سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کیلئے وفاقی حکومت کے ایک مشیر نے پولیس افسران کے انٹرویوز کیے، انہوں نے ایک افسر سے یہ بھی کہا کہ ہم نے ن لیگ کو لاہور میں قابو کرنا ہے،سی سی پی او لاہور نے آئی جی کے بارے میں جو کچھ کہا وہ واٹس ایپ کے ذریعے ہر بڑے افسر کے پاس گیا، کمانڈ کا سسٹم ہی سیاسی کردیا جائے تو کام نہیں ہوسکتا،آئی جی پنجاب کی تبدیلی سے پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا بھرم دھڑام سے نیچے گرگیا ہے۔

دوسری طرف سینیئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن سلیم صافی نے بھی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ""قصور اِن کا نہیں اُن لوگوں کا ہے جو اِن کی تبدیلی کا اصل مطلب نہیں سمجھے تھے، اِن کی تبدیلی سے مراد یہی تھی کہ ہر روز افسر تبدیل ہوں گے، ہر ہفتے وزیر تبدیل ہوں گے اور ہر مہینے دوست اور دشمن تبدیل ہوں گے ۔تبدیل نہیں ہوں گے تو خود نہیں ہوں گے ۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے دو سالہ دور حکومت میں پنجاب پولیس کے پانچ آئی جی تبدیل ہو چکے ہیں،پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ایف بی آر کے 4 چیئرمین بدل چکے ہیں جبکہ صوبہ پنجاب میں3 چیف سیکرٹری تبدیل کئے گئے ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -